کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے: الطاف شکور

کراچی، ۹فروری (پی پی آئی)  پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کراچی میں دن کے وقت ڈمپر،ٹرالرز اور ہیوی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ شہر کے پورے ٹرانسپورٹ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ غیر لائسنس یافتہ اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں، سڑکوں پر تجاوزات اور ٹریفک کی بد نظمی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔شہر میں نئے ٹرانسپورٹ سسٹم کے لئے کھدائی کی وجہ سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ پراجیکٹس تاخیر کی بجائے تیز رفتاری سے مکمل کئے جائیں۔ جدید ٹرانسپورٹ سسٹم پر کام کرنے کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ عام شہری کا ٹرانسپورٹ پر خرچ کم از کم تنخواہ کے پانچ فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ بزرگ شہریوں، طلباء اورکم آمدنی والے لوگوں کے لئے رعایتی نرخوں پر ماہانہ کارڈ کا اجراء کیا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی، نگرانی کے کیمرے، بازاروں اور مصروف سڑکوں پر تجاوزات کو مانیٹر کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں۔ ضروری احتیاطی تدابیر کے بعد لیاری ایکسپریس وے کو بھی بھاری ٹریفک کے لیے استعمال کیا جائے۔ کراچی سرکلر ریلوے کوجلد از جلد بحال کیا جائے۔ کے سی آر کی بحالی اور توسیع کے بغیر مسافروں کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ تجاوزات کا خاتمہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کرپٹ سرکاری اہلکاروں کی خفیہ سرپرستی ختم کی جائے۔ پاسبان اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں فوری اور بڑے پیمانے پر اصلاحات کرے تاکہ شہریوں کو سہولت دی جا سکے اور بڑھتے ہوئے مہلک ٹریفک حادثات کو روکا جا سکے۔ حکومت کئی دہائیوں سے کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) جیسے اہم سفری منصوبے کی بحالی میں تاخیر کر رہی ہے۔ٹریفک پولیس بدعنوانی میں ملوث ہے اور ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے رشوت خوری میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ ڈمپر اور ٹرک چلانے والے زیادہ تر ڈرائیوروں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں ٹریفک قوانین کی بنیادی تربیت حاصل ہوتی ہے۔ ان میں سے کئی منشیات کے عادی ہوتے ہیں، جو مزید ٹریفک حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ لیاری ایکسپریس وے اس مقصد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا کہ بندرگاہ کا بھاری ٹریفک شہر میں داخل ہونے کے بجائے اس راستے سے گزرے، مگر اب تک بھاری گاڑیوں کو اس پر چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شہر کی اندرونی سڑکوں کا نصف حصہ تجاوزات کی نذر ہو چکا ہے۔ لیاقت آباد مارکیٹ میں ٹریفک جام اس بات کا ثبوت ہے، جہاں 60 فیصد سڑکوں پر ریڑھی بانوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح، نئی ایم اے جناح روڈ پر کار شو روم مالکان اپنی گاڑیاں فٹ پاتھوں پر کھڑی کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے سروس روڈ کو حکومتی خرچ پر کشادہ کر کے صرف پارکنگ کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے جبکہ عام شہریوں کو مین روڈ پر چلنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ شہر کے کئی دیگر علاقوں میں بھی دکاندار، ریڑھی بان، چائے کے ہوٹل اور دیگر کاروباری افراد بلا خوف و خطر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں، مگر سرکاری حکام ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے کیونکہ وہ رشوت کے عوض انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔لاہور میں اس طرح کی بدانتظامی کوبرداشت نہیں کیا جاتا کیونکہ وہاں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی موثر انتظامیہ موجود ہے جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

گورنرسندھ کی 30 ویں عالمی مشاعر ہ میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت

Sun Feb 9 , 2025
کراچی، ۹فروری (پی پی آئی)گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ عالمی مشاعرے بین الاقوامی سطح پر ادب کو فروغ دیتے ہیں، شاعری مختلف زبان، تہذیب اور ثقافتوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہے، شاعری ہمیشہ ظلم کے خلاف اور محبت کے حق میں رہی۔ان خیالات […]