شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹیکا سندھ بھر کے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی پر عدم اعتماد

کراچی 18فروری (پی پی آئی)سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سندھ بھر کے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی نے مالی بے ضابطگیوں اور مارکس کے طریقہ کار سمیت تعلیمی بورڈز کی خصوصی آڈٹ کرانے کا حکم دیا ہے۔ پی اے سی نے ڈی جی آڈٹ کو 2022 سے 2024 تک تین سال کی اسپیشل آڈٹ مکمل کرکے چار ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی  کے ایک بیان کے مطابق محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو تعلیمی بورڈز کی اسپیشل آڈٹ کے لیے ٹی او آرز تیار کرکے ایک ہفتے میں ڈی جی آڈٹ کو فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں ہوا، جس میں اراکین سعدیہ جاوید، خرم کریم سومرو، سیکریٹری یونیورسٹیز بورڈز عباس بلوچ، انٹر و میٹرک بورڈ کے چیئرمین شرف علی شاہ سمیت دیگر تعلیمی بورڈز کے چیئرمین نے شرکت کی۔اجلاس میں سندھ بھر کے تعلیمی بورڈز کی 2016 سے 2017 تک کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ پی اے سی نے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی کو سوالیہ نشان قرار دیا اور ان میں مالی بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔نثار کھوڑو نے کہا کہ بورڈز میں پیسے دو اور مارکس لو کا الزام لگ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر تعلیمی بورڈز میں پیسے دے کر اے پلس مارکس دیے جائیں گے تو بچے انٹری ٹیسٹ میں ناکام ہوں گے۔نثار کھوڑو نے کہا کہ یہ نوجوان نسل کے مستقبل کا مسئلہ ہے اور تعلیم پر کسی صورت مصلحت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تاکید کی کہ تعلیمی بورڈز کے مالی معاملات اور کارکردگی کی مانیٹرنگ ہونی چاہیے۔کمیٹی رکن خرم سومرو نے انٹر بورڈ کے چیئرمین امیر قادری کی برطرفی کے بعد تحقیقات کے حوالے سے سوالات کئے۔انٹر و میٹرک بورڈ  چیئرمین شرف علی شاہ نے کہا کہ نتائج کی شفافیت کے متعلق حکمت عملی تبدیل کی جا رہی ہے اور کمیٹی کی رپورٹ جلد منظر عام پر آئے گی۔کمیٹی رکن سعدیہ جاوید نے تعلیمی بورڈز کی اسپیشل آڈٹ کی ضرورت پر زور دیا۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ تعلیمی بورڈز میں نتائج کی شفافیت ہوگی تو بچے دنیا سے مقابلہ کرکے آگے بڑھیں گے۔