کراچی، 8مئی (پی پی آئی) سندھ حکومت نے یونیسیف کے تعاون سے آؤٹ آف اسکول بچوں اور نوعمر بچوں کی تعلیم کے لیے پانچ سالہ ملٹی سیکٹورل روڈ میپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس روڈ میپ کے تحت تعلیم میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔اجلاس میں وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی صدارت میں یونیسیف کے نمائندوں کے ساتھ کراچی میں اجلاس ہوا۔ سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی، چیف پروگرام مینجر ڈاکٹر جنید سموں اور یونیسیف کے دیگر نمائندے بھی موجود تھے۔وزیر تعلیم نے کہا کہ بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام رکاوٹیں ختم کر کے بچوں کے لیے تعلیم کو سہل بنایا جائے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ملٹی سیکٹورل روڈ میپ کے تحت صحت، سوشل پروٹیکشن اور دیگر سیکٹرز پر کام کیا جائے گا۔ بچوں کو معاشی مسائل، تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا سامنا ہے۔اس وقت سندھ میں 46 فیصد بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات ہیں۔ 25 فیصد لڑکیوں کی 18 سال سے پہلے شادی ہو جاتی ہے اور 38 فیصد بچوں کو معاشی مسائل کی وجہ سے محنت مزدوری کرنی پڑتی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی بنانی ہوگی تاکہ آئندہ نسلوں کو تعلیم کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اجلاس میں ارلی چائلڈ ایجوکیشن کے لیے ڈیٹا بیس تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
Next Post
کے فور منصوبہ: سندھ حکومت کی پراجیکٹ تکمیل کی رفتار تیز کرنے کا فیصلہ
Fri May 9 , 2025
کراچی،9مئی (پی پی آئی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کے فور منصوبہ سے متعلق اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں منصوبے کی توسیع، فنڈنگ اور تعمیراتی مراحل پر گفتگو کی گئی۔اجلاس میں صوبائی وزیر توانائی ناصر حسین شاہ، وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی […]
