آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

فقیر قادر بخش بیدل کے عرس پر ادبی کانفرنس کا انعقاد

سکھر، 13مئی (پی پی آئی)سندھ کے معروف صوفی شاعر فقیر قادر بخش بیدل کے 157ویں عرس کے موقع پر سکھر آرٹس کونسل کے سنگار علی سلیم آڈیٹوریم میں محکمہ ثقافت سندھ کے زیرِ اہتمام بیدل ادبی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے ادیبوں، شعرا، فنکاروں اور محققین نے شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل ثقافت منور علی مہیسر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں شاہ لطیف کے بعد سچل سرمست اور بیدل کا منفرد مقام ہے۔ بیدل کی شاعری دل پر اثر کرتی ہے اور ان کا کلام آج بھی ہمیں امن، اخلاص اور فقیری کا درس دیتا ہے۔ڈپٹی کمشنر سکھر ڈاکٹر ایم بی راجا دھاریجو نے کہا کہ بیدل کی تعلیمات معاشرتی ہم آہنگی اور برداشت کا پیغام دیتی ہیں، جنہیں اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بیدل کا فلسفہ معاشرتی مسائل کے حل کے لیے راہ دکھاتا ہے۔ادبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف شاعر ادل سومرو نے کہا کہ بیدل نہ صرف صوفی شاعر تھے بلکہ وہ ایک فکری رہنما بھی تھے۔ ان کے مطابق عشقِ حقیقی انسان کو رب کی پہچان کرواتا ہے۔ شاعر ایاز گل نے کہا کہ بیدل نے شاعری کے علاوہ 36 موضوعات پر علمی کتب تصنیف کیں، جو ان کی وسعتِ فکر کی دلیل ہیں۔سکھر آرٹس کونسل کے صدر ممتاز بخاری نے محکمہ ثقافت سے اپیل کی کہ کلچر کمپلیکس کے ادھورے منصوبے مکمل کیے جائیں اور فقیر شعرا کے حوالے سے بھی مزید تحقیقی کانفرنسز منعقد کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بیدل کی کتاب *پنج گنج* پر تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔پروفیسر سلمیٰ قریشی نے بیدل کی لسانی مہارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اردو، سندھی، سرائیکی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ دیگر مقررین مختار ملک، امتیاز علی میمن، اور ابراہیم کھرل سمیت کئی محققین نے بیدل کی فکر اور کلام پر تحقیقی مقالے پیش کیے۔ کانفرنس کے اختتام پر صوفی فنکاروں، بشمول حب فقیر اور گل جونیجو نے بیدل کا کلام پیش کیا، جبکہ راگ رنگ کی محفل میں سندھ کے معروف صوفی راگیوں نے روح پرور صوفی کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ادبی و روحانی رنگ لیے اس کانفرنس میں ادیبوں، شعرا، فنکاروں، طلبہ، شہریوں اور بیدل کے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بیدل کا پیغام آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔