کراچی، 20 اگست 2025 (پی پی آئی): پنجاب حکومت نے صوبے میں تدریسی لائسنس کے نظام کے آغاز کے لیے سندھ حکومت سے رہنمائی حاصل کرنے کی غرض سے رابطہ کیا ہے، کیونکہ سندھ اس شعبے میں پہل کرنے والا صوبہ ہے۔ اس مقصد کے لیے پنجاب کے محکمہ تعلیم کا ایک وفد کراچی میں صوبائی وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ سے ملا، تاکہ تدریسی لائسنس کے اجرا سے متعلق پالیسیوں اور تجربات پر بات چیت کی جا سکے۔
پنجاب کے وفد میں سیکریٹری تعلیم خالد نذیر وٹو، وزیر اعلیٰ پنجاب کے تعلیمی مشاورتی امور کے فوکل پرسن شکیل احمد بھٹی، ڈائریکٹر اسکول اسٹافنگ ڈاکٹر سائمہ ناز اور دیگر افسران شامل تھے۔ سندھ کی نمائندگی سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، اسٹیڈا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رسول بخش شاہ اور دیگر سینئر افسران نے کی۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے سید سردار علی شاہ نے اس ملاقات کو مثبت روایت قرار دیا اور کہا کہ تعلیم اب صوبائی ذمے داری ہے۔ انہوں نے بین الصوبائی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں تعلیمی مسائل تقریباً ایک جیسے ہیں لیکن صوبے اکثر ان کو انفرادی طور پر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سندھ دیگر صوبوں کو مکمل تعاون فراہم کرے گا اور یاد دلایا کہ سندھ نے پاکستان کا پہلا تدریسی لائسنس نظام متعارف کرایا۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے تعلیم شکیل احمد نے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کے پیغام اور نیک خواہشات پہنچائیں اور سندھ کی تعلیمی پالیسیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا نصاب جامع ہے اور اس میں نفرت انگیز مواد شامل نہیں، جو ایک مثالی ماڈل ہے اور قیمتی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تدریسی لائسنس سے اساتذہ کو عزت اور پہچان ملے گی اور وہ صوبوں کے درمیان باوقار اور جواب دہ ہوکر خدمات انجام دے سکیں گے۔
ملاقات کے دوران دونوں صوبوں کے نمائندوں نے اصلاحات، نصاب کی تیاری اور اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے پر حکمت عملی کے حوالے سے خیالات کا تبادلہ کیا۔ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ نصاب کا بنیادی مقصد انسانیت کا احترام ہونا چاہیے اور درسی کتب کو پاکستان کی ثقافتی شناخت کا تحفظ کرتے ہوئے کامیاب نسلوں کی تربیت کرنی چاہیے۔
انہوں نے وفد کو سندھ کے غیر رسمی تعلیم کے پروگرام پر بھی بریفنگ دی جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت 3,000 مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں 8 لاکھ سے 10 لاکھ بچوں کو 30 ماہ میں پرائمری تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے اپنی کمزوریوں کا اعتراف ضروری ہے۔
دونوں صوبوں نے تعلیمی معاملات پر باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک رابطہ گروپ بنانے اور بچوں کی تعلیم سے متعلق باقاعدہ مشاورت پر اتفاق کیا۔ ملاقات کے اختتام پر صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے مہمان وفد کو ثقافتی تحائف بھی پیش کیے۔
