شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان ہر بیرونی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد, 12 ستمبر (پی پی آئی)  دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے خطے میں خودمختار ریاستوں پر اسرائیل کے بار بار حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف مسلم اُمہ بلکہ پوری بین الاقوامی برادری کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ اشتعال انگیز اقدامات ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مسئلہ او آئی سی میں بھرپور انداز میں اٹھایا گیا ہے جہاں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی اور متاثرہ ممالک، خصوصاً قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اس سلسلے میں پیر کے روز دوحہ میں ایک غیر معمولی عرب-اسلامی سربراہی اجلاس طلب کیا گیا ہے تاکہ مشترکہ ردعمل پر غور کیا جا سکے۔ ترجمان نے زور دیا کہ مسلم دنیا اسرائیلی جارحیت کے خاتمے اور بین الاقوامی قوانین و اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام کے مطالبے پر متحد ہے۔

پاکستان کے دفاعی مؤقف پر روشنی ڈالتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ ملک ہر بیرونی خطرے کا بھرپور مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے جو علاقائی امن و سلامتی کا حامی ہے، تاہم کسی بھی مہم جوئی یا خودمختاری کی خلاف ورزی کا مؤثر اور ٹھوس جواب دیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے مختلف دریاؤں میں سیلابی صورتحال سے متعلق کچھ معلومات سفارتی ذرائع سے فراہم کی ہیں، لیکن یہ تفصیلات ماضی کے مقابلے میں اتنی جامع نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبی کمشنرز کا طے شدہ چینل استعمال نہیں کیا گیا جو سندھ طاس معاہدے کے مطابق لازمی ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل کرے۔