متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بہار کے سرکاری دفاتر میں اردو مترجمین کی تقرری پر بی جے پی چراغ پا بہار کو پاکستان نہ بنائیں، جنتا دل کے وزیر اعلی نتیش کمار کو بی جے پی کی وارننگ

پٹنہ/نئی دہلی(پی پی آئی)بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن کے ذریعہ اردو مترجم اور دیگر عہدوں کے لیے 183 کامیاب امیدواروں میں سے دس کو  اپنے ہاتھوں سے تقرری نامہ سونپا۔ یہ اردو مترجمین مختلف سرکاری دفاتر میں تعینات کیے جائیں گے۔بہار کی حکمراں جنتا دل یونائیٹیڈ کی سابقہ حلیف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اردو مترجمین کی تقرری پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔بی جے پی کے ترجمان نکھل آنند نے اردو مترجمین کی تقرری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، “آخر اردو مترجمین کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بہار اسمبلی میں اردو جاننے والے ملازمین کی ضرورت نہیں ہے۔ اب تو ہر تھانے میں بھی اردو مترجم کی تقرری کی جائے گی۔”بی جے پی رہنما نے کہا کہ نتیش کمار بہار میں ایک پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ “وہ خود ہی پاکستان کیوں نہیں چلے جاتے۔” خیال رہے ہندو قوم پرست جماعت سے ناطہ توڑ لینے کے بعد سے ہی بی جے پی اور نتیش کمار کے درمیان تلخی بڑھ گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اردو مترجمین اور اردو کے دیگر عہدوں کے لیے 2247 عہدوں کی منظوری دی  ہے، حکمراں جنتا دل یو نے بی جے پی کے بیان کو افسوس ناک قرار دیا۔ جنتا دل یو کے رکن اسمبلی خالد انورنے کہا کہ بی جے پی میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو ہر چیز کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔خالد انور کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اردو کو فروغ دینا پاکستان کو فروغ دینے کے مترادف ہے وہ دراصل ملک اور سماج کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔ اور بی جے پی کو ایسی حرکتوں سے باز رہنا چاہئے۔خالد انور نے مزید کہا کہ اردو بھارت کی زبان ہے، یہیں پیدا ہوئی، پلی بڑھی اور اگر یہ پاکستان کی سرکاری زبان ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی زبان کو چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی سمیت بی جے پی کے متعدد اہم رہنما پارلیمان میں اردو کی حمایت میں تقریر کر چکے ہیں۔اردو کو بھارت میں بہار سمیت سات صوبوں میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے جبکہ مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں اردو سرکاری زبان ہے۔