کْنری (پی پی آئی)صوبہ سندھ کی تحصیل کْنری کو ایشیا کے لال مرچوں کی بڑی منڈی تسلیم کیا جاتاہے۔ پاکستان مرچوں کی پیداوار کے لحاظ دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے جہاں ہر سال ایک لاکھ 43 ہزار ٹن مرچیں کاشت ہوتی ہے۔پی پی آئی کے مطابق زراعت پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔فصلوں کی تباہی سے کاشتکار پریشانی سے دوچارہیں۔سیلاب سے پہلے شدید درجہ حرارت نے مرچوں کی فصل کو متاثر کیا۔ مرچوں کی فصل معتدل موسم میں تیار ہوتی ہے۔اگست اور ستمبر میں سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نہ صرف لوگوں کی زندگیاں بلکہ ذریعہ معاش بھی متاثر ہوا۔ پی پی آئی کے مطابق کنری کے صحافی فتح روز خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ہمارے پاس9ہزار سے 11 ہزار مرچوں کی بوریاں ہوتی تھیں تاہم رواں برس بمشکل ڈھائی ہزار بوریاں ہیں۔
Next Post
پاکستانی، کشمیری اور کشمیر دوست اراکین پارلیمنٹ سے ہاؤس آف لارڈز میں 17 نومبر کو مسئلہ کشمیر پر بحث میں حصہ لینے کی اپیل
Mon Nov 14 , 2022
لندن(پی پی آئی)برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ہاؤس آف لارڈز میں مسئلہ کشمیر پر بحث17نومبر کو ہو گی۔ آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹر ی گروپ کے سیکرٹری جنرل لارڈ قربان حسین اس بحث کوسپانسر کریں گے جو کہ ایک گھنٹہ تک جاری رہے گی۔پی پی آئی کے مطابق جموں کشمیر تحریک […]
