سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات سنگین خطرہ ہیں:پاسبان

وزیراعظم سے مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات

گورنرسندھ کی اسپیکرقومی اسمبلی ،جرمنی کی سفیر اور چیئرمین سینیٹ سے ملاقاتیں

کھورواہ میں جھگڑے کے دوران خاتون ہلاک ،، 2 مرکزی ملزمان گرفتار

نواز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کا اعلیٰ سطحی اجلاس ، آزاد کشمیر کی صورت حال پر تفصیلی غور

اوکاڑہ ،لالا زار کالونی ویں کی ٹکر سے عمر رسیدہ خاتون جاں بحق ،بیٹا زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

لانگ مارچ کے پیچھے چھپی سازش سے پردہ چاک کرنا ملکی مفاد کا تقاضا ہے:مولانا فضل الرحمان

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) پی ڈی ایم کے سر براہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ کے پیچھے غیر ملکی فنڈنگ ہے،لانگ مارچ کے پیچھے چھپی سازش سے پردہ چاک کرنا ملکی مفاد کا تقاضا ہے۔ جے یو آئی میڈیا سیل کے مطابق جے یو آئی سر براہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کرتے ہو ئے کہا کہ ہم نے اپنے طور پر انویسٹیگیٹ کیا ہے کہ لانگ مارچ کو ایک ملک فنڈنگ کر رہا ہے،سعودی فرمان روا شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کو سبوتاڑ کرنے کیلئے لانگ مارچ کا ڈرامہ رچایا گیا ہے،جب تک شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کی تاریخ نہیں طے ہوئی تھی تب تک عمران لانگ مارچ کی تاریخ کا بھی اعلان نہیں کر رہے تھے۔انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان کو جیسے ہی پتہ چلا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ نومبر میں ہوگا تو اس نے نومبر میں مارچ شروع کیا۔جب سلمان کا دورہ پاکستان 21 نومبر کو طے ہوا تو عمران نے 21 نومبر کو اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کردیا،محمد بن سلمان نے دھرنے کے اعلان کے بعد دورہ پاکستان ملتوی کیا۔ایک ملک نہیں چاہتا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کریں۔ اس لئے لانگ مارچ کو فنڈنگ کر رہا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے دو تین ممالک کے لئے بڑی سرمایہ کاری لیکر آرہے تھے۔عمران نے 2014 میں بھی چینی صدر کے دورہ کو سبوتاڑ کرنے کے لئے دھرنا دیا تھا۔عمران نے ہر وہ قدم اٹھایا ہے جو ریاست پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے۔عمران خان کا لانگ مارچ اب فرلانگ مارچ بن چکا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان نے آرمی چیف کی تقرری کو بھی متنازعہ بنایا۔جیسے امریکا کا مستقبل نہیں رہا ایسے ہی اب عمران خان کا بھی کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے۔مصلحت کی خاطر عمران خان کے خلاف فی الحال کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔امریکی سازشی بیانئے اور سائفر سے پیچھے ہٹنا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔