خیر پور کے گاؤں میر محمد اجن میں دو بھائی بہن تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، یورو، پاؤنڈ، درہم اور ریال کی قیمتوں میں اضافہ

سندھ کابینہ کا اجلاس ، صحت انشورنس اور انسداد منشیات پر اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی حلقہ مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ 2 اگست کو ہوگی

کراچی بابا بھٹ آئی لینڈ سے لاپتہ بچی کی لاش منوڑہ کچی لائن سے مل گئی

ملکی اور عالمی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ملک پر قبضہ گروپ کا راج اور جنگل کا قانون ہے:عمران خان

لاہور(پی پی آئی)پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک پر قبضہ گروپ کا راج اور جنگل کا قانون ہے۔ زمان پارک لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہو ئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک پر قبضہ گروپ کا راج اور جنگل کا قانون ہے، قانون کی حکمرانی قائم کئے بغیر پاکستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے، نیب قوانین میں ترمیم کرکے 1100 ارب روپے کی کرپشن کے کیسز ختم کر دئیے گئے۔
سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ سے ہماری حکومت کے اچھے ورکنگ ریلیشن رہے، انہوں نے اس ملک پر بڑا ظلم کیا،جس کی وجہ سے ہم ڈیفالٹ کے قریب کھڑے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ اسٹبلیشمنٹ کا نام جنرل باجوہ تھا اور انہوں نے میرے خلاف لابنگ کروائی، امریکا میں میرے خلاف لابنگ کے لئے حسین حقانی کی خدمات حاصل کی گئیں، امریکا کو یہ تاثر دیا گیا کہ جنرل باجوہ امریکا کے حامی اور میں امریکا مخالف ہوں۔ جنرل باجوہ کے نزدیک سیاست دانوں کی کرپشن بے معنی تھی، میں جنرل (ر) باجوہ کو سمجھاتا رہا کہ کرپشن بڑا مسئلہ ہے، ان کے سْسر کی کرپٹ ٹولے سے دوستیاں تھیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے، ابھی مجھے الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے، حکومت سے زیادہ پیچھے بیٹھے لوگوں کا الیکشن کے لئے راضی ہونا ضروری ہے۔عمران خان نے کہا کہ اگر آئندہ عام انتخابات میں کوئی پولیٹیکل انجینئرنگ کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے، مشرقی پاکستان میں سب سے بڑی جماعت کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ ہماری حکومت میں 5 فیصد ڈیفالٹ کا خطرہ تھا جو اب 90 فیصد ہو چکا ہے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مفادات بیرون ملک ہیں، جب دونوں خاندانوں کیمفادات پاکستان سے نہیں تو ان سے میثاق معیشت کیسے کریں۔