پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ڈی اآر ایس ٹیکنالوجی پاکستانی کرکٹ ٹیم کیلئے درد سر بن گئی

کراچی: ڈی اآر ایس پاکستانی کرکٹ ٹیم کیلئے درد سر بن گیا، نفاذ کو چار سال سے زائد وقت گذرنے کے باوجود اب تک پلیئرز اس طریقہ کار سے پوری طرح فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ سری لنکا سے حالیہ ٹیسٹ سیریز میں 19 میں سے 18 ریویوز ضائع کیے گئے، کپتان مصباح الحق کو اس پر خاصی تشویش ہے، انھوں نے کہا کہ اگر امپائر کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے اس طریقہ کار کو نہ سمجھا گیا تو جس طرح سری لنکا سے سیریز میں ٹیم نے نقصان اٹھایا آئندہ بھی ایسا ہوتا رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ ریویو اسی وقت لیا جاتا ہے جب آپ کو سو فیصد یقین ہو کہ امپائر کا فیصلہ غلط تھا، تھوڑے سے بھی شک پر ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ریویو حق میں نہیں جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ٹیم میٹنگز میں باقاعدگی سے اس بارے میں بات چیت ہوتی ہے لیکن مطلوبہ نتائج بر آمد نہیں ہوسکے۔ سابق کپتان وقار یونس نے مسئلے کی وجہ ناسمجھی کو قرار دیا، انھوں نے کہاکہ پاکستان نے ریویو کی ابھی تک اسٹڈی نہیں کی، گذشتہ سیریز میں یہ بات دیکھنے میں آئی کہ چونکہ ابتدائی تین بیٹسمینوں نے رنز نہیں کیے تھے لہٰذا ریویو لینے کے معاملے میں ان کی خود غرضی دکھائی دی۔ اظہر علی نے سلپ میں کیچ ہونے کا فیصلہ بھی چیلنج کیا، یہ غلط ہے، صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے والی سوچ نہیں ہونی چاہیے۔ وقار یونس نے مزید کہا کہ ریویو میں سب سے اہم کردار وکٹ کیپر کا ہوتا ہے، اسے ایل بی ڈبلیو کے بارے میں مکمل طور پر علم ہونا چاہیے، ذہانت کے کھیل میں امپائر کا دماغ پڑھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔