مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کا اجلاس ، انتخابی کامیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا

وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، پاکستان ریلوے میں اسٹریٹجک اصلاحات کی منظوری

سندھ پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان قبل از ٹرائل ہم آہنگی کے حوالے سے اہم اجلاس ، تفصیلی غور و خوض

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ

صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے سالانہ عرس کی تیاریاں ، سیکیورٹی پلان تیار

ملکی گولڈ مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کاٹی کی تجاویز وزیر اعظم تک پہنچائیں گے، خالد مقبول صدیقی کراچی سے سوتیلی ماں کاسلوک، مسائل کا حل انڈسٹریلائزیشن میں ہے، فراز الرحمان

کراچی معاشی حب ہے، حکمران سیاسی اختلافات بھول کر معیشت پر توجہ دیں، زبیر چھایا
کراچی (پی پی آئی)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ کراچی میں 2 انڈسٹریل اور اکنامک زون بنانے کا ارادہ ہے۔ ایکسپورٹ انڈسٹری کے فروغ کیلئے پالیسی تیار کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں خطاب کے دوران کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر فراز الرحمان، نائب سرپرست اعلیٰ زبیر چھایا، سینئر نائب صدر نگہت اعوان، نائب صدر مسلم محمدی، قائمہ کمیٹی برائے پبلک ریلیشن اکرام راجپوت، سابق صدور فرحان الرحمان، گلزار فیروز، جوہر قندھاری، ایم کیو ایم کی سینیٹر خالدہ اطیب، ممبر قومی اسمبلی محمد ابو بکر،ایڈمنسٹریٹر کورنگی شریف خان، سینئر ڈائریکٹر کونسل جاوید خان، عدنان خان سمیت دیگر ممبران موجود تھے۔ ایم کیو ایم کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ کاٹی اپنی تجاویز دیں جسے وزیر اعظم تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کوٹہ سسٹم کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ عوام بھی اب کوٹہ سسٹم کے خلاف ہیں تاہم میرٹ کا انتخاب کرنے والوں کو خود میرٹ پر ہونا چاہیے۔ اس سے قبل کاٹی کے صدر فراز الرحمان نے کہا کہ کراچی سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور کوئی اس کو اون کرنے کو تیار نہیں ہے۔۔ صدر کاٹی نے کہا کہ حکومت کی کوئی معاشی پالیسی نظر نہیں آرہی، بزنس کمیونٹی متواتر اپنی تجاویز پیش کرتی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ فراز الرحمان نے کہا کہ معاشی بحران سے نمٹنے کا واحد حل ایک جامع اور طویل مدت کی معاشی پالیسی یا میثاق معیشت ہے۔ نائب سرپرست اعلیٰ زبیر چھایا نے کہا کہ کراچی کو نظر انداز کیا جارہا ہے، کراچی ملکی ریونیو کا 60 فیصد حصہ دیتا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں انفرا اسٹرکچر، بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ کراچی کو سہولیات فراہم کئے بغیر ملک معاشی ترقی نہیں کرسکتا۔ زبیر چھا یا نے کہا کہ ماضی میں کراچی سے سرمایہ دیگر شہروں کو منتقل ہوتا تھا لیکن اب صورتحال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل ہورہا ہے جس کا براہ راست نقصان پاکستان کوہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ تقریب میں سابق صدور فرحان الرحمان، گلزار فیروز اور جوہر قندھاری نے بھی خطاب کیا۔