پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بھارتی حکومت مذہبی اقلیتوں اور اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کیلئے انسداد دہشت گردی اورمنی لانڈرنگ کے قوانین استعمال کررہی ہے: ایمنسٹی

سری نگر(پی پی آ ئی)انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے انسانی حقوق کے محافظوں اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق دبانے اور اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے انسداد دہشت گردی اور منی لانڈرنگ سمیت جابرانہ قوانین کا استعمال کیا جن میں طویل مدت تک حراست میں رکھنا اور ماورائے عدالت ہلاکتیں شامل ہیں۔کشمیرمیڈیا کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اسٹیٹ آف دی ورلڈ ہیومین رائٹس 2022/23کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے جان بوجھ کر مذہبی اقلیتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور سیاسی رہنماؤں اور عوامی عہدیداروں کی طرف سے ان کے خلاف نفرت کا واضح اظہار ایک عام سی بات تھی اور انہیں سزا تک نہیں دی گئی۔مخالفین کو خاموش کرانے کیلئے انسداد دہشت گردی کی قانون سازی سمیت جابرانہ قوانین کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ حکام نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے انسانی حقوق کے محافظوں کو ہراساں کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واضح کیا کہ بھارت میں قبائلیوں اور پسماندہ کمیونٹیز بشمول دلتوں کو تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں مزیدکہا گیا ہے کہ ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے ایک مسلسل طریقہ کار کے تحت سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے محافظوں بشمول کارکنوں، صحافیوں، طلبا اور ماہرین تعلیم پر غیر قانونی اور دیگر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔بھارتی حکومت نے مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف غیر متناسب طور پر فوجداری قوانین کا استعمال کیا کیونکہ پولیس معمول کے مطابق مسلمانوں کو نماز پڑھنے، جائز کاروباری لین دین کرنے اور گائے کا گوشت کھانے کے جرم میں گرفتار کرتی ہے۔ہریانہ، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، کیرالہ اور گجرات میں کچھ ہندوتوا گروپوں کی طرف سے مسلمانوں کے کاروبار کے معاشی بائیکاٹ کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ نفرت انگیز جرائم بشمول دلتوں اور آدیواسیوں کے خلاف تشدد کا ارتکاب مکمل استثنیٰ کے ساتھ کیا گیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2020اور مارچ 2022کے درمیان جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کا تناسب سب سے زیادہ رہا۔رپورٹ کے مطابق قابض اہلکاروں نے سرکاری سرپرستی میں مقبوضہ علاقے میں جنسی اور گھریلو تشدد کا سلسلہ جاری رکھا۔