پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پی ٹی آئی دور میں مختلف افراد اور کمپنیوں کو بلاسودقرض دینے پر تحقیقات کا حکم

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پی ٹی آئی دورمیں مختلف افراد اور کمپنیوں کو بلاسود چارارب ڈالر قرض دینے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا نورعالم خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی دورمیں مختلف افراد اور کمپنیوں کوبلاسو قرض دینے پرپی اے سی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ریکارڈ طلب کرلیا۔کمیٹی نے ایف آئی اے سے عید کے بعد رپورٹ طلب کرلی۔پی اے سی اجلاس میں کہنا ہے کہ پی ٹی آئی دور میں 600 افراد کو 3 ارب ڈالرکے قرضے دیئے گئے،اسٹیٹ بینک صفر شرح سود پر قرض لینے پر افراد کی مکمل فہرست دے۔چیئرمین پی اے سی نورعالم خان نے کہا کہ حیسکول نامی کمپنی کو بھی ایک ارب ڈالر فراہم کئے گئے،فنڈز لینے والی یہ کمپنی بعد میں دیوالیہ ہوگئی،ملکی معیشت تباہ ہے اوریہاں لوٹ مچی ہوئی ہے۔ پراپرٹی، زمین،بینک بیلنس اورگاڑیوں سمیت سب سرکاری تحویل میں لیا جائے۔پی اے سی میں حیسکول کی انتظامیہ کو گرفتار کرکے اثاثے سرکاری تحویل میں لینے کی سفارش کی ہے۔اسٹیٹ بینک اوروزارت خزانہ کا جوافسر تعاون نہ کرے مقدمہ درج کیا جائے،نور عالم خان نے کہا کہ سابق وزیراعظم یا وزیر خزانہ جو کوئی بھی ملوث ہے رپورٹ دی جائے۔برجیس طاہر کا کہنا تھا کہ سابق دورمیں 850 ارب روپے کے مساوی قرضے دیئے گئے، جس طرح ملک کو لوٹا گیا، لوگوں کا پتہ چلنا چاہئے،جس وقت فنڈز دیئے گئے ڈالر ریٹ 162 روپے تھا، اب ڈالر 280 سے 290 روپے تک پہنچ چکا ہے۔