خیبر پختونخوا میں جنگلات کے مالکان کی جرگہ منعقد؛ وزیر اعلیٰ کے مشیر کی شرکت

جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کی ہلاکتیں؛ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس

جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد؛ کلیدی فیصلے کیے گئے

وزیر داخلہ نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم سے اہم ملاقات کی؛ قومی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال

بلوچستان ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت صنفی بنیاد پر تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل پر ‘صوبائی میڈیا فیلوشپ پروگرام’ کا آغاز

اوپن مارکیٹ میں ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں کی قدر میں معمولی اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر صحافیوں کیلئے دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں شامل: رپورٹ میں انکشاف

سری نگر(پی پی آ ئی) بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں شامل ہے جہاں صحافت اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد مشکل ترین حالات میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔بدھ کو آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میڈیا کی ایک رپورٹ میں 1989سے اب تک جاری جدوجہد آزادی کشمیر میں اپنے پیشہ فرائض انجام دہی کے دوران20صحافیوں کے قتل کی تصدیق کی گئی ہے۔قتل کئے جانیوالے صحافیوں میں شبیر احمد ڈار، مشتاق علی، محمد شعبان وکیل، خاتون صحاف آسیہ جیلانی، غلام محمد لون، غلام رسول آزاد، پرویز محمد سلطان، شجاعت بخاری، علی محمد مہاجن، سید غلام نبی، الطاف احمد فکتو، سیدن شفیع، طارق احمد، عبدالمجید بٹ، جاوید احمد میر، پی این ہنڈو، محمد شفیع، پردیپ بھاٹیہ، اشوک سودھی اور رئیس احمد بٹ شامل ہیں۔رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے اہلکاروں کی طرف سے صحافیوں کو ہراساں کرنا، اغوا، قاتلانہ حملے، گرفتاریاں،پولیس اسٹیشنوں میں طلبی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرناپڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ مقامی صحافتی تنظیموں نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ کشمیری صحافیوں کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کالے قانون کے تحت کشمیری صحافی عرفان معراج کی گرفتاری مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کے طویل عرصے سے جاری خلاف ورزیوں اور میڈیا پر قدغن اور سول سوسائٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کی ایک اور مثال ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ آکر پٹیل نے کہاہے کہ بھارتی حکام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر استثنیٰ کو ختم کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جسے انسانی حقوق کے علمبرداروں اور صحافیوں نے بہادری کے ساتھ بے نقاب کیا ہے اور دستاویزی شکل دی ہے۔