شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر صحافیوں کیلئے دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں شامل: رپورٹ میں انکشاف

سری نگر(پی پی آ ئی) بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں شامل ہے جہاں صحافت اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد مشکل ترین حالات میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔بدھ کو آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میڈیا کی ایک رپورٹ میں 1989سے اب تک جاری جدوجہد آزادی کشمیر میں اپنے پیشہ فرائض انجام دہی کے دوران20صحافیوں کے قتل کی تصدیق کی گئی ہے۔قتل کئے جانیوالے صحافیوں میں شبیر احمد ڈار، مشتاق علی، محمد شعبان وکیل، خاتون صحاف آسیہ جیلانی، غلام محمد لون، غلام رسول آزاد، پرویز محمد سلطان، شجاعت بخاری، علی محمد مہاجن، سید غلام نبی، الطاف احمد فکتو، سیدن شفیع، طارق احمد، عبدالمجید بٹ، جاوید احمد میر، پی این ہنڈو، محمد شفیع، پردیپ بھاٹیہ، اشوک سودھی اور رئیس احمد بٹ شامل ہیں۔رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے اہلکاروں کی طرف سے صحافیوں کو ہراساں کرنا، اغوا، قاتلانہ حملے، گرفتاریاں،پولیس اسٹیشنوں میں طلبی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرناپڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ مقامی صحافتی تنظیموں نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ کشمیری صحافیوں کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کالے قانون کے تحت کشمیری صحافی عرفان معراج کی گرفتاری مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کے طویل عرصے سے جاری خلاف ورزیوں اور میڈیا پر قدغن اور سول سوسائٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کی ایک اور مثال ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ آکر پٹیل نے کہاہے کہ بھارتی حکام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر استثنیٰ کو ختم کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جسے انسانی حقوق کے علمبرداروں اور صحافیوں نے بہادری کے ساتھ بے نقاب کیا ہے اور دستاویزی شکل دی ہے۔