شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سپریم کورٹ میں حکومتی رپورٹ جمع، فوج کی حراست موجود ملزمان کا ڈیٹا شامل نہیں

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کے اس سات رکنی بینچ کے سامنے نو مئی کے واقعات کے بعد گرفتار افراد کی تفصیلی رپورٹ جمع کرائی ہے، جو چیف جسٹس کی سربراہی میں فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل چلانے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔بی بی سی کے مطابق رپورٹ میں فوج کی حراست موجود ملزمان کا ڈیٹا شامل نہیں ہے۔ اس حکومتی رپورٹ میں نابالغ بچوں، صحافیوں اور وکلا کا ڈیٹا بھی شامل نہیں ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں گرفتار کی جانے والی خواتین کا ڈیٹا شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ملک کی مختلف جیلوں میں 39 خواتین قید ہیں۔ ابھی تک 42 خواتین کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ نو مئی کے بعد کل 81 خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق نو مئی کے واقعات کے بعد نقص امن کے تحت 2258 افراد کے لیے گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے جبکہ ان میں سے ابھی 21 افراد جیل میں ہیں۔انسداد دہشتگردی کے تحت 51 قائم کیے گئے ہیں جبکہ کل گرفتار افراد کی تعداد 1888 ہے۔ جسمانی ریمانڈ پر 108 جبکہ جوڈیشل ریمانڈ پر 1247 افراد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جیل میں شناخت پریڈ کے لیے ابھی 368 افراد قید ہیں جبکہ 1201 کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ضمانت پر رہائی حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 3012 بنتی ہے۔