پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عسکری پلازہ توڑ پھوڑ کیس میں عمر سرفراز چیمہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

لاہور(پی پی آئی) چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع عسکری پلازہ میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے کیس میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پورا ہونے پر جیل میں پیش نہ کیا جاسکا۔ انسداد دہشتگردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے مقدمے کی سماعت کی اور عمر سرفراز چیمہ کے جوڈیشل ریمانڈمیں 20 جولائی تک توسیع کا حکم دیا۔پی پی آئی کے مطابق اس موقع پر تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ عمر سرفراز چیمہ کسی اور مقدمے میں جسمانی ریمانڈ پر پولیس حراست میں ہیں لہٰذا عدالت وارنٹ پر جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کا حکم دے۔ تفتیشی افسر انسپکٹر اسلم نے عدالت کو کیس کے چالان کے متعلق آگاہ کیا۔ خیال رہے کہ سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کیخلاف مقدمہ نمبر 1271/23 تھانہ گلبرگ میں درج ہے۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں عمر سرفراز چیمہ کو جیل میں بی کلاس کی سہولت کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے رببیعہ سلطان کی درخواست پر سماعت کی جہاں اے آئی جی لیگل جیل خانہ جات ڈاکٹر قدیر اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور پنجاب حکومت اور جیل خانہ جات کی جانب سے تحریری جواب جمع کروایا گیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر سابق گورنر پنجاب ہیں، عسکری ٹاور حملہ کیس میں پولیس نے انسدادِ دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں کوٹ لکھپت جیل بھجوا دیا گیا، سابق گورنر ہونے کے باوجود درخواست گزار کے شوہر کو جیل میں بی کلاس نہیں دی گئی۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ جیل میں بی کلاس کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کو درخواست دی لیکن شنوائی نہیں ہوئی لہٰذا عدالت سابق گورنر پنجاب کو جیل میں بی کلاس کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دے۔ تمام دلائل کے بعد عدالت نے فریقین کے وکلا کا موقف سن کر فیصلہ محفوظ کرلیا۔