ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

چناب، راوی اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ، سرکاری اداروں کو ہائی الرٹ جاری

لاہور(پی پی آئی) چناب، راوی اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، سرکاری اداروں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ریسکیو 1122 نے وزیرآباد میں  دریا سے ملحقہ نشیبی علاقوں میں 9 ریسکیو اسٹیشنز قائم کردیے ہیں، پی پی آئی کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے دریائے چناب سے ملحقہ 20 دیہات کو حساس قراردے دیا ہے۔حساس علاقوں میں لائف سیفٹی جیکٹس،کشتیاں اور بڑی گاڑیاں بھی پہنچا دی گئی ہیں، دریائے چناب میں خانکی بیراج کے مقام پر پانی کی آمد43ہزار389 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔دریائے چناب میں خانکی بیراج سے پانی کااخراج36ہزار167کیوسک ریکارڈ جبکہ دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد کے مقام پر پانی کی آمد45ہزار844کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں 8 سے 12 جولائی 7 لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے۔واضح رہے کہ دریائے چناب، راوی اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ پیدا ہو گیا، فلڈ کمیشن نے وارننگ جاری کر دی۔فلڈ کمیشن نے 8 سے 14 جولائی تک دریاؤں کے کیچمنٹ علاقوں میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے،ایڈوائزری کے مطابق 8 اور 9 جولائی کو دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلابی ریلے کا امکان ہے۔ایڈوائزری میں کہا گیا کہ دریائے راوی میں گرنے والے برساتی نالوں میں بھی طغیانی کا خدشہ ہے، ڈی جی خان، بلوچستان، بنوں، کوہاٹ کے نالوں میں بھی طغیانی آ سکتی ہے۔فلڈ کمیشن نے تنبیہ کی ہے کہ آئندہ 48 گھنٹے میں ملک کے بیشتر علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔