متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کے اخراج میں 80 فیصد کمی

کراچی (پی پی آئی)غیرملکی سرمایہ کاری پر مالی سال 2023 میں منافع کے اخراج میں سال بہ سال تیزی سے 80 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے جو کہ معیشت کی خراب کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔پی پی آئی کے مطابق اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں  2022-23 میں صرف 33 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز لائیں جو کہ گزشتہ سال 1.680 ارب ڈالر تھے۔ڈالر کے اخراج میں کمی کی وجہ خراب معاشی حالات اور حکومت کی جانب سے جانے والے مالی سال کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ادائیگیوں کے لیے منافع کو روکنے کی پالیسی تھی۔غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے ڈیفالٹ کے خدشے کے پیش نظر اخراج کو کم سے کم تک محدود کرنے کو ماہرین اقتصادیات اور تجزیہ کاروں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔تاہم حکومت کو ایک انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھا، خاص طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے 9ویں جائزے کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے میں مشکلات درپیش تھی، جس کی میعاد 30 جون کو ختم ہو گئی تھی۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 23 میں منافع کا اخراج 80.3 فیصد یا 1.349 ارب ڈالر تک کم ہوا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی 24 فیصد کم ہو کر 14 کروڑ 55 لاکھ ڈالر رہ گئی جو کہ گزشتہ سال میں 19 کروڑ 35 لاکھ ڈالر تھی۔