شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بلوچستان حکومت پر بجلی کے بلوں کی مد میں 33 ارب روپے واجب الادا

کوئٹہ(پی پی آئی)  بلوچستان حکومت پرکوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے بجلی کے بلوں کی مد میں 33 ارب روپے واجب الادا ہیں

ترجمان کیسکو کے مطابق ماہ جولائی میں صوبائی حکومت اور اس کے ذیلی محکموں کو 990 ملین روپے کے بل جاری کئے گئے  صوبائی حکومت نے صرف 191 ملین روپے  اداکئے،  پی پی آئی کے مطابق حکومت کے ذمہ بجلی کے بلوں کی مد میں 33 ارب روپے کے بقایا جات ابھی بھی ہیں۔صوبے میں وفاقی حکومت اور اس کے ذیلی محکموں  کو ماہ جولائی میں 546 ملین روپے  کے بل جاری کئے گئے، 411 ملین روپے کی ادائیگی وفاقی حکومت نے کی  جبکہ ایک ارب 92 کروڑ روپے واجب الادا ہیں، ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے 68 ملین روپے ماہ جولائی میں سر چارج لگ چکے ہیں۔ترجمان کے مطابق زرعی صارفین کو ماہ جولائی میں تقریباً 8 ارب روپے کے بل جاری کئے گئے، صوبہ کے زمینداروں نے صرف 9 کروڑ 27 لاکھ روپے جمع کروائے ہیں، زرعی صارفین کے ذمہ 419 ارب روپے  بقایا  ہیں، زرعی سبسڈی کی مد میں حکومت بلوچستان نے 46 ارب روپے، وفاقی حکومت نے زرعی سبسڈی کی مد میں 21 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔زرعی سیکٹر کے ذمہ ماہ جولائی تک کے مجموعی بقایا جات 488 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کے ذمہ 30 ارب 70 کروڑ روپے کے بقایا جات واجب الادا ہیں، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو)  نے بقایا جات جمع نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ نادہندگان صارفین اور محکموں کے خلاف کارروائی  کا عندیہ دیا ہے۔