متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 کراچی میں رہنے والے بنگالی، ایرانی اور برمی بھی غیر یقینی کا شکار

کراچی (پی پی آئی)ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو واپسی کے لیے دی گئی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد ان کے خلاف کارروائی شروع ہے۔اس فیصلے کے بعد جہاں افغان شہری پریشان ہیں وہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رہنے والے بنگالیوں، ایرانیوں اور برمیوں سمیت دیگر قومیتیں بھی بے یقینی کا شکار ہیں، پی پی آئی کے مطابق کئی دہائیوں سے بڑی تعداد میں بنگالی،ایرانی، برمی اور افغان شہری کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ نیٹی جیٹی پل سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر محمدی کالونی عرف مچھر کالونی کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔اس علاقے میں آج بھی مشرقی پاکستان کی جھلک نظر آتی ہے، یہاں کی دکانیں، کاروبار، پکوان، کپڑے اور خاص کر مچھلی کی مختلف اقسام اور اسے فروخت کرنے کا منفرد انداز پورے شہر میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتا۔اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں افغان باشندوں کے بعد سب سے زیادہ بنگالی آباد ہیں۔بنگالیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ’پاکستان میں 20 لاکھ سے زائد بنگالی رہتے ہیں۔ بنگالیاور برمی ایک جیسے رہن سہن کی وجہ سے اِن کی پہچان بھی تقریباً ایک جیسی ہی ہو گئی ہے۔