پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جماعةالدعوة کے تحت سندھ بھر میں اصلاح معا شرہ خطبات کا اہتمام

حیدرآباد: حیدر آباد سمیت اندرون سندھ میں جما عةالدعوة کے تحت اصلاح معاشرہ خطبات کا اہتمام کیا گیا۔ حیدرآباد ، ٹنڈوآدم ، گولارچی، میرپورخاص، شہدادپور ، ٹنڈوالہ یار اور دیگر شہروں میں خطباءنے اصلاح معاشرہ کے حوالہ سے نماز جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ امیر جماعة الدعوةسندھ فیصل ندیم مرکز المحمدیہ ، صوبائی ناظم دعوةحافظ محمد انور نے مرکز سعد بن معاذ ، ساجد سلفی نے مرکز القادسیہ ٹنڈوآدم ، مرکز حسین بن علی شہدادپور میں محمد عاصم نے خطبات جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔ خطباءنے اصلاح معاشرہ پر اپنی تقاریر میں اجتماعیت کو انفرادیت پر ترجیح دینے اور قوانین اسلام کا عملی زندگی میںنفاذ پر زور دیا ۔انھوں نے کہا کہ حدوداللہ کی پامالی نے اللہ کی ناراضی کو دعوت دی ہے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں اور معاشروں کو قوانین اسلام کے تابع کرلیں تو انتشارانہ ماحول کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ صبر اور شکرزندگی کو برکتوں سے مالامال کردیتے ہیں۔ معاشرہ میں موجودہر شخص اگر اپنے ذمہ حقوق العبادکوپوری ذمہ داری سے ادا کرے تو ہمارے آدھے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ ایک دوسرے کے لئے قربانی کا جذبہ اخوت ، بھائی چارے کو جنم دیتا ہے جس سے معاشرے اور ملک مضبوط ہوتے ہیں۔ ملک و قوم کی مضبوطی سے دشمنان ملت کی سازشیںبھی ناکام ہوتی ہیں۔مقررین نے ملک کو موجودہ حالات کی اصلاح میں صحت مند معاشرہ کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انفرادی مفاد کی حفاظت سے معاشروں میں عدم تحفظ جنم لیتا ہے۔ہمیں انفرادیت پر اجتماعیت کو فوقیت دینی چاہئیے۔ معاشرہ میں موجود جب ہر فرد ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے جڑا ہوگا باہمی نفرت کو جگہ نہی ملے گی۔ محبت کے پھیلاﺅ سے فرداً فراً ، گلی گلی، محلہ محلہ اور شہروں اور صوبوں کے درمیان محبت بڑھے گی۔ اور جب ہر فرد ایک دوسرے سے جڑ جائے گا تواس کے مقابلہ میں لسانی و صوبائی تعصب کو جگہ نہی ملے گی ۔