آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

معروف افسانہ اور ناول نگار قرۃ العین حیدر کی 17ویں برسی منائی گئی

کراچی (پی پی آئی)معروف افسانہ اور ناول نگار قرۃ العین حیدر کو اس دنیا سے رخصت ہوئے 17برس گزر گئے۔قرۃ العین حیدر 20جنوری 1927 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں اور21 اگست 2007  کو طویل علالت کے بعد انتقال  کر گئیں۔پی پی آئی کے مطابقاردو زبان کے 10 بڑے ناولوں میں سے ایک ناول ’آگ کا دریا‘ کو مانا جاتا ہے۔  اِس ناول کو دنیائے ادب میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی، اور بعد میں انہوں نے خود اِس ناول کا انگریزی ترجمہ بھی کیا۔ اِس کے بعد انہوں نے اپنا ایک ناول ’آخر شب کے ہمسفر‘ لکھا، جو انہیں بے حد پسند تھا،۔قرۃالعین حیدر نے کْل 8 ناول لکھے، جن میں ’میرے بھی صنم خانے‘، ’سفینہ غم دل‘، ’آگ کا دریا‘، ’آخر شب کے ہمسفر‘، ’کار جہاں دراز ہے‘، ’گردش رنگ چمن‘، ’چاندنی بیگم‘، ’شاہراہِ حریر‘ شامل ہیں۔ اْن کا ناول ’کار جہاں دراز ہے‘ تین حصوں پر مشتمل اور سوانحی ناول ہے۔پاکستان اورہندوستان کے ادبی حلقوں میں قرۃ العین حیدر بے حد مقبول ہیں۔ان کی ادبی خدمات پر انہیں کئی اعزازات بھی دیے گئے۔