ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

معروف افسانہ اور ناول نگار قرۃ العین حیدر کی 17ویں برسی منائی گئی

کراچی (پی پی آئی)معروف افسانہ اور ناول نگار قرۃ العین حیدر کو اس دنیا سے رخصت ہوئے 17برس گزر گئے۔قرۃ العین حیدر 20جنوری 1927 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں اور21 اگست 2007  کو طویل علالت کے بعد انتقال  کر گئیں۔پی پی آئی کے مطابقاردو زبان کے 10 بڑے ناولوں میں سے ایک ناول ’آگ کا دریا‘ کو مانا جاتا ہے۔  اِس ناول کو دنیائے ادب میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی، اور بعد میں انہوں نے خود اِس ناول کا انگریزی ترجمہ بھی کیا۔ اِس کے بعد انہوں نے اپنا ایک ناول ’آخر شب کے ہمسفر‘ لکھا، جو انہیں بے حد پسند تھا،۔قرۃالعین حیدر نے کْل 8 ناول لکھے، جن میں ’میرے بھی صنم خانے‘، ’سفینہ غم دل‘، ’آگ کا دریا‘، ’آخر شب کے ہمسفر‘، ’کار جہاں دراز ہے‘، ’گردش رنگ چمن‘، ’چاندنی بیگم‘، ’شاہراہِ حریر‘ شامل ہیں۔ اْن کا ناول ’کار جہاں دراز ہے‘ تین حصوں پر مشتمل اور سوانحی ناول ہے۔پاکستان اورہندوستان کے ادبی حلقوں میں قرۃ العین حیدر بے حد مقبول ہیں۔ان کی ادبی خدمات پر انہیں کئی اعزازات بھی دیے گئے۔