بدین میں پانی کی مصنوعی قلت کے باعث دھان کی زیر کاشت فصل شدید متاثر

غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں معمولی کمی ، اوپن مارکیٹ: ڈالر، یورو اور پاؤنڈ سستے ہوگئے

عالمی منڈی میں تیل سستا، حکومت بھی عوام کو فوری ریلیف دے: پاسبان

ڈی پی او جھنگ کا دورہ گڑھ مہاراجہ دربار حضرت سلطان باھوؒ

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر بطور ثالث دستخط کردئیے

چیئرمین ایس ای سی پی کا دورہ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پبلک سرونٹس کیلئے لگژری گاڑیاں اور پبلک کیلئے ٹوٹی پھوٹی ٹرانسپورٹ،کہاں کا انصاف ہے، الطاف شکور

کراچی (پی پی آئی)   پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ پبلک سرونٹس کے لیے لگژری گاڑیاں، مفت پٹرول، بجلی، گیس اور دیگر بے شمار مراعات جبکہ پبلک کے لیے ٹوٹی پھوٹی ٹرانسپورٹ، سڑکیں، مہنگی خوراک، مہنگی گیس و بجلی اور ادویات کہاں کا انصاف ہے؟ سرکاری اسکولوں میں پنکھے،فرنیچر اور کتابیں اورا ستاد نہیں، عوام تعلیم وعلاج سے محروم ہیں،غریبوں کے پاس بجلی کے بل بھرنے کے پیسے نہیں جبکہ سندھ حکومت کی شاہ خرچیاں اور قوم کے پیسوں پر عیاشیاں جاری ہیں۔ عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے زیراہتمام کراچی پریس کلب کے باہراحتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پاسبان کے ذمہ داران اور کارکنان کے علاوہ عوام نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر مظاہرین سے پی ڈی پی چیئرمین الطاف شکور و دیگر قائدین نے خطاب کیا۔الطاف شکور نے کہا کہ سندھ کے عوام غربت سے بلبلارہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سندھ حکومت کا 2،ارب روپے کی 138 ویگوگاڑیاں خریدنا، قوم پر آئی ایم ایف کے قرضوں کامزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ سرکاری افسران بھی ملک اور قوم پر رحم کھائیں۔ ایک طرف قوم کو ملک کے ڈیفالٹر ہونے سے ڈرایا جاتا ہے اور دوسری طرف سیاستدانوں اور سرکاری افسران کی مراعات جسے عیاشیاں کہنا زیادہ مناسب ہوگا، ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر اربوں کھربوں ڈالر کاقرض چڑھا ہو ا ہے تو پھر مہنگی گاڑیاں کیوں خریدی جا رہی ہیں؟ کیا ملک میں اسمبل ہونے والی سستی اور چھوٹی گاڑیا ں میں سرکاری افسران سفر نہیں کرسکتے؟  انہوں نے کہا کہ عوام کو ٹوٹی پھوٹی بسیں اور کوچیں بھی سفر کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے سرکاری ملازمین کو ہدایت کی تھی کہ وہ سیاسی یا گروہی وابستگی سے بلند ہوکر عوام کے ”خادمین“ کی حیثیت سے اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دیں۔ اس طرح عوام کی نظروں میں ان کا مقام بلند ہوگا لیکن آج کے ملازمین ذرا اپنے ”گریبان میں جھانکیں“ کہ وہ عوام کے خادم ہیں یاحاکم ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک پاکستان کا قرض مکمل طور پر ادا نہیں ہوجاتا حکمرانوں اور سرکاری افسران کے لیے لگژری گاڑیوں کی خریداری پر مکمل طور پر پابندی عائد کی جائے۔ اس موقع پر پاسبان کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائداور کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے بھی خطاب کیاجبکہ سینئر رہنماء محمد ایوب، سردار ذوالفقار،حامد صدیقی،میاں ریاض محمد،محمد اسلم،شہباز مغل،کلیم اللہ ملک،سید رضوان الحق، زاہد جمیل، ارشاد شیخ، نور الامین، ساجد خان، مطلوب خان،سبحان قیوم،ظفر اقبال، سجاول مروت،اکرمآگریا، جاوید اقبال، فضل ربی خان،اللہ دوست،سعیدل، اختر قریشی،صالح محمد، دلاور خان،جاوید اختر،حاجی عبدالصمد، عثمان اعوان،حمزہ ملک اعوان، شہزاد صدیقی،و دیگر بھی موجود تھے۔