شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ضلع میرپورخاص میں زرعی اور پینے کے پانی کی شدید قلت، زیر کاشت مختلف فصلیں خطرے سے دوچار

میرپورخاص25جنوری (پی پی آئی) نہروں کی پندرہ روزہ سالانہ بندش کاوقت گزر جانے کے باوجود نہروں میں پانی نہ آنے کی وجہ سے  سمیت ضلع بھر میں زرعی اور پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کے باعث لاکھوں ایکڑ زرعی زمین متاثر ہو رہی اور زیر کاشت مختلف فصلیں شدید خطرے سے دوچار ہیں جبکہ غریب لوگ روزگار چھوڑ کر پانی کی تلاش میں لگ گئے ہیں اور زیر زمین مضر صحت پانی کے استعمال سے مختلف امراض میں اضافہ ہو گیا ہے محکمہ آبپاشی کی ناقص منصوبہ بندی اور مبینہ کرپشن کے باعث ضلع بھر میں زرعی اور پینے کے پانی کا بحران دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے سندھ کے چوتھے بڑے شہر میرپورخاص کے مختلف علاقے جن میں سیٹلائٹ ٹاؤن، پنھور کالونی، اورنگ آباد، رحیم نگر، میر کالونی، بلوچ کالونی، حمید پورہ کالونی، ہیر آباد، نائی پاڑہ، نشتر آباد، احمدانی کالونی، پاک کالونی، نواب کالونی، جمناداس کالونی، ڈھولن آباد، ٹورآباد، ایوب نگر، تھامس آباد، کھار پاڑہ، کھری کواٹر، سومرو پاڑہ، لالچند آباد اور دیگر شامل ہیں کے باشندے شدید پانی کی قلت سے دوچار ہیں اور میونسپل کارپوریشن کی جانب سے پانی کی فراہمی میں دو دن کا ناغہ کر کے اس کے دورانیہ میں بھی کمی کر دی گئی ہے سیوریج اور پینے کے پانی کی لائینیں بوسیدہ ہونے کے باعث بعض علاقے کے عوام مضر صحت بدبو دار پانی استعمال کر نے پر مجبور ہیں شہری اور دیہی علاقوں میں واقع آب رسانی اسکیموں کے تالاب خشک ہو گئے ہیں بوڑھے، بچے، جوان خواتین کام کاج چھوڑ کر مٹکے، کین اور بالٹیاں اٹھائے اِدہر اْدہر مارے پھرتے ہیں اور پانی کی تلاش میں سرگرم روزانہ اجرت پرکام کرنے والوں کو روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں واضع رہے کہ محکمہ آبپاشی نے نہروں کی سالانہ بندش کا شیڈول 6 جنوری سے 21 جنوری تک کا جاری کیا تھا لیکن 26 دسمبر سے ہی نہروں میں پانی کی سپلائی بند کردی گئی تھی جبکہ تاحال سکھر بیراج سے نارا کینال میں پانی نہیں چھوڑا گیا ہے