پاکستان میں زبانوں کا تنوع: حیثیت، حقوق اور شناختی قبولیت’ کے موضوع پر کانفرنس منعقد

اسلام آباد،26فروری (پی پی آئی) اکادمی ادبیات پاکستان میں ‘پاکستان میں زبانوں کا تنوع: حیثیت، حقوق اور شناختی قبولیت’ کے موضوع پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا انعقاد مشترکہ طور پر سندھی لینگویج اتھارٹی اور اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستان میں لسانی تنوع کے فروغ اور تمام زبانوں کی یکساں حیثیت کی قبولیت کے لئے بات چیت اور مذاکرات کو آگے بڑھانا تھا۔ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے بیان کے مطابق، سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اپنے خطاب میں پاکستان میں زبانوں کی تحریک پر روشنی ڈالی اور یونیسکو کے مادری زبانوں کے عالمی دن کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلادیش کی تحریک کا خاص ذکر کیا۔ انہوں نے اردو اور انگریزی کو سرکاری زبان برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی تمام مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔رضا ربانی نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ لسانی حقوق کو اپنا نصب العین بنا لیں اور آئین کے آرٹیکل ۲۵۱- بی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے صوبوں کی زبانوں کو سرکاری زبانیں قرار دینے کی سفارش کی۔معروف دانشور جامی چانڈیو نے کہا کہ کثیرالسانی ملک لسانی شناخت اور تنوع کا مسئلہ حل کئے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے دنیا بھر میں ہزاروں زبانوں کو معدومی کا خطرہ لاحق ہونے کا ذکر کیا۔کانفرنس کے میزبان، ڈاکٹر اسحاق سمیجو نے ریاست کی ایک زبان والی پالیسی پر تنقید کی اور تمام زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔معروف مصنفہ ثروت محی الدین نے کہا کہ زبانیں معاشرتی ماحول اور جغرافیے سے جنم لینے والے اہم جْز ہیں اور ان کے تحفظ اور فروغ کی ذمہ داری خود افراد پر ہے۔منور حسن نے ریاست کی لسانی وحدت والی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور والدین کو مادری زبان کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا۔انعام شیخ نے کہا کہ پاکستان کی تمام زبانوں میں وسیع ورثہ موجود ہے اور انہیں قومی سطح پر شناخت فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے نو آبادیاتی نظام کی مصنوعی شناختوں کا ذکر کیا۔بلوچی زبان کے مصنف ڈاکٹر واحد بخش بزدار نے اسکولوں میں مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔پشتو زبان کی نمائندگی کرتے ہوئے احمد خلیل نے زبانوں کے تحفظ کے لئے انہیں معاشیات کی زبان بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔سرائیکی زبان کی نمائندگی کرتے ہوئے مظہر عارف نے زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کا مطالبہ عوامی سطح پر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔کانفرنس کا اختتام اس متفقہ مطالبے سے ہوا کہ تمام زبانوں کو یکساں قبولیت دیتے ہوئے انہیں قومی زبانیں قرار دینا چاہئے۔ ثقافتی اور لسانی تنوع کو پاکستان کی اہم خوبی اور طاقت کے طور پر استعمال کرنا چاہئے۔ ریاستی پالیسیاں پاکستان کے ثقافتی اور لسانی ورثے کی عکاس ہونی چاہئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں عدم شرکت پر بلدیات کے 5 افسر معطل

Wed Feb 26 , 2025
کراچی،26فروری (پی پی آئی) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی  سندھ نے محکمہ بلدیات کے پانچ افسران کو اجلاس میں عدم شرکت کے باعث معطل کر دیا۔ محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق اجلاس کی صدارت چیئرمین نثار کھوڑو نے کی اور شھید بینظیر آباد ڈویزن کے 2018 سے 2021 تک کے آڈٹ پیراز […]