مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کا اجلاس ، انتخابی کامیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا

وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، پاکستان ریلوے میں اسٹریٹجک اصلاحات کی منظوری

سندھ پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان قبل از ٹرائل ہم آہنگی کے حوالے سے اہم اجلاس ، تفصیلی غور و خوض

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ

صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے سالانہ عرس کی تیاریاں ، سیکیورٹی پلان تیار

ملکی گولڈ مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عید الاضحی کی تیاریاں زوروں پر

کراچی، 17مئی (پی پی آئی) عیدالاضحی میں بیس دن باقی رہ گئے ہیں، اور اس کے پیش نظر نادرن بائی پاس پر قائم مویشی فرینڈلی مارکیٹ میں رونقیں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ ایک ہزار دو سو ایکڑ پر محیط اس وسیع و عریض منڈی میں اب تک 55,000 سے زائد قربانی کے جانور پہنچ چکے ہیں، جو شہریوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔منڈی کے ترجمان کے مطابق، جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے علیحدہ علیحدہ زونز قائم کیے گئے ہیں، تاکہ انتظامی معاملات خوش اسلوبی سے چل سکیں اور خریداروں کو سہولت میسر ہو۔ منڈی میں وی آئی پی، وی وی آئی پی اور جنرل بلاکس میں مختلف علاقوں سے آئے بیوپاریوں نے اپنے کیمپ لگا رکھے ہیں، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں خریدار، خصوصاً اہلِ خانہ، جانور دیکھنے اور خریداری کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ایڈمنسٹریٹر شہاب اور فیصل علی نے میڈیا کو بتایا کہ منڈی کا ماحول مکمل طور پر فیملی فرینڈلی ہے، جس کی وجہ سے لوگ رات گئے تک منڈی کا رخ کر رہے ہیں۔ ترجمان امِ ایمن کے مطابق، شہریوں خصوصاً خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ ماحول منڈی کی خاص پہچان بن چکا ہے۔منڈی میں اس اتوار شام 7 بجے سندھ اسمبلی کے رکن آصف علی خان اور مسلم لیگ (ن) سندھ کے سینئر نائب صدر راجہ خلیق الزمان انصاری کا دورہ متوقع ہے، جس سے منڈی کی سرگرمیوں کو سیاسی رنگ بھی ملے گا۔ خریداروں اور بیوپاریوں کے لیے سہولت میں اضافے کے لیے فوڈ اسٹریٹ قائم کی گئی ہے، جہاں مشہور فوڈ چینز کے اسٹالز لگائے گئے ہیں۔ جانوروں کی صحت کے لیے خصوصی کیمپ بھی پہلے دن سے کام کر رہے ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر فیصل علی کے مطابق، جانوروں کے لیے چوبیس گھنٹے چارہ، صاف پانی اور بجلی کی سہولیات دستیاب ہیں، جبکہ ہر جانور کو روزانہ 30 لیٹر تک مفت پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔پارکنگ کے بہتر انتظامات کیے گئے ہیں۔ پارکنگ کنٹریکٹر عدنان کے مطابق، موٹرسائیکل کے لیے انٹری پاس کی قیمت میں کمی کر دی گئی ہے اور گاڑیوں کے لیے مختلف پارکنگ آپشنز دستیاب ہیں۔ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی خاص انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں ایک ہزار پولیس اہلکاروں کی تعیناتی شامل ہے تاکہ شہری بلا خوف و خطر خریداری کر سکیں۔ترجمان کے مطابق، منڈی کے انتظامات کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں، اور شہریوں کی سہولت اور حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔