پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

علی ظفر کیخلاف جنسی ہراسانی کیس؛ میشا شفیع کو بذریعہ ویڈیو لنک جرح کی اجازت محض بیان ریکارڈ کرانے کے لیے میشا شفیع کو پاکستان آنیکی ضرورت نہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے علی ظفر کیخلاف جنسی ہراسانی کیس گلوکارہ میشا شفیع کو کینیڈا سے بذریعہ ویڈیو لنک جرح کی اجازت دے دی۔پی پی آئی کے مطابق علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کیس سے متعلق میشا شفیق کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے میشا شفیع کوکینیڈا سے بذریعہ ویڈیو لنک جرح کی اجازت دیدی۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ میشا شفیع 2016 سے کینیڈا میں مقیم اور 2 بچوں کی والدہ ہیں، انہوں نے بذریعہ ویڈیو لنک جرح کی اجازت کے لئے درخواست دائر کی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ محض ایک بیان ریکارڈ کرانے کے لیے میشا شفیع کو پاکستان آنیکی ضرورت نہیں، انہیں جرح کے لئے کینیڈا میں پاکستانی سفارت خانے جانیکی بھی ضرورت نہیں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سول کیسز میں بیان ریکارڈنگ یا جرح کیلئے گواہ یا ملزم کی موجودگی درکار ہوتی ہے، سول مقدمات میں بیان ریکارڈنگ یا جرح کے لیے ورچوئل موجودگی بھی کافی ہے۔عدالت عظمیٰ نے قراردیا کہ کوڈ آف سول پروسیجرز میں کہیں درج نہیں بیان ریکارڈنگ کے لئے جسمانی موجودگی ضروری ہے۔ عدالت میں بیان ریکارڈنگ کے لیے ورچوئل موجودگی بھی کافی ہے، یہ بہترین وقت ہیکہ عدالتوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع ہو۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بدقسمتی سے جرح میں تاخیری حربوں سے متاثرہ فریق پر دباؤ ڈال کر بیان بدلوانیکی کوشش کی جاتی ہے۔ جرح کے دوران جج کو خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے، جج اگر محسوس کریکہ جرح کا حق غلط استعمال ہو رہا ہیتو اسیمداخلت کرنی چاہیے۔