کوئٹہ (پی پی آئی) پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں اس مرتبہ الیکشن کی تاریخ قریب آنے کے باوجود پہلے کی طرح سیاسی سرگرمیاں اور گہما گہمی دکھائی نہیں دے رہی۔صوبے میں متحرک سیاسی قوم پرست اور مذہبی جماعتیں مختلف مسائل پر احتجاج، مظاہرے اور ریلیوں کا انعقاد تو کر رہی ہیں لیکن کسی جماعت نے ہنوز انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز نہیں کیا اور نہ ہی حالیہ دنوں میں کوئی بڑا جلسہ ہوا۔نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ’پہلے کی طرح سیاسی سرگرمیاں اور گہما گہمی نظر نہیں آرہی۔‘تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ان کی جماعت نیشنل پارٹی روزانہ کی بنیاد پر سرگرمیاں کر رہی ہے اور عوام کو متحرک کر رہی ہے۔پی پی آئی کے مطابق سیاسی گہما گہمی میں کمی کی وجہ الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن کے لیے واضح تاریخ اور شیڈول کا اعلان نہ ہونا بھی ہے۔ ’انتخابات کا جنوری میں انعقاد بھی یقینی نہیں ہے، اس لیے سیاسی جماعتیں قبل از وقت اپنی توانائیاں اور وسائل خرچ کرنے میں احتیاط کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
سابق کیوی کرکٹر کرس کینز کا میچ فکسنگ الزامات کے شواہد دیکھنے کا مطالبہ
سریش رائنا کا بھارتی کرکٹ ٹیم سے چھٹی کا امکان
نجم سیٹھی کی تقرری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردی گئی
پی سی بی کے سابق چیئرمین ذکاءاشرف کےخلاف وائٹ پیپر تیار
پاک بھارت بلائنڈ کرکٹ سیریز کا 14فروری سے آغاز ہوگا
انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے بھارت کی رکنیت بحال کردی
تازہ ترین خبریں
ساؤتھ ایئر کے ملک گیر وسیع علاقائی فضائی نیٹ ورک کا آغاز
وانا میں سیکیورٹی فورسز کے ذریعہ بڑی دہشت گردی کی سازش ناکام
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
پنجاب میں سرکاری افسروں کے ٹریولنگ اور ڈیلی الاونس میں اضافہ
لاہور(پی پی آئی)محکمہ خزانہ پنجاب نے افسروں کے ٹریولنگ اور ڈیلی الاونس میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 22کا ڈیلی الاونس اسپیشل 4800سے بڑھاکر 7200کردیا گیا،گریڈ 21کے ڈیلی الاونس اسپیشل میں 2ہزار روپے اضافہ ہواجس کے بعد افسروں کاا سیپشل ڈیلی الاؤنس چار ہزار سے بڑھا کر چھ ہزار کر دیا گیاجبکہ گریڈ19اور 20کا ڈیلی الاونس 3280سے بڑھ کر 4920روپے ہو گیا۔گاڑی پر ٹی اے 5روپے فی کلومیٹر سے بڑھاکر 7روپے فی کلومیٹرکردیا۔نوٹیفکیشن کیمطابق گریڈ 17 اور 18 کے افسروں کا ڈیلی الاؤنس ا سپیشل 2560 سے بڑھا کر 3840 روپے کر دیا گیا،گریڈ 12 سے 16 کا ڈیلی الاؤنس ا سپیشل 1440 سے بڑھا کر 2160 کر دیا گیاہے۔
مقبوضہ کشمیرکے مختلف علاقوں میں میر واعظ عمر فاروق کی تصاویر والے پوسٹرچسپاں
رینگر/مقبوضہ کشمیر(پی پی آئی)بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں پوسٹرچسپاں کئے گئے ہیں جن میں لوگوں سے 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی اپیل کی گئی ہے۔پلوامہ،جموں اورسرینگرسمیت دیگر علاقوں میں دیواروں، ستونوں اور بجلی کے کھمبوں پر چسپاں کیے گئے پوسٹروں میں مقبوضہ علاقے کے لوگوں پر زوردیاگیا ہے کہ وہ اس دن مکمل ہڑتال کریں۔پوسٹروں میں کہا گیا کہ 27اکتوبر کشمیریوں کے لیے سیاہ ترین دن ہے کیونکہ1947میں اسی دن بھارت نے کشمیریوں کی مرضی کے برعکس اورتقسیم برصغیر کے منصوبے کے برخلاف سرینگر میں اپنی فوجیں اتار کر جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کر لیا تھا۔پی پی آئی کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کی تصاویر والے پوسٹروں میں کہاگیا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنا ہندوتوا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتی ہیں۔پوسٹروں میں کہاگیاہے کہ غیر قانونی طور پر نظربند حریت قیادت حق خودارادیت کے حصول کے لئے جدوجہد کو ہر قیمت پر مکمل کامیابی تک جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
تمام سیاسی جماعتیں اختلاف رائے کے باوجود ایک دوسرے کیلئے گنجائش پیدا کریں، مولانافضل الرحمان
اسلام آباد (پی پی آئی(جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل کسی ایک شخص یا جماعت کے پاس نہیں، تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کیلئے گنجائش پیدا کریں۔پی پی آئی کے مطابقاسلام آباد میں ملک کی موجودہ صورتحال پر صحافیوں سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں بالغ نظری کا مظاہرہ کریں، سیاسی جماعتوں کو اختلاف رائے کے باوجود سیاسی گنجائش پیدا کرنی چاہیئے، تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کیلئے گنجائش پیدا کریں, آپس میں گنجائش کا فائدہ کسی ایک جماعت کو نہیں تمام سیاسی جماعتوں کو ہوگا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاسی انتشار اور خلفشار سے نہ جمہوریت مضبوط ہوگی نہ ملکی مسائل حل ہوں گے، سیاستدان کسی سے بھی اختلاف رائے یا الگ موقف رکھ سکتا ہے، مگر اسے سیاسی انتشار کا شکار نہیں ہونا چاہیے، جمہوریت کی مضبوطی ضد اور ہٹ دھرمی میں نہیں بلکہ جمہوری رویوں کی مضبوطی میں ہے۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان اور امت مسلمہ دونوں کئی مشکلات کا شکار ہیں، پاکستان کے مسائل کا حل کسی ایک شخص یا جماعت کے پاس نہیں، معاشی ترقی و استحکام سیاسی و داخلی استحکام کیساتھ جڑا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ افسوس ہے کہ سیاستدانوں کے سبب ماضی اور حال میں جمہوریت کیلئے مشکلات آئیں، لیکن اب سنبھلنا ہوگا، سب کے ماضی کا علم ہے مگر اب جمہوریت کی مضبوطی کیلئے سیاسی گنجائش کے فارمولے کیساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری اور بھٹو خاندان کیساتھ سیاسی اختلاف کے باوجود پرانے تعلقات ہیں، ہم ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شرکت کرتے ہیں، سیاست دانوں میں اختلاف رائے کے باوجود سیاسی گنجائش لازمی ہے۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ سیاسی منشور، سیاسی موقف دینا سب کا حق مگر اولین ترجیحی پارلیمنٹ کی بالادستی ہے، سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے لئے گنجائش پیدا نہیں کریں گی تو نقصان سب کا ہوگا۔
تلاش کریں
خبریں

سابق کیوی کرکٹر کرس کینز کا میچ فکسنگ الزامات کے شواہد دیکھنے کا مطالبہ
آکلینڈ: سابق کیوی آل راﺅنڈر کرس کینز نے خود پر عائد میچ فکسنگ الزامات کے شواہد دیکھنے کا مطالبہ کر دیا۔ انھوں نے میچ فکسنگ الزامات پر سابق کرکٹرز اور آفیشلز کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔کینز کہنا تھا کہ مجھ پر الزامات لگانے والے شواہد کی تفصیلات بھی لے کر آئیں، انھوں نے اس معاملے پر اپنے ملکی کرکٹ بورڈ کے کردار پر افسوس کا اظہار کیا، جس میں سابق کرکٹر رچرڈ ہیڈلی بھی شامل ہیں۔ کینز نیوزی لینڈ کے ان تین کرکٹرز میں سے ایک ہیں جن کیخلاف آئی سی سی کی میچ فکسنگ تحقیقات جاری ہیں، ان کے علاوہ ڈیرل ٹفی اور لو ونسنٹ کے نام بھی سامنے آئے تھے، تاہم آئی سی سی کی جانب سے اس معاملے پر تحقیقات کیے جانے کی تصدیق کو 10 ہفتے گزر چکے ہیں۔ کینز کا کہنا ہے کہ مجھ سے اس بابت ابھی تک کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے، لیکن اس حوالے سے پھیلی ہوئی افواہوں سے میرے پروفیشنل کیریئر کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ کینز نے کہا کہ میں نے سنا تھا کہ اس تحقیقات کے سلسلے میں انگلش پولیس نیوزی لینڈ آئی تھی اور آئی سی سی نے میری سابقہ بیوی کیرن سے جنوبی افریقہ میں رابطہ کیا تھا، لیکن اس معاملے پر سیاہ بادل ابھی تک مجھ پر پھیلے ہوئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ اس حوالے سے اگر حکام کے پاس کچھ شواہد ہیں تو مجھے بھی دکھائے جائیں۔ واضح رہے کہ کینز مارچ 2012 میں بھی آئی پی ایل کے سابق چیئرمین للت مودی پر ہرجانے کا مقدمہ جیتنے پر 90 ہزار پاﺅنڈ حاصل کر چکے ہیں، جس میں مودی نے کینز پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم کینز کا کہنا ہے کہ موجودہ معاملے میں ابھی تک میں قانونی چارہ جوئی پر کوئی فیصلہ نہیں کر پایا ہوں کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میرے خلاف کس قسم کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

سریش رائنا کا بھارتی کرکٹ ٹیم سے چھٹی کا امکان
ممبئی: بھارتی بیٹسمین سریش رائنا کی خراب فارم انہیں ٹی 20ورلڈ کپ اور ایشیا ءکپ کے حتمی اسکواڈ سے باہر نکال سکتی ہے ۔رائنا آخری چوبیس ون ڈے میچوں میں صرف ایک سنچری بناسکے ۔دونوں ایونٹس کے اسکواڈز کے انتخاب کے لئے سلیکشن کمیٹی کا اجلاس آج (بدھ) ہوگا جس میں رائنا کی جگہ چتیشور پجارا کو مل سکتی ہے ۔

نجم سیٹھی کی تقرری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردی گئی
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی سی بی گورننگ باڈی کو تحلیل کرنے کے حکومتی فیصلے اورنجم سیٹھی کی تقرری کو چیلنج کر دیا گیا ۔ملتان کرکٹ بورڈ کے احمد نواز کی جانب سے عبدالرزاق رجب ایڈووکیٹ نے پی سی بی بورڈ کو تحلیل کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی سی بی بورڈ کو غیر قانونی طریقے سے تحلیل اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی۔ درخواست گزار کا کہنا ہے جمہوری حکومت نےغیرجمہوری طریقہ اختیار کیا ، پی سی بی میں جمہوریت ختم کر کے مارشل لاءکا نفاذ کر دیا گیا ہے۔درخواست میں وفاق ، وزیراعظم اور سات رکنی عبوری کمیٹی کو فریق بنایا گیا ہے۔ عبداللہ باہر کی جانب سے ایڈووکیٹ طارق اسد نے نجم سیٹھی کی تقرری کے خلاف ایک متفرق درخواست بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی سی بی چئیرمین کی تقرری انتخابات کے ذریعے ہونی چاہئے، عبوری کمیٹی کی بجائے کرکٹ بورڈ کے آئین کے تحت انتخابات کرائے جائیں ، عبوری کمیٹی کی بجائے کرکٹ بورڈ کے آئین کے تحت انتخابات کرائے جائیں، درخواست میں عبوری چئیرمین نجم سیٹھی ، ممبر گورننگ باڈی شکیل شیخ کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں پی سی بی کے پیٹرن چیف وزیر اعظم کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

پی سی بی کے سابق چیئرمین ذکاءاشرف کےخلاف وائٹ پیپر تیار
لاہور: پی سی بی کی نئی انتظامیہ نے سبکدوش کیے گئے سابق چیئرمین ذکاءاشرف کے کیخلاف وائٹ پیپر تیا رکرلیا ۔ایڈہاک مینجمنٹ کمیٹی کے مطابق سابق چیئرمین ذکاءاشرف نے مالی بے ضابطگیوں کے ساتھ اختیارات کا ناجائز استعمال بھی کیا، وائٹ پیپر میں 13 الزامات اور 10 بڑی ناکامیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ذکاءاشرف ساڑھے 3 کروڑ کا ہوٹل اور گراونڈ بغیر کسی ٹینڈر کے بنوانا چاہتے تھے، جبکہ سپر لیگ کے نام پر 4 کروڑ روپے ضائع کئے، 70 لاکھ کی پرآسائش گاڑیاں خریدیںاور 23 لاکھ روپے کے چیمپئنز ٹرافی 2013ءکے ٹکٹس فیملی میں تقسیم کئے۔وائٹ پیپر میں کرپشن الزامات کے ساتھ ناکامیاں بھی گنوائی گئی ہیں۔ 10 بڑی ناکامیوں میں بنگلہ دیش کی ٹیم کو پاکستان نہ لانا،بگ تھری میں ناکامی، ڈومیسٹک کرکٹ سے کرپشن اور اقرباءپروی کوفروغ، بڑے اسپانسر بھی حاصل نہ کرنا بھی شامل ہے۔ذکاءاشرف پر یہ بھی الزامات ہیں کہ انہوں نے سابقہ پنجاب اور وفاقی حکومتوں میں غلط فہمیاں پیدا کیں اور بورڈ کو سیاسی انداز میں چلایا۔

پاک بھارت بلائنڈ کرکٹ سیریز کا 14فروری سے آغاز ہوگا
کراچی: پاکستان اور بھارت کے درمیان بلائنڈ کرکٹ سیریز14فروری سے کھیلی جائے گی۔ مہمان ٹیم جمعرات کو لاہور پہنچے گی۔کراچی میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کے چیئرمین سلطان شاہ نے کہا کہ بھارتی ٹیم 13 فرورہ کو براستہ واہگہ بارڈر لاہور پہنچے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان تین ٹوئنٹی اور تین ون ڈے میچ کھیلے جائیں گے۔ ٹی ٹوئنٹی مقابلے لاہور اور فیصل آباد میں ہوں گے جبکہ ون ڈے مقابلے نیشنل اسٹیڈیم اور ساوتھ اینڈ کلب میں ہوں گے۔اس موقع پر پاکستان انڈیا بلائنڈ کرکٹ سیریزٹرافی کی رنگا رنگ تقریب رونمائی بھی منعقد ہوئی۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے بھارت کی رکنیت بحال کردی
نئی دہلی: انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے بھارت کی رکنیت بحال کردی ۔ بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کی رکنیت 2012میں اس وقت معطل کی گئی تھی جب آئی او اے ایسے افراد کو منتخب کیا گیا تھا جن پر بدعنوانی کے الزامات تھے ۔ سوچی میں جاری سرمائی اولمپکس میں میں بھارتی کھلاڑی آئی ای سی کے پرچم تلے شریک ہیں لیکن پابندی کے خاتمے کے بعد اب تمام ایتھلیٹ بھارتی پرچم تلے کھیلوں میں حصہ لیں سکےں گے ۔