نئی دہلی(پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیرکی ریاستی حیثیت بحالی کیس کی سماعت مکمل کر کے بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں مقبوضہط جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والین پٹیشنز پر 16 دن تک سماعت ہوئی۔درخواست گزاروں کا مطالبہ ہے کہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کو بحال کیا جائے اور اس کی مکمل ریاست کا درجہ بھی واپس کیا جائے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی قیادت میں پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بنچ نے آرٹیکل 370 سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ بنچ میں چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس ایس کے کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریہ کانت شامل تھے۔سینئر وکلاکپل سبل، گوپال سبرامنیم، راجیو دھون، ظفر شاہ، دشینت دبے نے آرٹیکل 370 کو بحال کرنے کے حق میں اپنی رائے ظاہر کی۔ وہیں اٹارنی جنرل آر وینکٹرامانی، سالیسٹر جنرل تشار مہتا، سینئر وکلا ہریش سالوے، راکیش دویدی، وی گری نے مرکزی حکومت کا موقف پیش کیا اور دفعہ 370 ہٹانے کے فیصلے کو درست بتایا۔
ٹنڈو محمد خان: جئے سندھ متحدہ محاذ کی اپیل پر مکمل ہڑتال
میرپور خاص : غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے کاروبار زندگی متاثر
ٹنڈو محمد خان: سابق ناظمین کا نئی حلقہ بندی پر شدید تحفظات کا اظہار
وزیر اعلیٰ سندھ کے خلا ف بیا ن کی مذمت کرتے ہیں: صوبائی وزیر سید علی مردان شاہ
صوبے کے 17اضلاع میں اسپتال قائم کیے جائیں گے: صوبائی وزیر ڈاکٹر سکندر علی میندھرو
جام شورو: شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر نذیر اے مغل کی زیر صدارت اجلاس
تازہ ترین خبریں
اشتہار
تازہ ترین
مجھے تو چوہدری شجاعت نے پی ٹی آئی میں بھیجا تھا:چوہدری پرویز الہی
اسلام آباد(پی پی آئی) سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہی نے انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ انہیں تو چوہدری شجاعت نے پی ٹی آئی میں بھیجا تھا۔پی پی آئی کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں پیشی پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ پرویز الہی صاحب آپ اپنی پارٹی میں واپس کیوں نہیں جا رہے، جس کا جواب دیتے ہوئے پرویز الہی نے کہا کہ مجھے چوہدری شجاعت نے خود یہاں بھیجا تھا۔صحافی نے پوچھا کہ چوہدری شجاعت پھر خود پی ٹی آئی میں کیونکہ نہیں آتے، جس کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ چوہدری سالک کی وجہ سے نہیں آتے اس کو وزیر بننے کا شوق تھا۔ عدالت پیشی کے موقع پر صحافی نے چوہدری پرویز الہیٰ سے سوال کیا کہ چوہدری صاحب کوئی پریس کانفرنس کرنے کا ارادہ تو نہیں ہے؟۔جس کا جواب دیتے ہوئے صدر پی ٹی آئی نے کہا بالکل نہیں۔عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ مجھے رات بھر تھانہ سی آئی اے میں رکھا گیا ہے، مجھ سے کسی نے کیا ملاقات کرنی، میں ہی کسی سے ملاقات نہیں کرناچاہتا،پرویز الٰہی نے کہا کہ آصف زرداری اور شریف برادران اپنا پیسہ لے آئیں تو ملک کے مالی حالات ٹھیک ہو جائیں۔
بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن،خصوصی عدالتوں کے قیام پر غور
راچی (پی پی آئی)پاکستان میں سالانہ 589 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے جب تک یہ چوری روکی نہیں جاتی عام صارفین کے لیے بجلی سستی نہیں ہو سکتی۔پی پی آئی کے مطابق بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن زیر غور ہے کیونکہ پانچ تقسیم کار کمپنیوں کی 344 ارب روپے کی بلنگ میں سے 100 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے بعض علاقوں میں سالانہ ایک ارب روپے کی نیزسندھ کے ضلع شکار پور میں سالانہ 60 کروڑ روپے کی بجلی چوری کی جاتی ہے۔پی پی آئی کے مطابق بجلی چوروں ے ٹرائل کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے اور صوبائی سطح پر ٹاسک فورس کے قیام پر بھی غور ہو رہا ہے۔۔
سوات اور گردونواح میں شدید زلزلہ، لوگ کلمہ پڑھتے ہوئے گھروں سے باہر آگئے
سوات (پی پی آئی)سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر آ گئے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.7 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی زیر زمین گہرائی 192 کلو میٹر تھی جبکہ زلزلے کا مرکز کوہ ہندو کش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔پی پی آئی کے مطابق زلزلے کے دوران سوات اور گرد و نواح کے لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر آ گئے، زلزلے کے بعد سے تاحال کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
تلاش کریں
خبریں
سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات سنگین خطرہ ہیں:پاسبان
وزیراعظم سے مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات
کھورواہ میں جھگڑے کے دوران خاتون ہلاک ،، 2 مرکزی ملزمان گرفتار

ٹنڈو محمد خان: جئے سندھ متحدہ محاذ کی اپیل پر مکمل ہڑتال
ٹنڈو محمد خان: جئے سند ھ متحدہ محا ز کی اپےل پر ضلع ٹنڈو محمد خان مےں مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی گئی۔ ہڑتا ل کے با عث تما م تجا رتی مراکز شاہی بازار ، بان بازار ، چاندنی چوک ، پاکستانی چوک، اناج منڈی، سبزی منڈی ، اسٹےشن روڈ سمےت تما م تجا رتی مراکز مکمل طور پر بند رہے جبکہ سڑکو ں پر ٹرےفک بھی معمول سے کم رہا جس کے باعث مسافر وں کو پر ےشانی کا سا منا اٹھانا پڑا ،ہڑتال کے باعث اسکولوں مےںبھی طلبہ و طالبات کی حا ضری کم رہی،ہڑتال کے باعث سندھ ےو رنےوسٹی کے تحت ہو نے والے پر چے بھی ملتوی کر دےے گئے ، ہڑتا ل کے مو قع پر ضلع بھر مےں سےکورٹی کے سخت انتظاما ت کئے گئے تھے ، ضلع ٹنڈو محمد خان کے دےگر علا قے بلڑی شا ھ کر ےم ،ٹنڈ و غلا م حےد ر ، شےخ بر کےو ، ملا کا تےا ر ، موےا ، سمےت دےگر علا قو ں مےں بھی ہڑتا ل رہی ۔

میرپور خاص : غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے کاروبار زندگی متاثر
میرپورخاص: میرپورخاص میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ میرپورخاص شہرمیں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا اضافہ کر کے 14سے 16گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ،بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈ نگ کی وجہ سے کاروبار زندگی بری طرح سے متاثر ہو کر رہ گیا ہے تو دوسری جانب گھروں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کا نظا م بھی درہم برہم ہو گیا ہے ،جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا فائدہ حکومت ، جرائم پیشہ افراد او ر مچھروں کو ہی پہنچ رہا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے جرائم پےشہ افراد شہر یوں کواسلحہ کے زور پر لوٹ لیتے ہیں،حکومت کو بجلی کی بچت ہو جاتی ہے جبکہ عوام ہر جانب سے ازیت کا شکار ہیں، شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ میرپورخاص شہر میں کی جانے والی غیر قانونی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا فوی خاتمہ کیا جائے۔

ٹنڈو محمد خان: سابق ناظمین کا نئی حلقہ بندی پر شدید تحفظات کا اظہار
ٹنڈو محمد خان: ضلع ٹنڈومحمدخان کی نئی حلقہ بندیوں اور ٹنڈو سائیں داد یونین کونسل کو ختم کئے جانے کے خلاف سابق ناظمین کی جانب سے شدیدتحفظات کا اظہار کیا گیا۔ سابق ضلع نائب ناظم پیر اشفاق جان سرہندی ،پیر احمد سعید جان سرہند ی ، ڈاکٹر پیر عبدالرحمان جان سرہندی ، پیر ثاقب سجادجان سرہندی ، میر عبدالماجد تالپر ودیگر نے پریس کلب ٹنڈومحمدخان میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ سندھ کی موجودہ حکومت شفاف بلدیاتی انتخابات کرانے کا ارادہ نہیں رکھتی پیپلز پارٹی کے ایم این اے اور ایم پی اے سندھ میں ہونے والی حلقہ بندیوں میں مداخلت کررہے ہیں اور من پسند وڈیروں کوخوش کرنے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں اپنے پارٹی امیدوار وں کو کامیاب کرانے کے لیے حلقہ بندیاں کی جارہی ہیں ، یونین کونسل ٹنڈو سائیں داد 1962میں قائم کی گئی جسے نئی ہونے والی حلقہ بندیوں میں ختم کردیا گیا ،ٹنڈوسائیں داد تاریخی ، ثقافتی اور مذہبی حوالے سے مشہور یونین کونسلیں جسے صرف اور صرف سیاسی تنگ نظریے کی بنیاد پر ختم کردیا گیا ٹنڈو سائیں داد یونین کونسل میں ڈپٹی کمشنر آفیس ، میڈیکل کامپلیکس ، انڈس میڈیکل کالج ، سندھ کی بڑی مال پڑی اور پیٹرول پمپ شامل ہیں یونین کونسل ٹنڈو سائیں داد کو ختم کرکے ایک چھوٹے سے علاقے کو یونین کونسل کا درجہ دینا سمجھ سے بالا تر ہے ٹنڈومحمدخان شہر سے 8کلو میٹر دور علاقے کو ٹنڈو محمدخان کو میونسپل کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے جبکہ یونین کونسل ٹنڈو سائیں داد شہر ٹنڈومحمدخان کا حصہ ہے جس میں تمام سرکاری دفاترقائم ہیں، انھوںنے مزید کہاکہ 1962میں قائم ہونے والی ٹنڈو سائیں داد یونین کونسل کو ختم کرنا صرف اور صرف سیاسی تنگ نظری ہے یونین کونسل ٹنڈو سائیں داد کی عوام اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی اگر ٹنڈو سائیں داد یونین کونسل کو پرانی حیثیت میں بحال نہیں کیا گیا تو بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائیگی اور عدالت کا دروازا کھٹکھٹایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے خلا ف بیا ن کی مذمت کرتے ہیں: صوبائی وزیر سید علی مردان شاہ
کراچی: صوبائی وزیر برائے بہبود آبادی سید علی مردان شاہ نے مسلم لیگ فنگشنل کے رہنما امتیاز شیخ کی جا نب سے وزیر اعلیٰ سندھ کے حوالے سے دیئے گئے بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کر تے ہو ئے کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات عوامی مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی عوام نے پیپلز پارٹی کو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اپنے ووٹ کی طاقت سے اقتدار تک پہنچایا ہے۔اس مو قع پر صو با ئی وزیر سید علی مر دا ن شا ہ نے کہا کہ سید قائم علی شاہ پیپلز پا ر ٹی کے سینئر رہنما ہیں ان کے خلا ف ایسے بیانات با لکل بر دا شت نہیں کرینگے ۔انہوں نے مزید کہا کہ سید قائم علی شاہ نے اپنی پوری زندگی ملک میں جمہوری نظام کے فروغ کے لئے وقف کردی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مشن کو بہتر انداز میں جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ سید قائم علی شاہ نے طویل عرصے کے دو را ن آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ملک میں جمہوری نظام قائم کرنے میں پیش پیش رہے ۔انہو ں نے کہا کہ امتیا ز شیخ ایسے بیا نا ت دے کر اپنے آقا ﺅ ں کو خوش کر نے کی کو شش کر رہے ہیں ۔

صوبے کے 17اضلاع میں اسپتال قائم کیے جائیں گے: صوبائی وزیر ڈاکٹر سکندر علی میندھرو
بدین: صوبائی وزیر برائے ماحولیات ، پارلیمانی اموراورانسانی حقوق ڈاکٹر سکندر علی میندھرو نے کہا ہے کہ حکومت سندھ عام لوگوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے 17اضلاع میں ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال قائم کےے جا رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدین میں ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے تعمیراتی کام کا معائنہ کرنے کے دوران کیا، انھوں نے کہا کہ مذکورہ ہسپتال کی تعمیرکے لیے 1100ملین روپے مختص کےے گئے ہیں جبکہ اس منصوبے کا نوے فیصدکام مکمل ہو چکا ہے اور اسکی تکمیل سے ضلع کے علاوہ ارد گرد کی آبادی کو بھی جدید طرز کی طبی سہولیات مل سکیں گی اور یہ علاقے کا ایک بڑا ماڈل ہسپتال ہوگاجس میں جدید طرز کے سی ٹی اسکین شعبے ، جدید تشخیصی لیبارٹری، اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تقرری کی جائے گی ،اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اشفاق میمن ، ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر عبد الخالق کھٹی ، ڈی ایچ او ڈاکٹر اعجاز عرسانی ، ڈاکٹر محبوب خواجہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدا لرشید شیخ نے بتایا کہ یہ منصوبہ 2014تک مکمل ہوگا اور ہسپتال 47ایکڑز پر مشتمل ہوگا جس میں ڈاکٹروں کے لیے رہائشی اور ن کے بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول ، پلے گراونڈ اور دیگر سہولیات بھی میسر ہوں گی، علاوہ ازیں ضلع بدین میں 5ٹراما سینٹر بھی تعمیر کےے جا رہے ہیں ، صوبائی وزیر نے کہا کہ اس ہسپتال کو پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت چلایا جائے گا، اس موقع پر صحافیوں کے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ محکمہ صحت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اس لیے ہسپتال کا انتظام ان کے حوالے کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ انھوں نے سول ہسپتال بدین میں لیڈی ڈاکٹر وںس کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے وہاں لیڈی ڈاکٹروںکی تعیناتی کی یقین دہانی کرائی ،اس موقع پر پروفیسر محمد امین چنائی، پروفیسر عبد الباری خان ،عدنان اصغر اور کامران شیخ بھی موجود تھے۔

جام شورو: شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر نذیر اے مغل کی زیر صدارت اجلاس
جام شورو: شیخ الجامعہ سندھ جامشورو پروفیسر ڈاکٹر نذیر اے مغل کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں 27 اکتوبر کو ہونے والے ماسٹرز، ایم ایس/ایم فل اور 3 نومبر کو بیچلرز ڈگری پروگرام میں داخلوں کے لیے ہونے والے پری انٹری ٹیسٹ کے انتظامات کے بارے میں تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ایڈمیشن اختر احمد میمن، ڈاکٹر انور علی شاہ جی سید، ڈاکٹر امداد علی اسماعیلی، انچارج ڈائریکٹر فنانس بشیر احمد شیخ، ڈاکٹر سلیم چانڈیو، ڈاکٹر نور محمد جمالی، پروفیسر محمد یوسف پردیسی، ڈاکٹر عبدالرسول عباسی، ڈاکٹر اظہر علی شاہ، ڈاکٹر عابدہ طاہرانی، ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو، ڈاکٹر سرفراز حسین سولنگی، ڈاکٹر حاکم علی قناصرو، ڈاکٹر عبداللہ دایو، ڈاکٹر جاوید اقبال، ڈاکٹر ریاض میمن، ڈاکٹر اسلم پرویز میمن، ڈاکٹر اسد علی شیخ، ڈاکٹر عبدالستار عالمانی، ڈاکٹر پروین منشی، احسان شاہ راشدی، سجاد علی شاہ، انجنیئر قمرالحسن میمن، پرچیز اینڈ اسٹور افسر سلطان بلوچ ، غلام نبی کاکا و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں 27 اکتوبر اور 3 نومبر کو منعقد ہونے والے پری انٹری ٹیسٹوں کے انتظامات پر غور و خوض کے بعد سیکیورٹی سمیت دیگر امور کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ایڈمیشن اختر احمد میمن نے ماسٹرس، بیچلرس اور ایم فل میں داخلے کے لیے جمع ہونے والے فارم کی تعداد کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس میں 3 نومبر پر ہندو برادری کے تہوار دیوالی کے بارے میں تفصیلی غور کرنے کے بعد انٹری ٹیسٹ ملتوی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
