کراچی(پی پی آئی)پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی ہمدردی کا عالمی دن 19اگست کو منایا گیا اس دن کو منانے کا مقصد انسانیت کی بھلائی اور فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والے اداروں،انسان دوست افراد کی اہمیت و عظمت کا اعتراف اور ان کی انسانی ہمدردی کے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔پی پی آئی کے مطابق انسانی ہمدردی کے عالمی دن کی مناسبت سے ملک بھر میں حقوق انسانی کی تنظیموں اور مختلف این جی اوز کی جانب سے مذاکرے سیمینارز اور دیگر تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔کراچی میں منعقدہ تقاریب میں ایدھی ہوم کراچی اور میری ایڈ لپروسی سینٹر میں مادام ڈاکٹر رتھ فاو کی خدمات کو سراہا گیا ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گیارہ دسمبر 2008کو دنیا بھر میں انسان دوستوں کی عظمت کے اعتراف کے طور پر 19اگست کو انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھاجس کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی ہمدردی کا عالمی دن 19اگست کو منایا جاتا ہے۔
ٹنڈو محمد خان: سابق ناظمین کا نئی حلقہ بندی پر شدید تحفظات کا اظہار
وزیر اعلیٰ سندھ کے خلا ف بیا ن کی مذمت کرتے ہیں: صوبائی وزیر سید علی مردان شاہ
صوبے کے 17اضلاع میں اسپتال قائم کیے جائیں گے: صوبائی وزیر ڈاکٹر سکندر علی میندھرو
جام شورو: شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر نذیر اے مغل کی زیر صدارت اجلاس
میرپور خاص: پولیس آفیسر کا چار سالہ بیٹا کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق
پاکستان نے لائرز کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت کو شکست دیدی
تازہ ترین خبریں
اوکاڑہ میں اجتماعات ، شہدائے معرکہ حق کو خراج عقیدت پیش
متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی
- April 23, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
کمسن ملازماوں پر گھریلو تشدداور جنسی ہراسانی
اسلام آباد (پی پی آئی) خیر پور میں کمسن فاطمہ کی بااثر پیر کے ہاتھوں ہلاکت اور اسلام آباد میں جج کی بیوی کے ہاتھوں کم عمر ملازمہ رضوانہ پر بہیمانہ تشدد کے تناظر میں قومی کمیشن برائے وقار نسواں نے کمسن ملازماوں پر گھریلو تشدد‘ تعلیمی اداروں او دفاتر میں جنسی ہراسانی کے خاتمے سے متعلق نگراں وزیراعظم کو تجاویز پیش کی ہیں اوران پر عملدرآمد میں مدد کی درخواست کی ہے۔پی پی آئی کے مطابق قومی کمیشن برائے وقار نسواں نے وفاقی وزیر داخلہ‘ وفاقی سیکرٹری داخلہ‘ چیف سیکرٹریز‘ گورنرز‘ وزرائے اعلیٰ‘ اسلام آباد سمیت تمام صوبائی آئی جیز کو بھی اس نوع کے خطوط لکھے ہیں
اسلام آباد کی اہم شاہراہکو ڈاکٹر روتھ فاوسے منسوب کرنے کا فیصلہ
کراچی (پی پی آئی) وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ کو جرمن نژاد پاکستانی ڈاکٹر روتھ فاو کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کراچی میں میری ایڈ لپروسی سینٹر کے ذریعہ جذام کے پاکستانی مریضوں کاانھوں نے تادم وفات علاج کیا 55 سال سے زیادہ عرصہ پاکستانیوں کی خدمت پر کراچی کے سول اسپتال کو ان سے پہلے ہی موسوم کیا جاچکا ہے اور کئی سرکاری اعزازات سے بھی نوزا گیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق میری ایڈ لپروسی سینٹرانتظامیہ سرکاری طور پر بھی اس فیصلہ سے آگاہ کیا جارہا ہے۔
پی پی کااعتراض سر آنکھوں پر،نئی حلقہ بندیاں آئینی تقاضا ہیں، رانا ثنا اللہ
اسلام آباد (پی پی آئی) سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو معلوم ہونا چاہیے کہ نئی حلقہ بندیاں آئینی تقاضا ہے۔ پی پی آئی کے مطابق رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کے بغیر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے، پیپلز پارٹی کا اعتراض سر آنکھوں پر ہے تاہم مردم شماری جب نوٹیفائی ہوجائے تو حلقہ بندیاں اسی حساب سے ہوتی ہیں، آئینی تقاضہ ہیکہ 2018 کے بعد الیکشن نئی مردم شماری کے تحت ہوگا، کیا ہم یہ سمجھیں کہ پیپلزپارٹی کو آرٹیکل 51کلاز فائیو کا معلوم نہیں تھا، مردم شماری کو اتفاق رائے سے نوٹیفائی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 6 سال سے مردم شماری کا معاملہ چل رہا تھا،سی سی آئی میں پیپلز پارٹی موجود تھی، میں اس بات کا حامی تھا کہ الیکشن 90 روز کے بجائے 60 روز میں ہونے چاہئیں، اگر پچھلی حلقہ بندیوں پر الیکشن کرایا گیا تو وہ غیر آئینی ہوگا، الیکشن فروری میں ہوں گے۔
تلاش کریں
خبریں

ٹنڈو محمد خان: سابق ناظمین کا نئی حلقہ بندی پر شدید تحفظات کا اظہار
ٹنڈو محمد خان: ضلع ٹنڈومحمدخان کی نئی حلقہ بندیوں اور ٹنڈو سائیں داد یونین کونسل کو ختم کئے جانے کے خلاف سابق ناظمین کی جانب سے شدیدتحفظات کا اظہار کیا گیا۔ سابق ضلع نائب ناظم پیر اشفاق جان سرہندی ،پیر احمد سعید جان سرہند ی ، ڈاکٹر پیر عبدالرحمان جان سرہندی ، پیر ثاقب سجادجان سرہندی ، میر عبدالماجد تالپر ودیگر نے پریس کلب ٹنڈومحمدخان میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ سندھ کی موجودہ حکومت شفاف بلدیاتی انتخابات کرانے کا ارادہ نہیں رکھتی پیپلز پارٹی کے ایم این اے اور ایم پی اے سندھ میں ہونے والی حلقہ بندیوں میں مداخلت کررہے ہیں اور من پسند وڈیروں کوخوش کرنے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں اپنے پارٹی امیدوار وں کو کامیاب کرانے کے لیے حلقہ بندیاں کی جارہی ہیں ، یونین کونسل ٹنڈو سائیں داد 1962میں قائم کی گئی جسے نئی ہونے والی حلقہ بندیوں میں ختم کردیا گیا ،ٹنڈوسائیں داد تاریخی ، ثقافتی اور مذہبی حوالے سے مشہور یونین کونسلیں جسے صرف اور صرف سیاسی تنگ نظریے کی بنیاد پر ختم کردیا گیا ٹنڈو سائیں داد یونین کونسل میں ڈپٹی کمشنر آفیس ، میڈیکل کامپلیکس ، انڈس میڈیکل کالج ، سندھ کی بڑی مال پڑی اور پیٹرول پمپ شامل ہیں یونین کونسل ٹنڈو سائیں داد کو ختم کرکے ایک چھوٹے سے علاقے کو یونین کونسل کا درجہ دینا سمجھ سے بالا تر ہے ٹنڈومحمدخان شہر سے 8کلو میٹر دور علاقے کو ٹنڈو محمدخان کو میونسپل کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے جبکہ یونین کونسل ٹنڈو سائیں داد شہر ٹنڈومحمدخان کا حصہ ہے جس میں تمام سرکاری دفاترقائم ہیں، انھوںنے مزید کہاکہ 1962میں قائم ہونے والی ٹنڈو سائیں داد یونین کونسل کو ختم کرنا صرف اور صرف سیاسی تنگ نظری ہے یونین کونسل ٹنڈو سائیں داد کی عوام اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی اگر ٹنڈو سائیں داد یونین کونسل کو پرانی حیثیت میں بحال نہیں کیا گیا تو بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائیگی اور عدالت کا دروازا کھٹکھٹایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے خلا ف بیا ن کی مذمت کرتے ہیں: صوبائی وزیر سید علی مردان شاہ
کراچی: صوبائی وزیر برائے بہبود آبادی سید علی مردان شاہ نے مسلم لیگ فنگشنل کے رہنما امتیاز شیخ کی جا نب سے وزیر اعلیٰ سندھ کے حوالے سے دیئے گئے بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کر تے ہو ئے کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات عوامی مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی عوام نے پیپلز پارٹی کو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اپنے ووٹ کی طاقت سے اقتدار تک پہنچایا ہے۔اس مو قع پر صو با ئی وزیر سید علی مر دا ن شا ہ نے کہا کہ سید قائم علی شاہ پیپلز پا ر ٹی کے سینئر رہنما ہیں ان کے خلا ف ایسے بیانات با لکل بر دا شت نہیں کرینگے ۔انہوں نے مزید کہا کہ سید قائم علی شاہ نے اپنی پوری زندگی ملک میں جمہوری نظام کے فروغ کے لئے وقف کردی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مشن کو بہتر انداز میں جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ سید قائم علی شاہ نے طویل عرصے کے دو را ن آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ملک میں جمہوری نظام قائم کرنے میں پیش پیش رہے ۔انہو ں نے کہا کہ امتیا ز شیخ ایسے بیا نا ت دے کر اپنے آقا ﺅ ں کو خوش کر نے کی کو شش کر رہے ہیں ۔

صوبے کے 17اضلاع میں اسپتال قائم کیے جائیں گے: صوبائی وزیر ڈاکٹر سکندر علی میندھرو
بدین: صوبائی وزیر برائے ماحولیات ، پارلیمانی اموراورانسانی حقوق ڈاکٹر سکندر علی میندھرو نے کہا ہے کہ حکومت سندھ عام لوگوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے 17اضلاع میں ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال قائم کےے جا رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدین میں ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے تعمیراتی کام کا معائنہ کرنے کے دوران کیا، انھوں نے کہا کہ مذکورہ ہسپتال کی تعمیرکے لیے 1100ملین روپے مختص کےے گئے ہیں جبکہ اس منصوبے کا نوے فیصدکام مکمل ہو چکا ہے اور اسکی تکمیل سے ضلع کے علاوہ ارد گرد کی آبادی کو بھی جدید طرز کی طبی سہولیات مل سکیں گی اور یہ علاقے کا ایک بڑا ماڈل ہسپتال ہوگاجس میں جدید طرز کے سی ٹی اسکین شعبے ، جدید تشخیصی لیبارٹری، اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تقرری کی جائے گی ،اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اشفاق میمن ، ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر عبد الخالق کھٹی ، ڈی ایچ او ڈاکٹر اعجاز عرسانی ، ڈاکٹر محبوب خواجہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدا لرشید شیخ نے بتایا کہ یہ منصوبہ 2014تک مکمل ہوگا اور ہسپتال 47ایکڑز پر مشتمل ہوگا جس میں ڈاکٹروں کے لیے رہائشی اور ن کے بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول ، پلے گراونڈ اور دیگر سہولیات بھی میسر ہوں گی، علاوہ ازیں ضلع بدین میں 5ٹراما سینٹر بھی تعمیر کےے جا رہے ہیں ، صوبائی وزیر نے کہا کہ اس ہسپتال کو پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت چلایا جائے گا، اس موقع پر صحافیوں کے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ محکمہ صحت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اس لیے ہسپتال کا انتظام ان کے حوالے کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ انھوں نے سول ہسپتال بدین میں لیڈی ڈاکٹر وںس کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے وہاں لیڈی ڈاکٹروںکی تعیناتی کی یقین دہانی کرائی ،اس موقع پر پروفیسر محمد امین چنائی، پروفیسر عبد الباری خان ،عدنان اصغر اور کامران شیخ بھی موجود تھے۔

جام شورو: شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر نذیر اے مغل کی زیر صدارت اجلاس
جام شورو: شیخ الجامعہ سندھ جامشورو پروفیسر ڈاکٹر نذیر اے مغل کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں 27 اکتوبر کو ہونے والے ماسٹرز، ایم ایس/ایم فل اور 3 نومبر کو بیچلرز ڈگری پروگرام میں داخلوں کے لیے ہونے والے پری انٹری ٹیسٹ کے انتظامات کے بارے میں تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ایڈمیشن اختر احمد میمن، ڈاکٹر انور علی شاہ جی سید، ڈاکٹر امداد علی اسماعیلی، انچارج ڈائریکٹر فنانس بشیر احمد شیخ، ڈاکٹر سلیم چانڈیو، ڈاکٹر نور محمد جمالی، پروفیسر محمد یوسف پردیسی، ڈاکٹر عبدالرسول عباسی، ڈاکٹر اظہر علی شاہ، ڈاکٹر عابدہ طاہرانی، ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو، ڈاکٹر سرفراز حسین سولنگی، ڈاکٹر حاکم علی قناصرو، ڈاکٹر عبداللہ دایو، ڈاکٹر جاوید اقبال، ڈاکٹر ریاض میمن، ڈاکٹر اسلم پرویز میمن، ڈاکٹر اسد علی شیخ، ڈاکٹر عبدالستار عالمانی، ڈاکٹر پروین منشی، احسان شاہ راشدی، سجاد علی شاہ، انجنیئر قمرالحسن میمن، پرچیز اینڈ اسٹور افسر سلطان بلوچ ، غلام نبی کاکا و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں 27 اکتوبر اور 3 نومبر کو منعقد ہونے والے پری انٹری ٹیسٹوں کے انتظامات پر غور و خوض کے بعد سیکیورٹی سمیت دیگر امور کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ایڈمیشن اختر احمد میمن نے ماسٹرس، بیچلرس اور ایم فل میں داخلے کے لیے جمع ہونے والے فارم کی تعداد کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس میں 3 نومبر پر ہندو برادری کے تہوار دیوالی کے بارے میں تفصیلی غور کرنے کے بعد انٹری ٹیسٹ ملتوی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

میرپور خاص: پولیس آفیسر کا چار سالہ بیٹا کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق
میرپورخاص: میرپورخاص کے علاقے عزیز آباد میں کھلے مین ہول میں گر کر پولیس آفیسر کا چار سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا۔ میرپورخاص کے علاقے عزیز آباد میں کھلے ہوئے مین ہول میں گر کر پولیس آفسر ارشد ملک کا چار سالہ بیٹا سعد جاں بحق ہو گیا ،بچے کے انتقال کی اطلاع ملنے پر گھر میں کہرام مچ گیا ماں اور بہنوں پر غشی کے دورے پڑے ،واضح رہے کہ میرپورخاص شہر کے اکثر علاقوں میں مین ہول اور گٹر نالے کھلے ہوئے ہیں جبکہ ٹی ایم اے انتظامیہ اس طرف توجہ ہی نہیں دے رہی جس کی وجہ سے آئے روز معصوم بچے او ر ضیف افراد حادثات کا شکار ہورہے ہیں۔

پاکستان نے لائرز کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت کو شکست دیدی
نئی دہلی: پاکستان نے لائرز کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نا م کر لیا۔فیروز شاہ کوٹلہ کرکٹ اسٹیڈیم نئی دہلی میں چوتھے لائرز کرکٹ ورلڈ کپ کے فیصلہ کن مقابلہ میں گرین شرٹس نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کی پہلی وکٹ جلد گر گئی۔ کپتان جمال سکھیرا ٹوٹل میں 13 رنز کا اضافہ کر کے پویلین جا بیٹھے۔35 اوور کے اس فائنل میں لائرز کی قومی ٹیم نے بھارت کو 229 رنز کا ہدف دیا۔ جواب میں بھارتی ٹیم 160 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ پاکستان کی جانب سے عبداللہ 4 وکٹیں حاصل کر کے نمائیاں رہے
