کوئٹہ (پی پی آئی)کوئٹہ میں سرکاری عمارت پر دستی بم سے حملہ کیا گیا جو ناکام ہو گیا۔پی پی آئی کے مطابق حملہ کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر واقع سرکاری عمارت پر کیا گیا۔ پولیس اور بم سکواڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تحقیقات شروع کر دیں۔پولیس کا کہنا ہیکہ دستی بم سرکاری عمارت پر پھینکا گیا جو پھٹ نہیں سکا۔حملے کے دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
آل ونر اے33 سے لیس ایچ پی 7 جی 2 اور ایچ پی 8 جی 2 ٹیبلٹس فروخت کے لیے دستیاب
اولمپک کمیٹی کا ریو گیمز2016کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار
حکومت یونانی اور ہربل ادویات پر قانون سازی کررہی ہے: سینیٹر عبدالحسیب خان
آسٹریلیا نیشنل کرکٹ سینٹر ، سری رام چندرا یونیورسٹی مشکوک بولنگ ایکشن کے ٹیسٹ سینٹر
اوسلو 2022سرمئی اولمپک کی میزبانی سے دست بردار
منظور شدہ مطالبات کے نوٹیفیکیشن جلد حاصل کئے جائیں:نیازحسین بھٹو
تازہ ترین خبریں
- April 23, 2026
- April 22, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
بجلی کمپنیوں کے افسران کیلئے مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (پی پی آئی)وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بجلی کمپنیوں کے افسران کیلئے مفت بجلی کی سہولت ختم کی جائے نیز موسم سرما میں صنعتی صارفین کو رعایتی نرخوں پر بجلی دینے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔پی پی آئی کے مطابق بتایا گیا ہے کہ گریڈ 17 سے گریڈ 21 کے افسران کو ماہانہ مفت یونٹس کی فراہمی بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس سے سالانہ 6 ارب روپے سے زائد بچت ہو گی۔ گریڈ 17 کے افسر کو 450 ماہانہ مفت یونٹس کی بجائے 15 ہزار 858 روپے دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ گریڈ 18 کے افسر کو ماہانہ 600 مفت یونٹس کی بجائے 21 ہزار 996 روپے دینے، گریڈ 19 کے افسر کو ماہانہ 880 مفت یونٹس کی بجائے 37 ہزار 594 روپے دینے اور گریڈ 20 کے افسر کو ماہانہ 1100 مفت یونٹس کی بجائے 46 ہزار 992 روپے دینے جبکہ گریڈ 21 کے افسر کو ماہانہ 1300 مفت یونٹس کی بجائے 55 ہزار 536 روپے دینے کی سفارش کی گئی ہے۔جنریشن کمپنی کے گریڈ 17 کے افسر کو ماہانہ 650 مفت یونٹس کی بجائے 24 ہزار 570 روپے دینے کی سفارش کی گئی ہے، گریڈ 18 کے افسر کو ماہانہ 700 مفت یونٹس کی بجائے 26 ہزار 460 روپے، گریڈ 19 کے افسر کو ماہانہ 1000 مفت یونٹس کی بجائے 42 ہزار 720 روپے، گریڈ 20 کے افسر کو ماہانہ 1100 مفت یونٹس کی بجائے 46 ہزار 992 روپے اور جنریشن کمپنی کے گریڈ 21 کے افسر کو ماہانہ 1300 مفت یونٹس کی بجائے 55 ہزار 536 روپے دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
مودی حکومت پی ڈی پی پر شدید دباو ڈال رہی ہے، التجا مفتی
سری نگر (پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت پی ڈی پی پر”پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن“ (پی اے جی ڈی) چھوڑنے کے لیے شدیددباو ڈال رہی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں علاقائی سیاسی جماعتوں نے پی اے جی ڈی کی تشکیل 2019 میں اس وقت عمل میں لائی تھی جب نریندر مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی۔ الائنس کے قیام کا مقصد مودی حکومت کے غیر قانونی اقدام کے خلاف مشترکہ مزاحمت کرنا تھا۔پی پی آئی کے مطابق التجا مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی کو بھارتی حکومت کی طرف سے اتحاد چھوڑنے کے لیے زبردست دباؤ کا سامنا ہے لیکن ہمارا یہ ارادہ نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ا لائنس صرف الیکشن لڑنے اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا بلکہ اسکا بڑا مقصد دفعہ 370 کو بحال کرانا،کشمیریوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا اور جموں و کشمیر کے مسئلے کو تمام فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کرانا ہے۔ التجا مفتی نے کہا کہ اگر بی جے پی 2024کے عام انتخابات میں دوبارہ برسراقتدار آتی ہے تو وہ نیا آئین تحریر کرے گی۔
بلوچستان، سند ھ میں کیش سرپلس کے باعث وفاقی مالیاتی خسارہ معمولی کم
پاکستان کا مجموعی مالیاتی خسارہ (آمدنی اور اخراجات میں فرق) خام ملکی پیداوار کے 0.9 فیصد پر آگیا، یہ گزشتہ برس کے اسی عرصے میں ایک فیصد کے مقابلے میں معمولی طور پر کم ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2024 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مالیاتی خسارہ بڑھ کر 962 ارب 80 کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھاتاہم اگر بلوچستان اور سندھ کی جانب سے کیش سرپلس نہ ہوتا تو مالیاتی خسارہ بڑھ کر 10.14 کھرب روپے ہو سکتا تھا، مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بلوچستان نے سب سے زیادہ 71 ارب 16 کروڑ روپے اس کے بعد سندھ نے 19 ارب 9 کروڑ روپے کیش سرپلس رپورٹ کیا، دوسری طرف پنجاب نے 28 ارب 55 کروڑ روپے زیادہ خرچ کیے جبکہ خیبرپختونخوا نے مالیاتی خسارے میں 10 ارب 30 کروڑ روپے کا اضافہ کیا۔پی پی آئی کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان اور سندھ اپنا ریونیو رہائشیوں کے معیار زندگی کو بڑھانے کے لیے استعمال نہیں کر سکے بلکہ وفاقی حکومت کے خسارے کو پورا کیا۔
تلاش کریں
خبریں

آل ونر اے33 سے لیس ایچ پی 7 جی 2 اور ایچ پی 8 جی 2 ٹیبلٹس فروخت کے لیے دستیاب
(October 10, 2014)
چوہائے، چین، 10 اکتوبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکسیاتن — حال ہی میں آل ونر ٹیکنالوجی نے ہیولٹ پیکارڈ کے ساتھ آل ونر اے33 سے لیس ایچ پی 7 جی 2 اور ایچ پی 8 جی 2 ٹیبلٹس کی دستیابی کا اعلان کیا، جو دونوں جی ایم ایس سند کے حامل ہیں۔ آل ونر اے33 چار کورٹیکس-اے7 کورز کو مالی400ایم پی2 گرافکس کے ساتھ جوڑتا ہے تاکہ انتہائی کم توانائی کھپت کے ساتھ شاندار سسٹم کارکردگی پیش کی جا سکے۔ تقریباً 4 ڈالرز کی قیمت کا حامل اے33 دیگر خصوصیات کے علاوہ 1080 پکسل وڈیو پروسس، ایک مکمل ایم آئی پی آئی ڈیایس آئی کنٹرولر، مکمل ہائی-فائی آڈیوکوڈیک اور آل ونر کی اسمارٹ کلرڈسپلے ٹیکنالوجی پیش کرتا ہ، اور اسے سب سے سستا کویڈ-کور ٹیبلٹ پروسیسرکہا گیا ہے۔ رواں سال جون میں اعلان سے اب تک آل ونر اے33 کو عالمی ٹیبلٹ اوڈیایمز اور اوا ی ایمز کی جانب سے منتخب کیا گیا، اور اس کے ایک ملین سے زیادہ یونٹس بھیجے گئے۔ ٹیبلٹ خصوصیات کے لحاظ سے ایچ پی ٹیبلٹ 7 جی 2 کویڈ کور1.2 گیگارٹز آل ونر اے33 پروسیسر، 1 جی بی ریم، 8 جی بی اسٹوریج مع مائیکروایسڈی کارڈ سلاٹ، ایک 7.0 انچ 720 پکسل اسکرین، جی پی ایس، وائی فائی اور بلوٹوتھ 4.0 سے لیس ہے۔ ایچ پی 8 جی 2 میں 7.85 انچ اسکرین مع 1,024×768 پکسل اسکرین، 1 جی بی ریم، 16 جی بی اسٹوریج مع مائیکرو ایس ڈی کارڈ سلاٹ، اسٹیریو اسپیکرز، وائی فائی، بلوٹوتھ اور جی پی ایس کنیکٹیوٹی ہیں۔ دونوں ڈیوائسز اینڈرائیڈ 4.4.2 کٹ کیٹ چلاتی ہیں۔ یہ پہلا آل ونر نہیں ہیں – ہیولٹ پیکارڈ کے ساتھ تعاون کا مقصد کم قیمت پر اعلیٰ کارکردگی کے ٹیبلٹس فراہم کرنا ہے۔ ایچ پی 7 جی2 اور ایچ پی 8 جی 2 کے علاوہ ایچ پی نے گزشتہ سال آل ونر کے پروسیسرز سے لیس اچھی ساکھ رکھنے والے متعدد ٹیبلٹس کی رونمائی کی تھی، جس میں ایچ پی 7 پلس، کومپیک 8 اور دیگر شامل تھے، جن میں سے ہر ایک کو دنیا بھر میں لاکھوں صارفین نے پسند کیا۔ ہم سے رابطہ کریں ٹوئٹر: @AllwinnerTech [email protected] آل ونر کے بارے میں آل ونر ٹیکنالوجی ایک معروف فیبلس ڈیزائن کمپنی ہے جو اسمارٹ ایپلیکیشنزپروسیسرز ایس ا و سیز اور اسمارٹ اینالوگ آئی سیز بنانے سے وابستہ ہے۔ اس کی مصنوعاتی فہرست میں اسمارٹ ڈیوائسز کے لیے ملٹی کور ایپلیکیشنپروسیسرز اور اسمارٹ پاور مینجمنٹ آئی سیز شامل ہیں جنہیں دنیا بھر کے برانڈز استعمال کرتے ہیں۔ جدید یوایچ ڈی وڈیوپروسیسنگ، اعلیٰ کارکردگی کی ملٹی-کور سی پی یو/جی پی یو تکمیل، اور انتہائی کم توانائی کھپت پر توجہ کے ساتھ آل ونر ٹیکنالوجی عالمی ٹیبلٹ،انٹرنیٹ ٹی وی، اسمارٹ ہوم آلات، خودکار ان-ڈیشڈیوائس، اسمارٹ پاور مینجمنٹ اور موبائل سے منسلک ڈیوائس مارکیٹوں کے لیے مرکزی دھارے کا ایک حل فراہم کنندہ ہے۔ آل ونر ٹیکنالوجی کے صدر دفاتر چوہائے، چین میں ہیں۔

اولمپک کمیٹی کا ریو گیمز2016کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار
(October 2, 2014)
ریو ڈی جینرو:انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی نے ریو اولمپک گیمز2016کے لیے برزایل کی تیاریوں پر اطمنان کا اظہار کیا ہے۔انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے عہدیداروں نے ریو اولمپک سینٹر کا تین روزہ تفصیلی دورہ کیاجس کے بعد تیاریوں پر اطمنان کا اظہارکیا۔اولمپک کمیٹی کے کورڈینیشن کمیشن کے چیف نوال المتوکل نے کہا کہ ریو سینٹر کی تیاریاں تسلی بخش ہیں اور اس میں پچھلے سال مارچ میں ہمارے دورے کے بعد بہت ترقی ہوئی ہے،انھوں نے کہا ہمیں اطمنا ن ہے کہ برازیلی حکام سخت شیڈول کے باوجود کامیابی سے گیمز کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔المتوکل نے کہا کہ رواں برس جون اور جولائی میں برازیل کے 12مختلف شہروں میں فٹ بال ورلڈ کپ کے کامیاب انعقاد کے بعد اولمپک کمیٹی گیمز کے حوالے سے مطمئن ہے۔

حکومت یونانی اور ہربل ادویات پر قانون سازی کررہی ہے: سینیٹر عبدالحسیب خان
(October 2, 2014)
کراچی:سینیٹرعبد الحسیب خان نے کہا ہے کہ حکومت یونانی اور ہربل ادویات پر قانون سازی کر رہی ہے اس سلسلے میں تیارکننددگان سے ادویات کی فہرستیں طلب کر لی ہیں ، قانون بننے کے بعد میڈیکیٹڈ صابن ، شیمپو اور بے بی ملک تک رجسٹرڈ ہونگے ۔ وہ کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کے سیکریٹری عامر لطیف ، سیکریٹری ہیلتھ کمیٹی حامد الرحمن ، طفیل احمد ، اخترشاہین رند سمیت گورننگ باڈی کے اراکین بھی موجود تھے ۔ قبل ازیں سینیٹر عبد الحسیب خان نے کراچی پریس کلب کی گورننگ باڈی سے ملاقات کی اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران اور سیکریٹری عامر لطیف سمیت دیگر اراکین بھی موجود تھے۔سینیٹر عبد الحسیب خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک میں ایلوپیتھک کے علاوہ شعبہ طب کے دوسرے طریقہ علاج کو بھی ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے ۔اس سلسلے میں بل پیش کر دیا گیا ہے جو کسی بھی وقت قومی اسمبلی میں حکومت منظوری کے لیے پیش کر دے گی ۔جس کے بعد میڈیکیٹڈ صابن ، شیمپو اور بے بی ملک سمیت دیگر اشیاءرجسٹرڈ ہوں گی ۔تیاررکنندگان سے ان کی ادویات کی فہرستیں طلب کر لی گئی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثرغلط ہے کہ پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں ادویات زیادہ مہنگی ہیں ۔ درحقیقت بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں 75فیصد ادویات سستی اور محض 25 فیصد ادویات مہنگی ہیں ۔ اس کے باوجود کہ بھارت 98فیصد خام مال خود تیار کرتا ہے اور بھارت میں بجلی اورمزدوری بھی سستی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان تیس ملکوں کو ادویات برآمد کرتا ہے ، پاکستان میں 15ہزار سے زائد ادویات رجسٹرڈ ہیں ۔ پاکستان کی سالانہ ادویات کی برآمدات 800ملین ڈالر ہے جو 2018تک بڑھ کر 2ہزار ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی ۔پاکستان ادویات بنانے کے لیے 98فیصد خام مال درآمد کرتا ہے، 15فیصد درآمدی ڈیوٹی ختم کر دی جائےں تو ادویات سستی ہو جائیں گی ۔ عبد الحسیب خان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کے پاس آگیا ہے اور اب کچھ کام شروع ہو رہا ہے ، جعلی اور نقلی ادویات کے قانون پر اگر عملدرآمد کر لیا جائے تو ملک میں صحت کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے ۔جعلی اور نقلی ادویات کا قانون سخت ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے ،عوام بھی اس پر خاموش ہیں ۔

آسٹریلیا نیشنل کرکٹ سینٹر ، سری رام چندرا یونیورسٹی مشکوک بولنگ ایکشن کے ٹیسٹ سینٹر
(October 2, 2014)
بیجنگ:انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے آسٹریلیاکے برسبین نیشنل کرکٹ سینٹر اور بھارت میں چنائی کی سری رام چندرا یونیورسٹی کو مشکوک بولنگ ایکشن کے ٹیسٹ سینٹر کے الحاقی حقوق دے دیے۔آئی سی سی کے مطابق متعلقہ سیٹروں میںموجود کئی طریقوں کو پرکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ جس میں بولر اپنی پوری استعداد سے بولنگ کرنے کے لیے درکار جگہ ،یتنوں اطراف سے جائزہ لینے اور ڈیٹا حاصل کرنے کے حامل12کیمروں کی تنصیب اور مناسب علم رکھنے والی انتظامیہ بھی شامل ہے۔آئی سی سی کے جنرل منیجر کرکٹ جیف الاردیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان سنٹروں کا اجازت نامہ دینے سے بڑے کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کے معاملات میں سہولت ہوگی جبکہ کھلاڑیوں کے بولنگ ایکشن کی جانچ بھی ہوتی رہے گی۔ دونوں سینٹر کھلاڑیوں کے ٹٰیسٹ نتائج کے اجرا اورآئی سی سی کے مروجہ قوانین کے مطابق مشکوک ایکشن کی تصدیق کے لیے کارڈف کی میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے منسلک ہوں گے۔

اوسلو 2022سرمئی اولمپک کی میزبانی سے دست بردار
(October 2, 2014)
بیجنگ:ناروےجن شہر اوسلو 2022سرمئی اولمپک گیمز کی میزبانی سے دست بردار ہوگیا۔ناروے کی حکومت کی جانب سے مالی معاونت سے انکار پر اوسلو میں شہر سرمئی اولمپک گیمز کی میزبانی سے دست بردار ہوگیا۔ناروے کی اس فیصلے کے بعد چین کا شہر بیجنگ اور قازکستان کا شہر الماتے کے درمیان میزبانی کا مقابلہ ہوگا۔اوسلو چوتھا شہر ہے جو اخراجات کے باعث سرمئی گیمز کی میزبانی سے دست بردار ہواہے ، واضح رہے 2014سوچی سرمئی اولمپک میں 51بلین ڈالر کے اخراجات آئے تھے جس کے بعد سویڈن کا اسٹاک ہام،پولینڈ کا کراکواور یوکرین کا شہر لیویو نیلامی سے دست بردار ہوگئے تھے۔ناروے کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ 5.4بلین ڈالر سے زائد مالی اخراجات برداشت نہیں کئے جاسکتے ہیں۔انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے اپنے پیغام میں ناروے کے نیلامی سے دستبر داری کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔آئی او سی کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر کاناروے کے فیصلے پر کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ملک اور شہر دونوں نے ایک موقع ضائع کردیا، انھوں نے کہا کہ ناروے اسپانسر شپ کی مد میں حاصل ہونے والی 880ملین ڈالر کی رقم بھی ضائع کردی ہے جبکہ اولمپک کمیٹی ٹی وی نشریات سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی میزبان ملک کو فراہن کرے گی۔انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی 31جولائی 2015کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں میزبان شہرکا تعین کرے گی۔

منظور شدہ مطالبات کے نوٹیفیکیشن جلد حاصل کئے جائیں:نیازحسین بھٹو
(October 2, 2014)
کراچی: پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی مرکزی کمیٹی کا اجلاس مرکزی صدر نیاز حسین بھٹو کی صدارت میں ہوا۔ مرکزی صدر نے اعلان کیا کہ پیرا میڈیکل ملازمین کے مطالبات کے لیے جاری کوششوں کو تیز کرکے سروس اسٹرکچر ،ہیلتھ الاﺅنس،ہارڈ ورک الاﺅنس، کیجوئلٹی الاﺅنس اور ملازمین کے بچوں کیلئے حالیہ نوکریوں میں سن کوٹہ دلوانے اور دیگر منظور شدہ مطالبات کے جلد ازجلد نوٹیفکیشن حاصل کیئے جائیں گے۔ مرکزی صدر نے پیرا میڈیکل ملازمین کو سفری دشواریوں اور بھاری اخراجات سے بچانے کے لیے اعلان کیا کہ آئندہ کسی بھی ضلع میں مرکزی کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا جائے گااور 29 نومبر کو شیڈول کے مطابق شکارپور میں ہونے والے مرکزی کمیٹی کا اجلاس منسوخ کیا جارہا ہے ۔مرکزی صدر نے نے فیصلہ کیا ہے کہ اب تمام اجلاس کراچی اور حیدرآباد میں ایسوسی ایشن کے دفاتر میں ہونگے اور ان اجلاسوں کے تمام انتظامات مرکز خود کرے گا۔نیاز حسین بھٹو نے کہا کہ ہر دو ماہ کے بعد ضلعی عہدیداراں دور دراز کے اضلاع سے اجلاس میں شرکت کیلئے ہزاروں روپیہ اجلاس کے باعث خرچ کرنے پڑتے ہیں اس لیئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب تمام اجلاس کراچی یا حیدرآباد میں منعقد ہونگے۔مرکزی صدر نے کہا کہ عید کے بعد سانگھڑ ،میر پور خاص ٹنڈوالہ یار اور مٹیاری کے تمام بی ایچ یوزاور اڑ ایچ سیز اور ضلعی ہیڈ کواٹرز ہسپتالوں کا تفصیلی دورہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے ۔ ان اضلاع کے پیرامیڈیکل ملازمین سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کریں ینگے اور ان اضلاع کے عہدیداروں کی کارکردگی کا مشاہدہ کرینگے۔ اجلاس میں مرکزی عہدیداران میں کے علاوہ تمام اضلاع و ڈسٹرکٹ و ڈویژنوں اور یونٹس کے صدر اور جنرل سیکرٹیریز وسینئر ممبران تشریف فرما تھے۔مرکزی صدر نیاز حسین بھٹو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا سابقہ سیکرٹیری صحت انعام اللہ دھاریجو صاحب نے کمال مہربانی کرتے ہوئے پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے کے پیش کردہ 20 مطالبات میں سے 17 مطالبات منظور کرتے ہوئے منٹس آف میٹنگ جاری فرمادیئے ہیںاور اب جبکہ موجودہ ہیلتھ سیکرٹیری اقبال حسین درانی صاحب نے بھی ہمارے مطالبات کی منظوری دے دی ہے۔

