اسلام آباد(پی پی آئی) وفاقی حکومت نے صحت کے تمام اداروں کی نگرانی کیلئے ہیلتھ مینیجمنٹ اتھارٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیاہے،پی پی آئی کے مطابق وزارت صحت کے تحت قائم اس ادارے میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی نمائندگی بھی ہوگی، عوام کو سہولت پہنچانے کیلئے بنیادی ہیلتھ سینٹرز کو بہترین سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو بڑے شہروں میں اسپتالوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
چین-جنوبی ایشیا نمائش میں ٹی سی ایل کی جنوب مشرقی ایشیائی مارکیٹ میں آگے بڑھنے کے منصوبے کے بارے میں بات
ہواوے جنوب مشرقی ایشیا اسمارٹ فون فراہمی میں 2015ء کی پہلی سہ ماہی میں 120 فیصد اضافہ
پھیلتی ہوئی سمندر پار جدید ادائیگی خدمات، یونین پے آسٹریلیا میں کوئیک پاس لے آیا
ہب اسپاٹ نے ایشیا بحر الکاہل میں قدم بڑھا لیے، 2015ء کی چوتھی سہ ماہی میں سنگاپور میں دفتر کھولنے کے منصوبے
اریانہ ٹیلی وژن نیٹ ورک نے افغان قومی فٹ بال ٹیم کے 2018ء عالمی کپ کوالیفائنگ مقابلوں کے دوسرے مرحلے کے لیے خصوصی نشریاتی حقوق حاصل کرلیے
افغان وائرلیس نے کابل میں کائی ٹیکس 2015ء انفارمیشن کمیونی کیشنز ٹیکنالوجی نمائش کی گولڈ اسپانسرشپ کا اعلان کردیا
تازہ ترین خبریں
- April 23, 2026
- April 22, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
صنم جاوید کی پولیس افسروں کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ملتوی
لاہور(پی پی آئی)پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید خان کی رہائی کے بعد گرفتاری پرلاہور ہائیکورٹ نے پولیس افسران کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی۔ پی پی آئی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے صنم جاوید کی درخواست پر سماعت کی، صنم جاوید نے اپنے وکیل شکیل پاشا ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی تھی، عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب سمیت دیگر افسروں نے مقدمات کی رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع کرائی۔ درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پولیس نے بتایا کہ صنم جاوید پر دو مقدمات درج ہیں، عدالت میں غلط بیانی کی گئی اور صنم جاوید کو مزید دو مقدمات میں گرفتار کر کے اے ٹی سی عدالت میں پیش کیا گیا،صنم جاوید کی جانب سے درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔
جسٹس عرفان سعادت نے بطور جج سپریم کورٹ حلف اٹھا لیا
اسلام آباد (پی پی آئی)سپریم کورٹ میں جسٹس عرفان سعادت کی تقریب حلف برداری کی تقریب ہوئی،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس عرفان سعادت سے حلف لیا۔ پی پی آئی کے مطابق تقریب میں سپریم کورٹ کے تمام ججز، اٹارنی جنرل اور وکلا شریک ہوئے،جسٹس عرفان سعادت سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے،جسٹس عرفان سعادت کی تقرری کے بعد سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 16 ہوگئی ہے۔ خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عرفان سعادت کو سپریم کورٹ کے جج کیلئے نامزد کیا گیا تھا۔
آجرسخت دباؤ کا شکار، بڑے پیمانے پر بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ
کراچی (پی پی آئی)ایمپلائرزفیڈریشن پاکستان کے وفد نے سابق صدر مجید عزیز کی قیادت میں ڈسیکرٹری لیبر سندھ شارق احمد، کمشنر سیسی سلیم رضا سے ملاقات کی، پی پی آئی کے مطابق د عزیز نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ زیادہ تر آجر مالی وسائل کے حوالے سے سخت دباؤ کا شکار ہیں حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت32ہزارروپے مقرر کرنے کے حکومتی فیصلے سے مکمل طور پر متفق ہیں۔مجید عزیز کا کہنا تھا کہ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں یا بند ہونے کو ہیں جس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے اثرات بہت بڑی تعداد میں مزدوروں خاص کر کم سے کم اجرت والوں پر پڑیں گے۔ای ایف پی وفد نے یقین دہانی کروائی کہ صنعتی شعبہ لیبر انسپکشن کے نہیں بلکہ لیبر انسپکٹرز کے من مانے اقدامات کے خلاف ہے۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ ای او بی آئی، سیسی، کم از کم اجرت بورڈ اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے بورڈز میں ای ایف پی کو نمائندگی دی جائے۔لیبر سیکرٹری سندھ شارق احمد نے ای ایف پی سے کہا کہ وہ اپنے تمام ممبران کی فہرست فراہم کرے اور انڈسٹریل ٹاؤن ایسوسی ایشنز کے ساتھ ساتھ ٹریڈ ایسوسی ایشنز کو بھی ممبرشپ لسٹ فراہم کرنے کے لیے راغب کرے۔کمشنر سیسی سلیم رضا نے ای ایف پی سے سیسی میں مزید صنعتوں کو رجسٹر کرنے میں مدد کی استدعا کی۔انہوں نے مشورہ دیا کہ وزیر اعلیٰ کو جلد از جلد اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کرنی چاہیے تاکہ مسائل پر بات ہو اور ان کو حل کیا جا سکے۔انہوں نے یہ بھی کہنا تھا کہ غیر ملکی نجی ادارے جو صنعتوں کے کام میں مداخلت کر رہے ہیں ان کی حوصلہ شکنی کی جائے اور صنعتی ماحول کو خراب کرنے سے گریز کیا جائے۔
تلاش کریں
خبریں
چین-جنوبی ایشیا نمائش میں ٹی سی ایل کی جنوب مشرقی ایشیائی مارکیٹ میں آگے بڑھنے کے منصوبے کے بارے میں بات
(June 16, 2015)
شین چین، چین، 15 جون 2015ء / پی آرنیوزوائر– چین کی وزارت اقتصادیات اور یونان کی صوبائی حکومت کے اشتراک اور متعدد جنوبی ایشیائی ممالک کے تجارتی حکومتی دفاتر کی جانب سے مشترکہ طور پر منظم کردہ تیسری چین-جنوبی ایشیا نمائش 12 جون کو کھلی۔ تقریباً ہرجنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی ملک کے قومی رہنماؤں نے نمائش میں شرکت کی، ساتھ ساتھ چینی نائب صدر لی یوان چاؤ بھی شریک تھے، جنہوں نے ٹی سی ایل کارپوریشن کے چیئرمین اور سی ای او ٹامسن لی ڈونگ شینگ کے ساتھ ٹی سی ایل کے پویلین کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کیا اور چین کے جنوب مغربی حصوں اور جنوب مشرقی ایشیا میں مارکیٹوں کے قیام کے منصوبوں پر ٹی سی ایل کی رپورٹ سنی۔ http://photos.prnasia.com/prnvar/20150615/0861505327 چینی معیشت کے تیزی سے بیرون ملک نظریں جمانے کے اس مرحلے پر چین کا صوبہ یونان ملک کے سمندر سے کٹے ہوئے جنوب مغربی خطوں کو جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے منسلک کرنے کے لیے اہم مرکز ہے اور ان خطوں کے لیے دروازے کی حیثیت سے اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ٹی سی ایل کارپوریشن چیئرمین اور سی ای او لی ڈونگ شینگ نے نمائش میں کہا کہ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا ٹی سی ایل کی عالمگیری حکمت عملی کا مرکز ہیں۔ تیسری چین-جنوبی ایشیا نمائش ایک بہت اچھی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے ٹی سی ایل اپنی مصنوعات جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے لیے پیش کرسکتا ہے، ایسے خطے جو بین الاقوامی آپریشنز کو مزید آگے پھیلانے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ جناب لی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ٹی سی ایل مستقبل قریب میں یونان میں پیداواری تنصیبات قائم کرے گا اور جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں مزید آگے بڑھے گا، جہاں سے وہ اپنی جغرافیائی برتری اورچین کی موزوں قومی پالیسیوں (مثلاً چین کا ون بیلٹ، ون روڈ منصوبہ) کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ بڑی بین الاقوامی مارکیٹوں میں جائے گا۔ چینی یونان کا صوبائی دارالحکومت کنمنگ جنوب مشرقی ایشیا کے دس ممالک سے جڑنے والی ریلوے لائنوں کا نقطہ آغاز ہوگا جس میں جنوبی ایشیا میں بھارت اور بنگلہ دیشبھی شامل ہوں گے، اس منصوبے کے ساتھ ٹی سی ایل کی کنمنگ میں قائم پیداواری تنصیبات متعلقہ مارکیٹوں میں نفوذ اختیار کرنے میں مدد کے لیے بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔ مزید برآں، ٹی سی ایل نے پہلے کہا تھا کہ بھارت جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹ اس کی 2015ء کی عالمگیری حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہے۔ تیسری چین-جنوبی ایشیا نمائش میں بھارت ایک اعزازی مہمان ہے، جو ایک اور وجہ ہے کہ ٹی سی ایل کیوں یونان صوبے کو اپنی مجموعی حکمت عملی کا کلیدی حصہ سمجھتا ہے اور چین-جنوبی ایشیائی نمائشوں میں متحرک انداز میں حصہ لیتا رہا ہے۔ رابطہ: مارٹا چین 86-755-33313868+ [email protected] تصویر – http://photos.prnasia.com/prnh/20150615/0861505327
ہواوے جنوب مشرقی ایشیا اسمارٹ فون فراہمی میں 2015ء کی پہلی سہ ماہی میں 120 فیصد اضافہ
(June 16, 2015)
بنکاک، تھائی لینڈ، 15 جون/ انفوکوئسٹ-ایشیانیٹ — 28 مئی 2015ء کو بنکاک، تھائی لینڈ میں ہواوے پی8 اور ویئرایبل ڈیوائسز کے جنوب مشرقی ایشیا میں کامیاب علاقائی اجراء کے بعد، ہواوے نے پی8، پی 8 میکس، پی8 لائٹ، ٹاک بینڈ بی2 اور اے پی007 پاور بینک کو میانمار، لاؤس اور کمبوڈیا، ہانگ کانگ، تائیوان اور دیگر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اور علاقوں میں متعارف کروانے کے ذریعے حاصل ہونے والی تحریک جاری رکھتا ہے۔ ہواوے کی تازہ ترین پرچم بردار مصنوعات کے قبل از وقت آرڈر 2 ہفتے مکمل ہوتے ہی فروخت کے پہلے دن ہی ہواوے پی8 ایک گھنٹے کے اندر اندر فروخت ہوگئے، میانمار میں کی 28 دکانوں پر دستیاب پی8 کی اولین مقدار نے 6 جون 2015کو پورے ملک کا احاطہ کیا۔ صبح 10 بجے سے صرف ایک گھنٹے میں ہی تمام پی8 فروخت ہوگئے۔ ایک دکان کے علاقائی سیلز مینیجر نے بتایا کہ پی8 ان کی دکان کی تاریخ میں بہترین فروخت ہونے والے ہینڈ سیٹ کا نیا ریکارڈ ہے اور وہ اس کے قبل از وقت آرڈر پر حیران ہیں۔ “مجھے یقین ہے کہ پی 8 کی فروخت اس سال بہت زیدہ ہوگی۔” جنوب مشرقی ایشیا میں انتہائی صلاحیت ہواوے کنزیومر بی جی کے سی ای او رچرڈ یو نے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیا ہواوے کے لیے کلیدی مرکیٹوں میں سے ایک ہے، اور ادارہ اس خطے میں ترقی کے حوالےسے کافی امیدیں رکھتا ہے، اسی وجہ سے ہواوے گزشتہ ماہ عالمی اجراء کے فوراً بعد جنوب مشرقی ایشیا میں میزبانی کررہا ہے۔ “جنوب مشرقی ایشیا دنیا کا امید افزاء اور انتہائی صلاحیتیں رکھنے والے اقتصادی خطوں میں سے ایک ہے، اب بھی اور مستقبل میں بھی۔ یہ ایک تزویراتی مارکیٹ اور ہواوے کے صارفی کاروبار کی تیز نمو کا محرک سمجھا جاتا ہے۔ 2014ء میں ہواوے نے خطے میں کل 10 ملین سے زیادہ شپمنٹس کیں۔ اس سال پی 8، پی8 میکس اور پی8 لائٹ کے اجراء کے ساتھ ہم 8 ملین یونٹوں تک رسائی کی توقع رکھتے ہیں، یعنی 167 فیصد اضافہ۔” رچرڈ نے کہا۔ ادارے نے خطے میں علاقائی شپمنٹس میں واضح بہتری بھی دیکھی۔ تھامس لیو، صدر ہواوے کنزیومر بزںس گروپ جنوب مشرقی ایشیا، ے کہا کہ “ہماریحالیہ رپورٹ بتا سکتی ہے کہ 2015ء کی پہلی سہ ماہی میں جنوب مشرقی ایشیا کے لیے اسمارٹ فون شپمنٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 120 فیصد اضافہ ہوا۔” مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے: کیٹی ٹین پی آر مینیجر، سائتھ-ایسٹ ایشیا مارکیٹننگ شعبہ ہواوے کنزیومر بی جی ٹیلی فون: 6626954300+ ای میل: [email protected] ذریعہ: ہواوے کنزیومر بزنس گروپ
پھیلتی ہوئی سمندر پار جدید ادائیگی خدمات، یونین پے آسٹریلیا میں کوئیک پاس لے آیا
(June 16, 2015)
شنگھائی، چین، 15 جون 2015ء/سن ہوا-ایشیانیٹ — یونین پے انٹرنیشنل اور اے این زیڈ نے 11 جون کو ملبورن میں مشترکہ اعلان کیا کہ آسٹریلیا میں اے این زیڈ کے تحت تمام اے ٹی ایمز اور تاجر یونین پے کارڈز (62 سے شروع ہونے والے کارڈ نمبر) قبول کریں گے اور پہلی بار آسٹریلیا میں یونین پے کوئیک پاس سروس دستیاب ہوگی۔ ایک جدید چپ-بیسڈ کانٹیکٹ لیس ادائیگی سروس کی حیثیت سے یونین پے کوئیک پاس کارڈ یافتگان کو سادہ ٹچ کے ساتھ ادائیگی کی سہولت دیتا ہے۔ آسٹریلیا کا سب سے بڑا اسٹور گروپ مائیر کوئیک پاس قبولیت ک ممکن بنانے والا پہلا مقامی تاجر بنے گا۔ “یہ تعاون نہ صرف آسٹریلیا میں یونین پے کارڈ قبولیت کو پھیلائے گا اور ادائیگی تجربے کو ترویج دے گا لیکن ساتھ ہی یونین پے کارڈ قبولیت میں تکنیکی بہتری بھی دکھائے گا جو کارڈ کے استعمال میں تحفظ کو مزید بہتر بناتا ہے اور کارڈ کے استعمال کی عادات بدلنے کے ساتھ تکنیکی جدت طرازی کے رحجان سے میل کھاتا ہے۔” یونین پے انٹرنیشنل کے سی ای او کے جیانبو نے کہا۔ کے نے کہا کہ “یہ یونین پے کارڈ خدمات کی مقامیت اور آسٹریلیا میں ایچ سی ای استعداد کے ساتھ یونین پے کارڈز کے اجراء کے لیے مستحکم بنیاد بھی تیار کرتا ہے۔” یونین پے کارڈ قبولیت 150 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں پھیل چکا ہے جس کے ساتھ 26 ملین سے زیادہ تاجر اور 1.8 ملین اے ٹی ایمز منسلک ہیں جو دنیا بھر میں یونین پے کارڈز قبول کرتے ہیں۔ جدید ادائیگی خدمات جیسا کہ کانٹیکٹ لیس ادائیگی، آن لائن ادائیگی اور موبائل ادائیگی بین الاقوامی مارکیٹ میں تحریک پاچکی ہیں۔ ہانگ کانگ، مکاؤ، جنوبی کوریا اور تائیوان جیسی مارکیٹوں میں جہاں یونین پے کارڈ خدمات نسبتاً پختہ ہیں، یونین پے انٹرنیشنل متحرک طور پر کوئیک پاس سروس کو ترویج دے رہا ہے اور شمال مشرقی ایشیا کا عملی خطہ برائے جدت طرازی شکل اختیار کررہا ہے۔ اے این زیڈ کے تحت تاجر جو یونین پے کارڈز قبول کریں گے تمام کوئیک پاس کو ممکن بناتا ہے، یہ خدمت ایشیا سے باہر کی مارکیٹوں میں پہلی بار دستیاب ہے۔ اس وقت یونین پے چپ کارڈز کا عالمی اجرا 1 ارب کو تجاوز کرچکا ہے جن میں سے 700 ملین کوئیک پاس استعداد رکھتے ہیں۔ چین برعظیم میں 5 ملین سے زیادہ کوئیک پاس ٹرمینلز ہیں؛ آسٹریلیا، جنوبی کوریا، ہانگ کانگ، مکاؤ اور تائیوان میں لاکھوں تاجر کوئیک پاس ادائیگی خدمت رکھتے ہیں۔ تائیوان اور پاکستان میں یونین پے انٹرنیشنل نے ایم پی او ایس حاصل کرنے والی خدمات کا اجراء کیا جو چھوٹے اور مائیکرو تاجروں بشمول مقامی خصوصی دکانوں کو قیمت کے لحاظ سے موثر اور محفوظ طریقے سے یونین پے کارڈز کے ساتھ ادائیگی قبول کرنا ممکن بناتی ہے۔ یونین پے کارڈز کی بین السرحدی آن لائن ادائیگی بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ چینی برعظیم سے باہر کل 10 ملین آن لائن تاجر یونی پے کارڈز کے ساتھ ادائیگی کو ممکن بنا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یونین پے انٹرنیشنل شاپ دی ورلڈ
ہب اسپاٹ نے ایشیا بحر الکاہل میں قدم بڑھا لیے، 2015ء کی چوتھی سہ ماہی میں سنگاپور میں دفتر کھولنے کے منصوبے
(June 15, 2015)
کیمبرج، میساچوسٹس، 15 جون 2015ء/پی آرنیوزوائر — آج معروف اِن باؤنڈ مارکیٹنگ اور فروخت سافٹویئر ادارے ہب اسپاٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2015ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران سنگاپور میں ایک دفتر کھولے گا۔ سنگاپور دفتر ہب اسپاٹ کی ایشیا بحر الکاہل میں نمو کو مدد دے گا اور خطے کے کاروباری اداروں کو صارفین کی توجہ حاصل کرنے، شامل اور خوش کرنے کے طریقے تبدیل کرنے میں مدد دینے کی صلاحیت بڑھائے گا۔ HubSpot, Inc. logo – www.hubspot.com. لوگو –http://photos.prnewswire.com/prnh/20110817/NE53515LOGO سنگاپور دفتر ہب اسپاٹ کے سڈنی، آسٹریلیا دفتر کے بعد خطے میں دوسرا ہوگا اور ادارے کے اے پی اے سی صدر دفاتر کی حیثیت سے کام کرے گا۔ یہ عالمی سطح پر ادارے کا پانچواں دفتر ہے۔ ہب اسپاٹ کے عالمی صدر دفاتر کیمبرج، میساچوسٹس میں ہیں جن کے ساتھ یورپی صدر دفاتر ڈبلن، آئرلینڈ میں اور سیٹلائٹ دفتر پورٹس ماؤتھ، نیو ہمپشائر میں واقع ہیں۔ ہب اسپاٹ کے سی ای او او جے ڈی شیرمن نے کہا کہ “ہمارے سنگاپور دفتر کا اجراء ہب اسپاٹ کے بڑھتی ہوئی عالمی رسائی اور اِن باؤنڈ مارکیٹنگ تحریک کی بین الاقوامی کشش کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ 2014ء میں سڈنی میں پہلے علاقائی دفتر کے قیام کے بعد سے ہم نے ذاتی، ڈیٹا سے تحریک پانے والے صارفی تجربات فراہم کرنے کی خاطر اے پی اے سی میں وسط-مارکیٹ اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھی ہے۔ سنگاپور میں ہماری موجودگی ہب اسپاٹ کو اس طلب پر مزید پیش کرنے کی سہولت دے گی۔” ہب اسپاٹ کا سنگاپور دفتر سیلز، مارکیٹنگ، سروسز اور سپورٹ ٹیموں کا عملہ رکھے گا اور ایشیا بحر الکاہل بھر میں صارفین اور ایجنسی شراکت داروں کے ساتھ بڑھتےہوئے تعلقات پر توجہ رکھے گا۔ ہب اسپاٹ کے بارے میں ہب اسپاٹ ($HUBS) دنیا کی معروف اِن باؤنڈ مارکیٹنگ اور فروخت پلیٹ فارم ہے۔ 2006ء سے ہب اسپاٹ دنیا کو زیادہ اِن باؤنڈ بنانے مشن پر ہے۔ آج 90 سے زیادہ ممالک کے 15,000 سے زائد صارفین ہب اسپاٹ کے سافٹویئر، سروسز اور سپورٹ استعمال کرتے ہیں تاکہ صارفین کی توجہ مبذول کروا سکیں اور ان کو شامل اور خوش کرنے کے طریقے بدل سکیں۔ ہب اسپاٹ کےاِن باؤنڈ مارکیٹنگ سافٹویئر میں سوشل میڈیا اشاعت اور مانیٹرنگ، بلاگنگ، ایس ای او، ویب سائٹ مواد کا انتظام، ای میل مارکیٹنگ، مارکیٹنگ آٹومیشن اور رپورٹنگ اور تجزیے شامل ہیں، سب ایک ہی پلیٹ فارم پر۔ ہب اسپاٹ کی اعزاز یافتہ سیلز ایپلی کیشن سائیڈ ککسیلز اور سروس ٹیموں کو رہنمائی، امکانات اور صارفین کے ساتھ زیادہ موثر گفتگو کے قابل بناتا ہے۔ مزید جانیں www.hubspot.comپر۔
اریانہ ٹیلی وژن نیٹ ورک نے افغان قومی فٹ بال ٹیم کے 2018ء عالمی کپ کوالیفائنگ مقابلوں کے دوسرے مرحلے کے لیے خصوصی نشریاتی حقوق حاصل کرلیے
(June 15, 2015)
کابل، افغانستان، 15 جون 2015ء/پی آرنیوزوائر– افغانستان کے سب سے بڑے نجی ملکیتی ٹیلی وژن اور ریڈیو نیٹ ورک آریانہ ٹیلی وژن نیٹ ورک (اے ٹی این) (www.arianatelevision.com) نے آج اعلان کیا ہے کہ اس نے 2018ء ایشیائی گروپ دوسرے مرحلے کے عالمی کپ کوالیفائنگ مرحلے کے لیے افغانستان قومی فٹ بال ٹیم کے مقابلوں کے خصوصی نشریاتی حقوق حاصل کرلیے ہیں۔ افغانستان کی قومی ٹیم کے گھریلو مقابلے 11 جون 2015ء سے 29 مارچ 2016ء کے دوران مشہد ایران میں کھیلے جائیں گے اور اس میں افغان قومی ٹیم علاقے کی چار سرفہرست قومی ٹیموں کے خلاف زبردست روبرو مقابلوں میں شامل ہوگی، جن میں کمبوڈیا، جاپان، سنگاپور اور شام شامل ہیں۔ اے ٹی این ہر مقابلہ مندرجہ ذیل تاریخوں پر نشر کرے گا: 11 جون افغانستان بمقابلہ شام 8 ستمبر افغانستان بمقابلہ جاپان 12 نومبر افغانستان بمقابلہ کمبوڈیا 29 مارچ 2016ء افغانستان بمقابلہ سنگاپور 11 جون کو پہلے مقابلے میں افغانستان باحوصلہ ٹیم تجربہ کار شام کے مقابل ہوئی۔ افغانستان میں اندازاً 20 ملین سے زیادہ ناظرین نے افغانستان کی قومی ٹیم کو افتتاحی مقابلے میں 6-0 سے شکست کھاتے دیکھا۔ “ہم ملک بھر کے عوام کے ساتھ افغان قومی فٹ بال ٹیم کے دوسرے مرحلے کے 2018ء عالمی کپ ایشیائی گروپ کوالیفائنگ مقابلے پیش کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔” جناب احسان بیات، بانی اے ٹی این اور چیئرمین بیات گروپ نے کہا۔ “اے ٹی این زبردست بین الاقوامی کھیلوں کا مواد فراہم کرنے میں افغانستان ٹیلی وژن رہنما بننے پر فخر محسوس کرتا ہے، اور فیفا کے 2014ء عالمی کپ، انگلش پریمیئر لیگ فٹ بال، اور ایشیائی کھیلوں جیسے دلچسپ مقابلوں کو پیش کرنے کی روایت میں ان مقابلوں کو شامل کرنے پر خوش ہے۔ ہم ایک مرتبہ پھر فخر محسوس کرتے ہیں کہ جب افغان باشندے کھیلوں کے بہترین مقابلے دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ اے ٹی این دیکھتے ہیں۔” اے ٹی این کے بارے میں 2005ء میں اے ٹی این کے بانی اور بیات گروپ (www.bayat-group.com) کے چیئرمین جناب احسان بیات کی جانب سے جاری کردہ اریانہ ٹیلی وژن (اے ٹی این) اور ریڈیو اریانہ 93.5 افغانستان میں سب سے بڑے نجی ابلاغی ادارے ہیں، جو 34 میں سے 33 صوبوں کا احاطہ کررہے ہیں اور 20,000,000 افغانوں تک رسائی رکھ رہے ہیں۔ معلومات، مواد اور تفریح پر توجہ کے جو افغانستان کی روایات اور ثقافت کو دوبارہ روشن کرتے ہیں، اے ٹی این کے پروگرام تعلیم، صحت، بچوں کے پروگراموں، خواتین اور عالمی مساغل پر خاص زور رکھتے ہیں، اور ہم اپنے ناظرین و سامعین کے لیے درست اور کھری خبریں نشر کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اے ٹی این افغان عوام کو “ایک بہتر کل کا دروازہ” پیش کرتی ہے، ریڈیو اور ٹیلی وژن ناظرین و سامعین کو بہترین بین الاقوامی فنون و ثقافت اور افغان لکھاریوں، پیش کاروں، اداکاروں اور ہدایت کاروں کو بہتر مواقع پیش کرکے۔ اپنے ملحقہ اداروں – افغان وائرلیس کمیونی کیشن کمپنی – اور بیات فیملی فاؤنڈیشن کے ساتھ ہم ملک بھر میں 4,000 افغانوں کو ملازمت اور تربیت دیتے ہیں اور افغانوں کی تعمیر اور
افغان وائرلیس نے کابل میں کائی ٹیکس 2015ء انفارمیشن کمیونی کیشنز ٹیکنالوجی نمائش کی گولڈ اسپانسرشپ کا اعلان کردیا
(June 12, 2015)
– 13 سے 16 جون تک ہونے والی نمائش دنیا کے 150 بہترین انفارمیشن کمیونی کیشنز اداروں کو کابل کے افغانستان ایکسپو سینٹر لائے گی کابل، افغانستان، 12 جون 2015ء/ پی آرنیوزوائر– افغانستان کے پہلے موبائل کمیونی کیشنز ادارے اور ملک میں موبائل کمیونی کیشنز مارکیٹ کے بانی اور صارفین اور کاروباری اداروں کو وائس، ڈیٹا اور موبائل بینکنگ خدمات فراہم کرنے والے معروف ادارے افغان وائرلیس ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی (اے ڈبلیو سی سی) (www.afghan-wireless.com) نے آج اعلان کیا ہے کہ ادارہ افغانستان کی سب سے بڑی انفارمیشن و کمیونی کیشنز ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) نمائش کائی ٹیکس 2015ء کا گولڈ اسپانسر ہے۔ کائی ٹیکس 2015ء 13 سے 16 جون تک افغانستان ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوگی۔ کائی ٹیکس 2015ء کی شریک اسپانسر وزارت مواصلات و آئی ٹی ہے۔ کائی ٹیکس 2015ء 150 سے زیادہ آئی سی ٹی اداروں کو یکجا کرتا ہے اور آئی سی ٹی مصنوعات اور خدمات میں جدید پیشرفت اور ابھرتے ہوئے رحجانات پیش کرے گا۔ اے ڈبلیو سی سی، کائی ٹیکس 2015ء کے گولڈ اسپانسر کی حیثیت سے نمائش میں اپنی اہم موجودگی کو ادارے کی اگلی نسل کی وائرلیس کمیونی کیشنز خدمات کے نئے مجموعے کی رونمائی کے لیے استعمال کرے گا، جن میں شامل ہیں: اے ڈبلیو سی سی مائی منی موبائل ایپ اور مائی منی ٹرمینل، ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح اے ڈبلیو سی سی صارفین اے ڈبلیو سی سی کی مائی منی سروس استعمال کرکے ٹرانزیکشن مکمل کرسکتے ہیں۔ اے ڈبلیو سی سی ایچ ڈی وائس انفارمیشن وڈیو پریزنٹیشن۔ اے ڈبلیو سی سی موبائل اکاؤنٹ مینجمنٹ سلوشنز اے ڈبلیو سی سی کی انٹرایکٹو وائس ڈائیلاگ سروس (آئی وی آر)، اے ڈبلیو سی سی کی سیلف کیئر ویب پورٹل اور نئی افغان وائرلیس اکاؤنٹ مینجمنٹ ایپ استعمال کررہے ہیں۔ اے ڈبلیو سی سی 3.75 جی تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز۔ اے ڈبلیو سی سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر جناب امین رامن نے کہا کہ “کائی ٹیکس 2015ء عالمی معیار کی ان مصنوعات اور خدمات کو ظاہر کرنے کا شاندار موقع ہے جو اے ڈبلیو سی سی اپنے صارفین کو فراہم کرتا ہے۔ ہم اپنے مسابق اداروں، تزویراتی شراکت داروں اور صارفین پر یہ ظاہر کرکے خوش ہیں کہ کیوں اے ڈبلیو سی سی افغانستان کا سب سے جدید – اور کامیاب ترین – وائر لیس کمیونی کیشنز ادارہ ہے۔” افغان وائرلیس کے بارے میں: افغان وائرلیس کمیونی کیشن کمپنی (اے ڈبلیو سی سی) (www.afghan-wireless.com) افغانستان کا پہلا وائرلیس کمیونی کیشنز ادارہ اور افغانستان کی وائرلیس کمیونی کیشن مارکیٹ کا بانی ہے۔ 2002ء میں بیات گروپ (www.bayat-group.com) کے چیئرمین جناب احسان بیات کی جانب سے شروع کردہ اے ڈبلیو سی سی چار ملین سے زیادہ کاروباری اور عام صارفین کو 2.5 جی، 3 جی اور تیز رفتار 3.75 جی وائس، ڈیٹا، انٹرنیٹ اور موبائل بینکاری خدمات فراہم کرتا ہے، جو افغانستان کے تمام چونتیس صوبوں میں رہتے ہیں۔ ادارہ 125 ممالک میں 425 وائرلیس کیریئر نیٹ ورکس کے ساتھ عالمی شراکت داریاں رکھتا ہے۔ افغانستان کی اقتصادی ترقی میں رہنما اے ڈبلیو سی سی کی اپنے براہ راست آپریشنز کے ذریعے 6,000 سے
