اسلام آباد (پی پی آئی)جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی اور کہا کہ سابق وزیر اعظم آئندہ جنوری سے آگے انتخابات مؤخر کرنے کے جے یو آئی کے مطالبے کی حمایت کریں جس پر صدر مسلم لیگ (ن) نے اپنی پارٹی سے مشاورت کے لیے وقت طلب کیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے شہباز شریف سے کہا کہ وہ انتخابات کو جنوری سے آگے مؤخر کرنے کے ان کے مطالبے کی حمایت کریں جب کہ موجودہ حالات میں دونوں جماعتوں کو مشترکہ سیاسی پیش قدمی کرنی ہے۔ذرائع نے ملاقات کے بعد ڈان کو بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نے ان سے کہا کہ وہ کوئی وعدہ کرنے سے قبل اس تجویز کو اپنی پارٹی کی قیادت کے ساتھ اٹھائیں گے۔مسلم لیگکے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کے علاوہ سردار ایاز صادق اور عطا اللہ تارڑ نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔
حیدرآباد میں عالمی یوم تپ دق پر ٹی بی کنٹرول سندھ کی جا نب سے واک کا اہتمام
ملک کسی بھی قسم کی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا: ایم کیو ایم ذونل انچارج نوید شمسی
لیاری یونیورسٹی میں 133طلبا کو اسکالر شپس دی جائیں گی: وائس چانسلر
شماریات سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی ممد معاون ثابت ہو گا: شماریاتی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب
سندھ ہائی کورٹ نے سی آئی ڈی اہلکاروںکے ناقا بل ضمانت وارنٹ جا ری کر دیے
مسلم لیگ (ف) کے رہنما کو ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتار نہ کیاجائے: سندھ ہائی کورٹ
تازہ ترین خبریں
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
سارہ انعام قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہنواز امیر کا بیان 18 اکتوبر کو ریکارڈ کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (پی پی آئی)اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے کہا ہے کہ سارہ انعام قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کا بیان 18 اکتوبر کو ریکارڈ کیا جائے گا جب کہ وکیل دفاع آج کی سماعت سے غیر حاضر رہے۔پی پی آئی کے مطابق سارہ انعام قتل کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر راناحسن عباس سیشن جج اعظم خان کی عدالت میں پیش ہوئے جب کہ وکیل صفائی بشارت اللہ سپریم کورٹ میں مصروفیات کے باعث آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔وکیل صفائی بشارت اللہ کے معاون وکیل کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئندہ سماعت پر ملزم شاہنواز امیر کا 342 کا بیان جمع کروا دیں گے۔سیشن جج اعظم خان نے درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وکیل صفائی کو عدالت پیش ہونیکی ہدایت کردی۔عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کا 342 کا بیان قلمبند کرنے کے لیے نئی تاریخ 18 اکتوبر مقرر کردی۔واضح رہے کہ سارہ انعام کینیڈین شہری تھیں، جنہیں گزشتہ برس ستمبر میں چک شہزاد میں فارم ہاؤس میں شاہنواز امیر نے قتل کردیا تھا۔جج اعظم خان نے گزشتہ روز سماعت کے دوران قتل کیس میں تفتیشی افسر اور پراسیکیوشن کے گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے تھے، اور اب عدالت نے شاہنواز کو طلب کر لیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ کو قتل کر دیا تھا۔سیاستدان اور صحافی ایاز امیر کے صاحبزادے شاہنواز امیر کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔
عثمان ڈار، صداقت عباسی کی طرح کا کام کرنا ہوتا تو کر چکا ہوتا، اسد عمر
اسلام آباد (پی پی آئی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسدعمر نے جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے دوران گفتگو سپریم کورٹ کے کل کے فیصلے کہاکہ کل کا فیصلہ درست ہے۔پی پی آئی کے مطابق صحافی نے سوال کیا کہ نواز شریف وطن واپس آئیں گے؟ جس پر اسد عمر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ اچھا سوال ہے کہ نواز شریف واپس آئیں گے یا نہیں۔اسد عمر نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شہباز شریف کیوں خوش ہے؟ ایک فیصلے پر تحریک انصاف بھی خوش ہے اور شہباز شریف بھی خوش ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ سائفر کیس میں چیئرمن پی ٹی آئی اندر ہیں اور آپ کو ریلیف مل گیا ہے، جس پر اسد عمر نے جواب دیا کہ سائفر کیس میں الزام یہ ہے کہ جن کو ملا انھوں نے ٹھیک استعمال نہیں کیا، ہمارا ماننا ہے کہ قانونی استعمال کیا ہے۔اسدعمر نے کہا کہ سائفر 4 لوگوں میں آتا ہے، جن میں وزیراعظم، وزیر خارجہ، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی شامل ہیں، پلاننگ منسٹر کہاں سے آ گیا، ایف آئی آر میں میرا صرف نام آیا ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ عثمان ڈار اور صداقت عباسی کی طرح کیا آپ بھی پروگرام میں جائیں گے؟ جواب میں اسد عمر نے کہا کہ اگر میں نے کوئی ایسا کام کرنا ہوتا تو کر چکا ہوتا۔
الیکشن کمیشن حملہ کیس میں اسدعمر کی درخواست بریت انسداد دہشت گردی عدالت میں دائر
اسلام آباد (پی پی آئی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسدعمر نے الیکشن کمیشن حملہ کیس میں بریت کی درخواست انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں دائر کردی ہے۔وکیل صفائی سردار مصروف نے اسد عمر کی بریت کی درخواست اے ٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں میں دائر کی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسد عمر کے خلاف کوئی ثبوت برآمد نہیں ہوا، عدالت کا قیمتی وقت ضائع نہ کیاجائے، اسدعمر کو کیس سے ڈسچارج کیا جائے۔
تلاش کریں
خبریں
سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات سنگین خطرہ ہیں:پاسبان
(June 17, 2026)
وزیراعظم سے مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات
(June 17, 2026)
کھورواہ میں جھگڑے کے دوران خاتون ہلاک ،، 2 مرکزی ملزمان گرفتار
(June 17, 2026)

حیدرآباد میں عالمی یوم تپ دق پر ٹی بی کنٹرول سندھ کی جا نب سے واک کا اہتمام
(March 24, 2014)
حیدر آباد: 24مارچ عالمی یوم تپ دق کے موقع پر ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسو سی ایشن اور ڈائریکٹوریٹ ٹی بی کنٹرول سندھ کی جانب سے “واک “کا اہتمام کیا گیا ۔ بعد ازیں ٹی بی کے حوالے سے سیمینار منعقد ہوا ۔ عالمی ادارہ صحت نے سال 2014کے لیے پاکستان کے متعلق اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہر سال 5لاکھ ٹی بی کے نئے مریض پیدا ہو رہے ہیں جس میں سے 3لاکھ مریض ٹی بی کا علاج کرواتے ہیں جبکہ باقی 2لاکھ مریض ٹی بی کا علاج شعور نہ ہونے کے باعث نہیں کروا پاتے جبکہ حکومت پاکستان نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام کے تحت گوبل فنڈز کی بدولت ٹی بی کی مفت تشخیص اور علاج فراہم کر رہی ہیں ادویات وافر مقدار میں ہر ٹی بی کے سینٹر میں میسر ہے ہے اس سال ٹی بی سے متعلق نعرہ “ہر سال دو لاکھ مریضوں کا علاج یقینی بنانا ہے اپنا کردار نبھانا ہے ،قرار دیا ہے ۔ اس موقع پر صدر سندھ ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسو سی ایشن حیدرآباد ڈاکٹر عبد الصمد شیخ لیبیا والے نے کہا 24مارچ 1882کو جرمن سائنسدان ڈاکٹر سر رابرٹ کا ک نے ٹی بی کے مرض کا سبب بننے والا جرثومہ دریافت کیا جس کی وجہ سے ادویات بننا شروع ہوئیں ، آج ٹی بی کا مرض قابل علاج ہے اس لیے دنیا بھر میں 24مارچ کو عالمی یوم تپ دق منایا جاتا ہے۔ ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسو سی ایشن حیدرآباد گذشتہ پچاس سال سے زائد اس مرض کے علاج معالجہ میں مصروف ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 17لاکھ افراد اس بیماری کی علاج کی آگاہی نہ ہونے کے سبب ہلاک ہو جاتے ہیں۔ انشاءاللہ ہم 2025تک پاکستان کو ٹی بی سے پاک بنا دینگے ۔ میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ٹی بی کے مریضوں کیلئے فوڈ سپورٹ پروگرام شروع کریں تاکہ مریض مکمل اور جلد صحت یاب ہو جائیں اور معاشرے میں ایک بار پھر اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے ۔ ڈائریکٹر ٹی بی کنٹرول سندھ ڈاکٹر عصمت آرائَ خورشید نے کہا کہ ٹی بی کے خاتمے کا حل W.H.O\N.T.P/P.T.Pکے معترف کر دہ طریقہ علاج “ڈاٹس”کے ذریعے یقینی ہے اس طریقہ کے تحت مریض کسی ذمہ دار شخص کے زیر نگرانی ٹی بی کی ادویات کا درست استعمال پورے چھ/آٹھ ماہ تک کرتا ہے۔اس مقصد کے تحت سندھ بھر میں 270ٹی بی کے مفت تشخیصی مراکز اور 943مفت علاج کے مراکز کام کر رہے ہیں ۔ صوبائی ٹی بی کنٹرول پروگرام ٹی بی کی ادویات بغیر کسی رکاوٹ کی فراہم کر رہا ہے اور ضلع بھر کے تمام ٹی بی مراکز پر ٹی بی کی ادویات اور لیبارٹری کے کیمیکلز وافر مقدار میں موجود ہیں ۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر منظور عیسانی اور ڈپٹی ڈائریکٹر ٹی بی کنٹرول سندھ حیدرآباد ڈاکٹر اعجاز تالپور نے ٹی بی کے مریضوں بارے میں شعور اجاگر کرنے کیلئے اساتذہ ، وکلاء، سول سوسائٹی ، این جی اوز اور میڈیا کی تعاون کی اہمیت پر زوردیا ۔ نیشنل پروگرام

ملک کسی بھی قسم کی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا: ایم کیو ایم ذونل انچارج نوید شمسی
(March 24, 2014)
حیدر آباد: ظلم و نا انصافی کسی بھی معاشرے میں بغاوت کو جنم دیتی ہے اور بغاوت کسی بھی ریاست کی تقسیم کا باعث بنتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ حیدرآباد کے زونل انچارج نوید شمسی واراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ۔انھوں نے مزید کہا کہ ہمارا ملک اب کسی بھی تقسیم کا متحمل نہیں ہوسکتا اور جو عناصر ملک میں اپنے اقتدار اور مفاد کےلئے مظلوم و محکوم عوام کو اس کے جائز حق سے محروم رکھے ہوئے ہیں وہ ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ الطاف حسین کی جدوجہد ملک میں مظلوم و محکوم عوام کو ان کے جائز حقوق فراہم کرنا ہے اور الطاف حسین کے نظریہ پر گامزن ہوکر ہی ہم اپنے ملک کو متحد ومستحکم بنا سکتے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ ہم اپنے وطن میں جنم لینے والی نفرتوں کا خاتمہ صرف اور صرف عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام سے ہی کرسکتے ہیں اور اپنے ملک کو امن و خوشحالی کا گہوارہ بناسکتے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ ارباب اختیار کو ملک اور قوم کی بقاءاور خوشحالی کے لیے اقتدار اور مفاد سے بالاتر ہوکر فیصلے کرنے ہونگے تب ہی ہمارا ملک ترقی یافتہ ،خوشحال اور مستحکم بن سکتا ہے ۔

لیاری یونیورسٹی میں 133طلبا کو اسکالر شپس دی جائیں گی: وائس چانسلر
(March 24, 2014)
کراچی: بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر ڈاکٹر رشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے ذہین اور محنتی طالب علموں کی حوصلہ افزائی کے لئے یونیورسٹی نے وظیفہ اور میرٹ اسکالر شپ پروگرام کا تین برس قبل آغاز کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ 3 برسوں سے ہر سمسٹر کے آخر میں ہونہار طالب علموں کو فی سمسٹر 8 ہزار روپے دیئے جاتے ہیں اور اس عرصہ کے دوران ایسے 138 طالب علموں کو وظیفہ دیا گیا ہے جن کی حاضری 80 فی صد تھی اور وہ تمام مضامین میں پاس تھے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کی زکواہ وعشر کمیٹی کے تعاون سے 133 مستحق طالب علموں کو میرٹ اسکالر شپس کے لئے منتخب کیا گیا ہے اور جلد ہی انھیں چیک دیئے جائیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی ہر حال میں اپنے ہونہار اور ذہین طالب علموں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی تاکہ وہ مالی مسائل سے بے فکر ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں ۔

شماریات سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی ممد معاون ثابت ہو گا: شماریاتی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب
(March 24, 2014)
کراچی: شماریات ایک ایسا مضمون ہے جس کو سائنس اور دیگر مضامین میں ایک انفرادیت حاصل ہے۔ گذشتہ کئی سالوں میں دنیا بھر میںشماریات کی اہمیت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس مضمون کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، شعبے طب میں شماریات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ شماریات نہ صرف قومی تعمیر میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ شماریات نہ صرف تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی بلکہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی بہتری میں بھی ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے، پاکستان میں طلباو طالبات کو شماریات سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار ماہرین اورمقررین نے ڈاﺅ یونیورسٹی میں تین روزہ شماریاتی سائنسز پر بین الاقوامی ای ایس او ایس ایس کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔ کانفرنس کا انعقاد ڈاﺅ یونیورسٹی نے اسلامی ممالک کی سوسائٹی آف شماریاتی سائنسز (ائی ایس او ایس ایس) ، ہائر ایجوکیشن کمیشن، ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی، فیڈرل اردو یونیورسٹی اور پاکستان سائنس فاﺅنڈیشن کے باہمی اشتراک سے کیا ۔کانفرنس میں150سے زائد قومی اور بین الاقوامی ماہرین اور مقررین نے تحقیقاتی مقالے پیش کیے ۔ نیپال، ملائیشیا، چین، قطر اور دیگر مختلف ممالک سے مقررین ڈاﺅ یونیورسٹی کے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر شمارتی سائنسز پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ہمددرد فاﺅڈیشن کی سربراہ سادیہ راشد، ائی ایس او ایس ایس کے سربراہ پروفیسر منیر احمد، ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سرفراز حسین، فیڈرل اردو یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر فہیم الدین، کراچی یونیورسٹی کی پروفیسر غزالہ رضوان،ڈاﺅ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان، پرووائس چانسلر پروفیسر عمر فاروق ، ریسریچ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر نذید خان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر ماہرین اور مقررین نے ملک کی پالیسی سازی کیلئے قابل شماریات حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے مزید کہاکہ شعبے طب میں شماریات کو بہت اہمیت حاصل ہے، دنیا کے ترقی پزیر ممالک میں طلباو طالبات کو شماریات کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے۔ آج کل شماریات کو تعلیم و تحقیق کے میدان میں استعمال کیا جارہا ہے۔اس موقع پر انھوں نے ڈاﺅ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمد ضان اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔اس موقع پر نیپال، ملائیشیا، چین، قطر اور دیگر مختلف ممالک سے آئے مقررین نے شمارتی سائنس پر مقالے پیش کیے۔

سندھ ہائی کورٹ نے سی آئی ڈی اہلکاروںکے ناقا بل ضمانت وارنٹ جا ری کر دیے
(March 24, 2014)
کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے قوم پرست کارکنوں کو سی آئی ڈی کی جانب سے بلاجواز گرفتار کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سی آئی ڈی کے دو اہلکار انسپکٹر راجہ خالد اور سب انسپکٹر شوکت کو نوٹس کی تعمیل نہ کرنے پر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔جئے سندھ محاز کے ممتاز بروہی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آصف سومرو اور عبدالرحیم اور محمد ہارون کو 23 مئی دو 2013کو سی آئی ڈی کے سادہ لباس اہلکاروں نے گرفتار کرکے حبس بے جا میں رکھا جبکہ مکان سے ٹی وی ،سی ڈی پلیئر ،لائسنس یافتہ اسلحہ اور دیگر سامان بھی ہمراہ لے گئے جو کہ واپس نہیں کیا گیا ،اس درخواست پر عدالت نے متعدد متعلقہ افسران کو بارہا نوٹس جاری کیے تاہم تعمیل نہ کیے جانے پر عدالت نے مذکورہ افسران کے 31 مارچ تک کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور ایس ایس پی سی آئی ڈی کو ان افسران کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کیے۔

مسلم لیگ (ف) کے رہنما کو ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتار نہ کیاجائے: سندھ ہائی کورٹ
(March 24, 2014)
کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ف) کے رہنما خادم حسین کو ہراسان اور ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ سندھ ہائی کورٹ میں مسلم لیگ (ف) کے رہنما خادم حسین نے درخواست دائر کی تھی کہ ان کے سیاسی حریف منظور وسان کی ایما پر ان کو پولیس تنگ کررہی ہے ،اور ان کے خلاف مقدمات دائر کیے جارہے ہیں ،پولیس کو اس عمل سے روکا جائے اور ایماندار افسر مقرر کرکے تحقیقات کرائی جائیں ،اس درخواست پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ عدالت میں پیش ہوے ،انھوں نے عدالت کو بتایا کہ خادم حسین کے خلاف مقدمات درست ہیں اور ان کی تحقیقات کی جاررہی ہیں ،جس پر عدالت نے حکم دیا کہ جو تفتیش کی جارہی ہے وہ جاری رکھیں لیکن ان کو ہراساں نہ کیا جائے اور نہ ہی ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتار کیا جائے۔