ٹائمز اسکوائر پر نصب اسکرین پر تشہیری فلم کے ذریعے ٹی سی ایل کی برانڈ تسلیم شدگی میں مزید اضافہ

فیملی موبائل ایپ، بونڈوِدمی، نے عالمی سطح پر آغاز کردیا

لوئی چی وو انعام کی رونمائی عالمی تہذیب کی ترقی میں نئے باب کا آغاز

اقوام متحدہ کے اجلاس میں عالمی تعلیم پر نئے کمیشن کے لیے رہنماؤں کی تقرری

پاکستان کا ادائیگی کو ڈیجیٹائز کرکے معیشت میں لاکھوں افراد کو شامل کرنے کا منصوبہ

گی ہوایونگ، چیئرمین چائنا یونین پے: آسان ادائیگی خدمات سیاحتی صنعت کی ترقی اور اسے تبدیل کردینے میں مدد دے گی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

ٹائمز اسکوائر پر نصب اسکرین پر تشہیری فلم کے ذریعے ٹی سی ایل کی برانڈ تسلیم شدگی میں مزید اضافہ

شین چین، چین، 30 ستمبر 2015ء/ پی آرنیوزوائر– ستمبر میں نیو یارک شہر کے مشہور زمانہ ٹائمز اسکوائر پر آنے والوں نے ٹی سی ایل کے چیئرمین ٹامسن لی ڈونگ شینگ کو دیکھا جو اس وسیع و عریض چوک پر آویزاں ایک اسکرین پر نمودار ہوئے، اور ساخت گری کی صنعت میں ادارے کے 34 سالوں کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ “صرف ثابت قدمی اور عزم کی بدولت ہی ہم چین کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی بن سکے۔ مستقبل میں ٹیکنالوجی میں عالمی جدت طرازی اور نمو کے مواقع دونوں چین میں ملیں گے۔” TCL Boosts Brand Recognition with a Promotional Film Displayed on the Screen Overlooking Times Square. http://photos.prnasia.com/prnvar/20150929/0861509310 چینی اداروں کی بڑی تعداد اپنے برانڈز کی ترویج کے لیے نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر پر نصب کئی اسکرینوں پر مختصر فلمیں چلانے کا انتخاب کرچکی ہے- ایک ایسا مقام جو 2011ء میں انہی اسکرینوں پر ملکی ترویج کے لیے مختلف مختصر فلموں کا سلسلہ چلانے کے لیے چینی حکومت کے انتخاب کے بعد سے چین میں قائم معروف اداروں کے شعبہ مواصلات کے لیے لازمی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اس وقت جبکہ چین کے صدر سی جن پنگ امریکا کے دورے پر ہیں، چین میں قائم عالمی انٹیلی جنٹ پروڈکٹ تیار کرنے اور انٹرنیٹ ایپلی کیشن سروسز دینے والے گروپ ٹی سی ایل کارپوریشن ٹائمز اسکوائر کی اسکرینوں پر اپنے برانڈ تاثر کی فلم چلائی، جو چینی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر خدمات انجام دینے کے مقصد کے اظہار کے ذریعے ساخت گری میں رہنما کے طور پر برقرار رہنے سے وابستگی کی مظہر ہے۔ ٹی سی ایل نے اپنی برانڈ ترویج کی کوششوں کے عالمی آغاز کےمقام کے طور پر نیویارک کا انتخاب کیا صرف اس لیے نہیں کہ یہ امریکا کا مالیاتی دارالحکومت اور عالمی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہے، بلکہ اس لیے یہ کہ ادارے کے بین الاقوامی تزویراتی مقاصد اور امریکی مارکیٹ میں اس کی شاندار کارکردگی کا عکاس بھی ہے۔ 2004ء میں امریکا میں مارکیٹ توسیع کے لیے ٹی سی ایل نے تھامسن کے رنگین ٹی وی کاروبار کو حاصل کرلیا تھا، جس کے بعد ٹی سی ایل امریکا میں قائم متعدد ای-کاروباروں اور صارفی برقیاتی اداروں کے ساتھ مستحکم شراکت داریاں قائم کیں۔ ٹی سی ایل اور برقی کاروبار کے بڑے ادارے ایمیزن نے 2011ء میں تعاون کا آغاز کیا، جس نے امریکی مارکیٹ میں ٹی سی ایل کی تزویراتی حالت کو مرحلہ وار بہتر بنایا۔ ٹی سی ایل صارفین کی آن لائن خریداری کی بڑھتی ہوئی عادت کا مشاہدہ بھی کیا اور 2013ء میں ایمیزن کے ذریعے اسمارٹ ٹی وی مصنوعات کی فروخت شروع کی جو اس نے امریکی ادارے روکو کے ساتھ مل کر بنائی تھیں۔ نتیجتاً 2014ء میں 300,000 ٹی سی ایل روکو ٹی وی فروخت ہوئے، یوں ٹی وی سیٹ نے امریکا میں فروخت ہونے والے ٹی وی برانڈز میں ساتواں مقام پایا۔ ملٹی میڈیا کاروبار کے علاوہ ٹی سی ایل کے کمیونی کیشن کاروبار بھی امریکا میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ٹی سی ایل کمیونی کیشن 2010ء سے امریکی

مزید پڑھیں

فیملی موبائل ایپ، بونڈوِدمی، نے عالمی سطح پر آغاز کردیا

ایپ کا مرکزی خیال، میں میری زندگی، میرا خاندان ہے۔ یہ کمال ہوشیاری سے روایت کو جدت ملاتی ہے، اور گفتگو اور ذاتی ڈائریوں کو تصاویر، آواز اور وڈیو کے ساتھ ڈیجیٹائز کرنااور شجرۂ خاندان اور یادگار خاندانی لمحات کو چلتے پھرتے لکھنا ممکن بناتی ہے کوالالمپور، ملائیشیا، 24 ستمبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– خاندانوں کے لیے سوشل میڈیاایپلیکیشنز بنانے سے وابستہ اسٹارٹ-اپ بونڈوِدمی (بی ڈبلیو ایم) نے آج اسی نام کے ساتھ دنیا بھر کے لیے اپنی مرکزی ایپلیکیشن جاری کردی ہے۔ بی ڈبلیو ایم ایپ اب آپ اسٹور یا گوگل پلے پر مفت دستیاب ہے۔ مختلف خصوصیات کا انتخاب خاندان کے اراکین کو ٹیکسٹ، آڈیو اور وڈیو استعمال کرکےگپ شپ کرنا، لطف اٹھانا اور انمول لمحات کومحفوظ کرنا ممکن بناتا ہے۔ فیملی ٹری خصوصیت ایک خاندانی نظام کو ایک انٹرایکٹو خاندانی شجرےکی کئی نسلوں کو ترتیب دینے کی سہولت دیتا ہے۔ ایونٹ خصوصیت ایک رکن کو خاندانی تقریبات کی میزبانی کرنے، اراکین کو شمولیت کے لیے مدعو کرنے، جاری تقریب کی معلومات تازہ تر کرنے، الرٹس بنانے اور تقریب کے حوالے سے تخلیق کردہ مواد کو محفوظ کرنے کی سہولت دیتی ہے۔ ڈائری خصوصیت ہر رکن کے لیے نجی طور پر یا منتخب اراکین کے ساتھ شیئرکرتے ہوئےخصوصی لمحات ڈجیٹائز کرنا ، اور پیغامات بشمول تصاویر محفوظ کرنا ممکن بناتی ہے۔ بونڈ و دمی کے بانی اور سی ایاو جو چنگ نے کہا کہ “ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں کے پاس آپس میں رابطے کے لیے مختلف ایپسموجود ہیں اور وہ کسی تقریب کو بنانے، گپ شپ کرنے، ڈائری بنانے یا ایسے ہی کام کرنے کے لیے چند ایپس پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ بونڈودمیایپ کے ساتھ ہم نے ایک یکجا پلیٹ فارم تیار کردیا ہے تاکہ روزمرہ جھلکیوں کو ڈائری کی شکل دی جائے، اہل خانہ کے ساتھ جڑا جائے اور قریبی دوستوں یا دفتری ساتھیوں کو اضافہ شدہ خاندانی اکائی کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔ ہم ہر خاندان کے اراکین کو کسی بھی لمحے اور کہیں بھی ‘میں، میری زندگی، میرا خاندان’ لمحات گزارنے میں مدد دیتی ہے اور تاکہ ذاتی اور خاندانی تاریخ روزانہ کی بنیاد پر یکجا ہو اور ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجائے۔” “آج صرف آغاز ہے۔ ہم تعلیم، صحت، مالیات، تفریح اور ای-کامرس سمیت کسی بھی خاندان کے لیے اہم ترین معاملات میں خاندانی اکائی کو شامل کرنے کے لیے بونڈ و دمی ایپ کی بنیاد پر ایک یکجا پلیٹ فارم کی تعمیر جاری رکھیں گے۔ تو ایپڈاؤنلوڈکیجیے، ہمارے ساتھ آئیے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ لطف اٹھائیے۔” بونڈوِ دمی کے بارےمیں 2014ء میں سی ایاوجو چنگ کی جانب سے قائم کردہ بونڈوِ دمیکا تصور انسانوں کی سادہ واحد ضرورت سے آیا تھا، جو ہے خاندانی تعلقات کو قائم رکھنے کی ضرورت چاہے ہم جہاں بھی ہوں اور جو بھی کام کرتے ہوں۔ ملائیشیا میں پیدا ہونے والے چنگ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کے رشتہ دار دنیا بھر میں ہیں۔ جب وہ جامعہ میں تھے تو چنگ نے پایا کہ ٹیلی فون اور ڈاک پر بھروسہ رکھتے ہوئے خاندان کے اراکین کے ساتھ رابطہ مشکل ہے۔ آج کے

مزید پڑھیں

لوئی چی وو انعام کی رونمائی عالمی تہذیب کی ترقی میں نئے باب کا آغاز

60 ملین ہانگ کانگ ڈالرز (تقریباً 7.75 ملین امریکی ڈالرز) کی مالیت کا بین الاقوامی انعام ان کامیابیوں کے اعزاز میں ہوگا جو دنیاکو ایک بہتر اور زیادہ تحفظ پذیر مقام بنا رہی ہیں ہانگ کانگ، 24 ستمبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– لوئی چی وو انعام – انعام برائے عالمی تہذیب (‘انعام’ یا ‘لوئی چی وو انعام’) نے آج دنیا بھر سے انعام کے لیے نامزدگیاں جمع کرانے کا اعلان کرکے اپنے باضابطہ اجراء کا جشن منایا۔ سالانہ انعام اپنی نوعیت کا اولین ہے جو تحفظ پذیر مستقبل، انسانی خوشحالی میں بہتری اور مثبت توانائی کی ترویج کے ملاپ کے لیے مطالبہ کرتا ہے۔ ملٹی میڈیا خبری اعلامیہ دیکھنے کے لیے کلک کیجیے: http://www.prnasia.com/mnr/lcw_201509.shtml Dr. LUI Che Woo (centre) and guests toast to the launch of The LUI Che Woo Prize. Video – http://static.prnasia.com/pro/media/201509/lcw/lcw.mp4 Photo – http://photos.prnasia.com/prnh/20150925/8521506189-a Photo – http://photos.prnasia.com/prnh/20150925/8521506189-b Photo – http://photos.prnasia.com/prnh/20150925/8521506189-c Photo – http://photos.prnasia.com/prnh/20150925/8521506189-d تقریباً 500 کاروباری رہنما، تعلیمی شخصیات، مذہبی رہنما، 20 سے زیادہ قونصل جنرل، ساتھ ساتھ مقامی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھی تقریب کے لیے ہانگ کانگ میں جمع ہوئے۔ مہمانوں میں ہانگ کانگ کے وزیر برائے مالیاتی خدمات و خزانہ جناب کے سی چان؛ ہانگ کانگ کی مرکزی عوامی حکومت میں ڈپٹی ڈائریکٹر برائے لایژن آفس محترمہ چیو ہونگ؛ ہانگ کانگ میں کمشن کے دفتر برائے وزارت امور خارجہ کے ڈپٹی کمشنر جناب سونگ روان اور ہانگ کانگ کے سیکرٹری برائے تعلیم جناب ایڈی اینگ ہاک-کم شامل تھے۔ اپنی کوششوں سے معروف کاروباری منتظم بننے والے ڈاکٹر لوئی چی وو کی جانب سے تشکیل دیا گیا یہ انعام اچھے کام اور معاشرے کی بھلائی کے لیے تاحیات مشن میں اہم قدم کی علامت ہے۔ لوئی چی وو انعام ایسے غیر معمولی شخصیات اور اداروں کی جانب سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو تسلیم اور تعظیم دے گا۔ انعام کے ہر زمرے میں جیتنے والے 2016ء کی دوسری ششماہی میں کو 20 ملین ہانگ کانگ ڈالرز (تقریباً 2.56 ملین امریکی ڈالرز) کا نقد انعام، ایک سند اور ایک ٹرافی دی جائے گی۔ سالانہ تین انعامات دیے جائیں گی، جن میں کل 60 ملین ہانگ کانگ ڈالرز (تقریباً 7.75 ملین امریکی ڈالرز) جیتنے والوں کو نوازے جائیں گے۔ بورڈ آف گورنرز مع پرائز کونسل کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر لوئی چی وو نے کہا کہ “میں لوئی چی وو انعام – انعام برائے عالمی تہذیب کو دنیا کے لیے تحفے کی حیثیت سے پیش کرنے کے لیے بہت زیادہ خوش ہوں۔ انعام جدت طرازی اور سائنسی کامیابیوں، ساتھ ساتھ عالمی تہذیب اور سماجی ہم آہنگی میں حصہ ڈالنے والوں کو تکریم بخشتا ہے۔ یہ انعام نسل، قومیت، جغرافیہ، ثقافت یا مذہب سے بالاتر ہوکر افراد کے لیے ہے۔ مشکل عالمی اقتصادی و سیاسی جغرافیائی ماحول میں میری خواہش لوگوں کو خوشی میسر کرنا اور ایسے حالات تخلیق کرنا ہے جہاں اچھائی، خوبصورت اور امن و امان پھلے پھولے۔ میں یہ کام انعام جاری کرکے کررہا ہوں جو اقدار کو قبول کرتا اور ان کو ترویج دیتا ہے۔” لوئی چی وو انعام کثیر الشعبہ جاتی اور تین انعامی زمروں پر مشتمل ہے۔ ہر انعامی زمرے میں خصوصی مرکزی

مزید پڑھیں

اقوام متحدہ کے اجلاس میں عالمی تعلیم پر نئے کمیشن کے لیے رہنماؤں کی تقرری

نیو یارک، 22 ستمبر 2015ء/ پی آرنیوزوائر– بیس سے زیادہ عالمی رہنماؤں، جن میں پانچ سابق صدور اور وزرائے اعظم اور تین نوبیل انعام یافتہ شامل ہیں، کو دنیا بھر میں تعلیم میں سرمایہ کاری میں کمی کا رخ تبدیل کرنے کے لیے نئے بین الاقوامی کمیشن برائے عالمی تعلیم مواقع میں سرمایہ کاری میں مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت ناروے اور وزیراعظم ارنا سولبرگ کی مدد کا حامل کمیشن عالمی تعلیم کے مستقبل کا جائزہ لے گا جس میں اس وقت 124 ملین نوعمر افراد اسکول سے باہر ہیں۔ انفرادی شخصیات کے اس متنوع گروپ کا انتخاب ایک اہم وقت پر کیا گیا ہے جہاں پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ بچے اسکولسے باہر ہیں اور بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی نے لاکھوں بچوں کو کمرہ جماعت سے نکال کر مہاجر بنا دیا ہے جن کے لیے تعلیم کی کوئی امید نہیں۔ کمیشن تلاش کرے گا کہ کس طرح آئندہ 15 سے 20 سالوں میں تعلیم بہتر اقتصادی نمو، بہتر صحت نتائج اور بہتر عالمی امن و امان کی جانب رہنمائی کرسکتی ہے۔ کمیشن کو وزیراعظم ناروے کے ساتھ چلی کی صدر مشیل بیچیلیٹ، صدر انڈونیشیا جوکو وڈوڈو ، صدر ملاوی پیٹر متھاریکا اور یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ارینا بوکوا نے مشترکہ طور پرمنعقد کیا۔ عالمی تعلیم پر اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر گورڈن براؤن کو کمیشن کا چیئر مقرر کیا گیا۔ وزيراعظم سولبرگ نے کہاکہ “غربت کے خلاف جدوجہد میں تعلیم کلید ہے، اور میرا ماننا ہے کہ ترقی میں واحد سب سےطاقتور سرمایہ کاری لڑکیوں کی تعلیم ہے۔ جب آپ لڑکی کو تعلیم دیتے ہیں تو آپ ایک قوم کو علم سے منور کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کمیشن 2030ء اور اس سے آگے ترقی کے لیے تعلیم کے حصول کی خاطر درکار وسائل کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔” کمیشن مندرجہ ذیل رہنماؤں پر مشتمل ہے: • آننت اگروال، سی ای او، ای ڈی ایکس • ہوسے مینوئل باروسو، سابق صدر، یورپی کمیشن • فلپ کالدیرون، سابق صدر، میکسیکو • کرسٹن کلیمٹ، مینیجنگ ڈائریکٹر کیویٹا • الیکو ڈینگوٹ، سی ای او، ڈینگوٹ گروپ • جولیا جیلارڈ، چیئر، عالمی شراکت داری برائے تعلیم اور سابق وزیراعظم آسٹریلیا • بیلا رضا جمیل، ڈائریکٹر پروگرامز برائے ادارۂ تعلیم و آگہی • لی جو-ہو، سابق کوریائی وزیر تعلیم • جم کم، صدر، عالمی بینک گروپ • اینتھنی لیک، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، یونی سیف • جیک ما، بانی و ایگزیکٹو چیئرمین، علی بابا گروپ • گریکا میچل، بانی، گریکا میچل ٹرسٹ • اسٹرائیو ماسی ییوا، سی ای او، ایکونیٹ وائرلیس • ٹیوپسٹا بیرونگي میانجا، بانی، یوگینڈا نیشنل ٹیچرز یونین • اینگوزی اوکونجو-اویئلا، سابق وزیر خزانہ، نائیجیریا • کیلاش ستھیارتھی، بانی، بچپن بچاؤ اندولن • امرتا سین، پروفیسر، ہارورڈ یونیورسٹی • تھیو سووا، سی ای او، افریقن ویمنز ڈیولپمنٹ فنڈ • لارنس سمرز، صدر امریطس، ہارورڈ یونیورسٹی؛ 71 ویں وزیر خزانہ برائے صدر کلنٹن اور ڈائریکٹر قومی اقتصادی کونسل برائے صدر اوباما • ہیلی تھورننگ-شمٹ، سابق وزیراعظم ڈنمارک متحدہ عرب امارات کی وزیر برائے بین الاقوامی تعاون و ترقی شیخہ لبنیٰ القاسمی کمیشن کے افتتاحی اجلاس میں شامل ہوں گی۔

مزید پڑھیں

پاکستان کا ادائیگی کو ڈیجیٹائز کرکے معیشت میں لاکھوں افراد کو شامل کرنے کا منصوبہ

حکومت پاکستان نے اجتماعی اقتصادی نمو اور زیادہ موثر مارکیٹ ڈھانچہ تخلیق کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے بیٹر دین کیش الائنس میں شمولیت اختیار کرلی نیو یارک، 22 ستمبر 2015 — حکومت پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں قائم بیٹر دین کیش الائنس میں شمولیت اختیار کرکے زیادہ ڈيجیٹل معیشت کی جانب اپنے سفر کو جاری رکھے گا۔ یہ پاکستان کے لاکھوں شہریوں کی بہتر مالیاتی شمولیت اور اس کی معیشت کی اجتماعی نمو کے لیے راستہ ہموار کررہی ہے۔ Government of Pakistan۔ تصویر: – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150922/269306 پاکستان کا اعلان عین اس وقت آیا ہے جب اگلے ہفتے عالمی رہنما اقوام متحدہ میں نئے تحفظ پذیر ترقیاتی اہداف کرنے والے ہیں، جو وسیع اقتصادی نمو اور انفرادی مالیاتی اختیار کے حصول میں ڈيجیٹل مالیاتی خدمات کے کردار پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے ڈيجیٹل مالیاتی خدمات سے مکمل طور پر آشنا ہے، جو غریب افراد کو مستقبل کو محفوظ بنانے میں مدد ، ان کے اہل خانہ کو صحت اور بچوں کو تعلیم ، یا کاروبار میں سرمایہ کاری فراہم کرسکتی ہے۔ 2015ء میں پاکستان میں باضابطہ مالیاتی رسائی 23 فیصد ہے اور بینک کی سہولیات رکھنے والی بالغ آبادی بڑھتے ہوئے 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ بیٹر دین کیش الائنس میں شمولیت کے ساتھ حکومت پاکستان مالیاتی شمولیت کو بڑھانے کے لیے نئی ٹیکنالوجیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واضح مثبت اقدام اٹھا رہی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ “ڈیجیٹل ادائیگی ایک اہم اور عملی قدم ہے جو شہریوں کے لیے ہمارے مالیاتی شمولیت اہداف کو آگے بڑھانے اور حاصل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ تحفظ پذیر اقتصادی نمو کے لیے ہمارا وژن تمام شہریوں کو شفاف اور باعزت مالیاتی خدمات تک رسائی دینا ہے۔ یہ پاکستان میں ہر شخص کے لیے کاروبار کرنے اور اقتصادی طور پر خودمختار بننے کے مواقع تخلیق کرے گی۔” مئی 2015ء میں اسحاق ڈار نے پاکستان نے بینک دولت پاکستان (ایس بی پی) اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی شراکت داری سے پہلی قومی مالیاتی شمولیت حکمت عملی (این ایف آئی ایس) جاری کی جو پاکستان میں آفاقی مالیاتی شمولیت کے لیے قومی وژن فراہم کررہی ہے۔ Better Than Cash Alliance www.betterthancash.org. بہتر ڈیجیٹل ادائیگی نظام حکومت کو نقد کی جانب میلان رکھنے والے ملک میں ادائیگی اور تقسیم کاری کےسماجی فوائد میں اپنی رکاوٹوں پر قابو پانے میں بھی مدد دے گا۔ نقد ادائیگی دستی ریکارڈ ترتیب، حفاظت اور نقل و حمل سے منسلک اہم اخراجات رکھتی ہے۔ دنیا کے دیگر حصوں میں حکومتی ادائیگی کا ڈیجیٹائز ہونا کئی فوائد اور اخراجات میں کمی لایا ہے۔ مثال کے طور پر حکومت میکسیکو نے ادائیگی کے نظام کو ڈیجیٹل اور مرکزی حیثیت دے دی ہے، جس سے تنخواہوں، پنشن اور سوشل ویلفیئر کی تقسیم پر اخراجات میں تقریباً 1.27 ارب امریکی ڈالرز کی کمی آئی ہے۔ پاکستان اپنے موجودہ سوشل ویلفیئر منصوبوں کو ڈیجیٹائزڈ ادائیگی نظام کے تحت لانا چاہ رہا ہے اور آنے والے اہم سماجی شعبے کے پروگراموں کے لیے ڈیجیٹل

مزید پڑھیں

گی ہوایونگ، چیئرمین چائنا یونین پے: آسان ادائیگی خدمات سیاحتی صنعت کی ترقی اور اسے تبدیل کردینے میں مدد دے گی

شنگھائی، چین، 21 ستمبر 2015ء/سن ہوا-ایشیانیٹ — تیزی سے ابھرتے ہوئے بینک کارڈ نیٹ ورک کی حیثیت سے یونین پے مقامی اور سمندر پار سیاحتی صنعت کے ساتھ شراکت داری کے لیے بین الشعبہ جاتی تعاون کو مضبوط کرنا جاری رکھے گا، اور یوں سیاحوں کے لیے اپنی ادائیگی خدمات کو مزید بہتر بنائے گا۔ اپنے ہدف “جہاں چینی سیاح جائیں وہاں دستیابی” کے ادراک کے بعد یونین پے عالمی صارفین کے لیے خدمات پیش کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ وہ جہاں بھی جائیں یونین پے کارڈز استعمال کرسکیں۔ یونین پے کارڈز کی اس نئی تحریک کی رونمائی چیئرمین چائنا یونین پے گی ہوایونگ نے کولمبیا میں یو این ڈبلیو ٹی او کی 21 ویں جنرل اسمبلی میں کی تھی۔ یونین پے کارڈز 150 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں، جو 26 ملین تاجروں اور 1.9 ملین اے ٹی ایمز کا احاطہ کررہے ہیں۔ بیرون ملک جاری کیے گئے یونین پے کارڈز کی تعداد 46 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی صارفین سفر کے دوران یونین پے کی پیش کردہ سہولت اور ترجیحی ادائیگی خدمات کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ جیسا کہ چیئرمین نے اشارہ کیا، جدید ادائیگی جیسا کہ موبائل ادائیگی سیاحتی صنعت کی ترقی کے لیے مزید جگہ تخلیق کر سکتےی ہے۔ اس وقت زیادہ سے زیادہ افراد سیاح اور یونین پے کارڈ یافتہ دونوں ہیں۔ اس لیے کئی غیر ملکی تاجر یونین پے قبول کو اہم اور سیاحوں کی توجہ مبذول کرانے کے لیے بنیادی خدمت سمجھتے ہیں۔ سیاحتی صنعت کی ترقی میں یونین پے کی مستقبل میں حصہ داری کے حوالے سے چیئرمین گی ہوایونگ نے تین اقدامات کی نشاندہی کی۔ پہلے سمندر پار کارڈ اجراء میں تیزی سے اضافے کے ساتھ یونین پے عالمی صارفین کو اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنے سے وابستہ ہے اور اپنے ہدف “جہاں عالمی صارفین جہاں وہاں دستیابی” کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کرے۔ دوسرا، یونین پے سیاحتی صنعت میں اپنی جدید مصنوعات کے نفاذ کو تیزتر کرے۔ آن لائن ریزرویشن، یونین پے کوئیک پاس، موبائل ادائیگی اور دیگر ابھرتے ہوئے ادائیگی ذرائع سے یونین پے تبدیل ہوتے سیاحتی انداز سے ابھرنے والے ادائیگی کے گوناگوں مطالبات پورے کرے گا۔ تیسرا، مقامی اور سمندر پار سیاحتی صنعتوں کے ساتھ بین الشعبہ جاتی تعاون کو بھی مزید بڑھایا جائے گا۔ ادائیگی خدمات میں بہتری کے علاوہ یونین پے مستند تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون کرے گا تاکہ یونین پے کارڈ یافتگان کے اعدادوشمار کا جائزہ لے کر سیاحوں کے اخراجات پر مشترکہ رپورٹ جاری کی جا سکے، یوں سیاحتی رحجانات کی پیمائش کی جا سکے۔ چین سے جانے والے سیاحوں کی تعداد 2014ء میں 107 ملین تک جا پہنچی جو سال بہ سال 19.5 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ کل تعداد کے حوالے سے چین مسلسل تین سالوں سے سیاحوں کا دنیا کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ توقع ہے کہ چین سے جانے والے اور چین آنے والے سیاحوں کی تعداد 2015ء میں بالترتیب 100 ملین سے تجاوز کر

مزید پڑھیں