اسلام آباد (پی پی آئی)مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر امیر مقام نے کہا ہے کہ ’جنوری میں الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ پہاڑی علاقوں میں برف باری کی وجہ سے انتخابی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ مارچ کے فورا بعد انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔‘پی پی آئی کے مطابق لیگی رہنما نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے رہنما پہلے شرطیں لگایا کرتے تھے کہ میاں صاحب واپس نہیں آئیں گے، اب وہی لوگ نواز شریف کی واپسی کا سن کر ڈیل کا الزام لگارہے ہیں۔ ’پرویز خٹک اور محمود خان دونوں سابق وزرائے اعلٰی رہ چکے ہیں مگر صوبے میں آپ ان کی کارکردگی دیکھ لیں تو آپ کو کچھ نظر نہیں آئے گا، امیر مقام نے مزید کہا کہ ’مسلم لیگ ن کا کسی سے اتحاد کرنے کا فیصلہ قبل ازوقت ہے کیونکہ قائد محمد نواز شریف کے واپسی کے بعد اس پر مشاورت ہوگی۔ متعدد سیاسی رہنما ہماری پارٹی میں شمولیت کے منتظر ہیں ’میاں محمد نواز شریف نے جن رہنماؤں کو سب سے زیادہ نوازا انہوں نے پارٹی کو بدلے میں کیا دیا، یہ سوال ان سے ہونا چاہیے؟ جو لوگ آج پارٹی سے گلے شکوے کر رہے ہیں انہوں نے مشکل حالات میں خود کو پارٹی سے الگ کیا اب ایسے لوگوں کو کیوں اہمیت دی جائے۔‘
ملک کسی بھی قسم کی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا: ایم کیو ایم ذونل انچارج نوید شمسی
لیاری یونیورسٹی میں 133طلبا کو اسکالر شپس دی جائیں گی: وائس چانسلر
شماریات سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی ممد معاون ثابت ہو گا: شماریاتی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب
سندھ ہائی کورٹ نے سی آئی ڈی اہلکاروںکے ناقا بل ضمانت وارنٹ جا ری کر دیے
مسلم لیگ (ف) کے رہنما کو ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتار نہ کیاجائے: سندھ ہائی کورٹ
بھارت سے زرعی تجارت بند کی جائے ،میر پور خاص کے کسانوں کا مطالبہ
تازہ ترین خبریں
اشتہار
تازہ ترین
مراد سعید کا چیف جسٹس کے نام خط، اہلخانہ کو ہراساں کرنے کا نوٹس لینے کی استدعا
اسلام آباد(پی پی آئی)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے چیف جسٹس پاکستان سے جعلی مقدمات کی آڑ میں اہلخانہ کو ہراساں کرنے کا فوری نوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئے خط لکھا ہے۔چیف جسٹس کے نام خط میں مراد سعید نے لکھا کہ اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کی خاطر سابق چیف جسٹس عمرعطا بندیال اور صدر مملکت کو بھی متعدد خطوط ارسال کیے جنہیں بدقسمتی سے نظر انداز کر دیا گیا۔خط کے متن کے مطابق مراد سعید نے لکھا کہ وہ ریاستِ پاکستان کا ایک ذمہ داراور قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہونے کے ساتھ سابق وفاقی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں لیکن اپریل 2022 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے ان کے خلاف جعلی اور بے بنیاد ایف آئی آرز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہے، جن میں دہشت گردی اور غداری جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔خط میں پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی لکھا کہ پولیس کی جانب سے میرے اہلخانہ کو تضحیک اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا اور گھر کا فرنیچر اور دیگر قیمتی اشیا توڑ دی گئیں، میری اہلیہ اور رشتہ داروں کو بغیر کسی مقدمے کے بلاجواز انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے چیف جسٹس کو لکھا کہ 9 مئی کے بعد سے پارٹی کے دیگر قائدین کی طرح ان پر بھی بغیر کسی ثبوت کے انتشار اور جلاو گھیراومیں ملوث ہونے کے جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ وہ عدالت عظمیٰ کے روبرو جان کو لاحق خطرات اور قتل کے منصوبے کے خدشات کا برملا اظہار کر چکے ہیں۔
سابق وزیر اور عمران خان کاقریبی ساتھی کامران بنگش گرفتار
پشاور (پی پی آئی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر برائے تعلیم خیبر پختونخوا کامران بنگش کو گرفتار کر لیا گیا۔ پی پی آئی کے مطابق کے پی کے پولیس نے پی ٹی آئی رہنما کو چمکنی میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا، دوسری جانب پولیس نے کامران بنگش کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کردیا،کامران بنگش کے خلاف 9 اور 10 مئی واقعات سے متعلق اور کرپشن الزامات کے تحت اینٹی کرپشن نے مختلف مقدمات درج کر رکھے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے مظلوم فلسطینی عوام کیلئے امداد کی پہلی کھیپ مصر پہنچ گئی
قاہرہ/ اسلام آباد (پی پی آئی)پاکستان کی جانب سے مظلوم فلسطینی عوام کیلئے امداد کی پہلی کھیپ مصر پہنچ گئی، امدادی سامان میں 1 ہزار خیمے،4 ہزار کمبل اور 3 ٹن ادویات شامل ہیں۔پی پی آئی کے مطابق پاکستان کی جانب سے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کیلئے بھیجی گئی امدادی کھیپ مصر پہنچ گئی، امدادی کھیپ پاک فوج اور این ڈی ایم اے کی کاوش سے بھیجی گئی۔امداد ی طیارے نے لعریش ائیرپورٹ پر لینڈ کیا،جہاں مصر میں پاکستان کے سفیر ساجد بلال نے امداد مصری ہلال احمر کے حوالے کی۔العریش ائیرپورٹ غزہ کی سرحدسے 40کلومیٹرفاصلے پرہے، پی پی آئی کے مطابق مصری ہلال احمرپاکستان کی طرف سے بھیجی گئی اشیاغزہ تک پہنچائے گی۔پاک فوج کی جانب سے خیموں، کمبل اورادویات پر مشتمل 81 ٹن امدادی بھجوائی گئی ہے، امداد میں 1 ہزار خیمے،4 ہزار کمبل اور 3 ٹن ادویات شامل ہیں۔
تلاش کریں
خبریں

ملک کسی بھی قسم کی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا: ایم کیو ایم ذونل انچارج نوید شمسی
حیدر آباد: ظلم و نا انصافی کسی بھی معاشرے میں بغاوت کو جنم دیتی ہے اور بغاوت کسی بھی ریاست کی تقسیم کا باعث بنتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ حیدرآباد کے زونل انچارج نوید شمسی واراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ۔انھوں نے مزید کہا کہ ہمارا ملک اب کسی بھی تقسیم کا متحمل نہیں ہوسکتا اور جو عناصر ملک میں اپنے اقتدار اور مفاد کےلئے مظلوم و محکوم عوام کو اس کے جائز حق سے محروم رکھے ہوئے ہیں وہ ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ الطاف حسین کی جدوجہد ملک میں مظلوم و محکوم عوام کو ان کے جائز حقوق فراہم کرنا ہے اور الطاف حسین کے نظریہ پر گامزن ہوکر ہی ہم اپنے ملک کو متحد ومستحکم بنا سکتے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ ہم اپنے وطن میں جنم لینے والی نفرتوں کا خاتمہ صرف اور صرف عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام سے ہی کرسکتے ہیں اور اپنے ملک کو امن و خوشحالی کا گہوارہ بناسکتے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ ارباب اختیار کو ملک اور قوم کی بقاءاور خوشحالی کے لیے اقتدار اور مفاد سے بالاتر ہوکر فیصلے کرنے ہونگے تب ہی ہمارا ملک ترقی یافتہ ،خوشحال اور مستحکم بن سکتا ہے ۔

لیاری یونیورسٹی میں 133طلبا کو اسکالر شپس دی جائیں گی: وائس چانسلر
کراچی: بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر ڈاکٹر رشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے ذہین اور محنتی طالب علموں کی حوصلہ افزائی کے لئے یونیورسٹی نے وظیفہ اور میرٹ اسکالر شپ پروگرام کا تین برس قبل آغاز کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ 3 برسوں سے ہر سمسٹر کے آخر میں ہونہار طالب علموں کو فی سمسٹر 8 ہزار روپے دیئے جاتے ہیں اور اس عرصہ کے دوران ایسے 138 طالب علموں کو وظیفہ دیا گیا ہے جن کی حاضری 80 فی صد تھی اور وہ تمام مضامین میں پاس تھے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کی زکواہ وعشر کمیٹی کے تعاون سے 133 مستحق طالب علموں کو میرٹ اسکالر شپس کے لئے منتخب کیا گیا ہے اور جلد ہی انھیں چیک دیئے جائیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی ہر حال میں اپنے ہونہار اور ذہین طالب علموں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی تاکہ وہ مالی مسائل سے بے فکر ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں ۔

شماریات سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی ممد معاون ثابت ہو گا: شماریاتی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب
کراچی: شماریات ایک ایسا مضمون ہے جس کو سائنس اور دیگر مضامین میں ایک انفرادیت حاصل ہے۔ گذشتہ کئی سالوں میں دنیا بھر میںشماریات کی اہمیت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس مضمون کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، شعبے طب میں شماریات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ شماریات نہ صرف قومی تعمیر میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ شماریات نہ صرف تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی بلکہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی بہتری میں بھی ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے، پاکستان میں طلباو طالبات کو شماریات سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار ماہرین اورمقررین نے ڈاﺅ یونیورسٹی میں تین روزہ شماریاتی سائنسز پر بین الاقوامی ای ایس او ایس ایس کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔ کانفرنس کا انعقاد ڈاﺅ یونیورسٹی نے اسلامی ممالک کی سوسائٹی آف شماریاتی سائنسز (ائی ایس او ایس ایس) ، ہائر ایجوکیشن کمیشن، ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی، فیڈرل اردو یونیورسٹی اور پاکستان سائنس فاﺅنڈیشن کے باہمی اشتراک سے کیا ۔کانفرنس میں150سے زائد قومی اور بین الاقوامی ماہرین اور مقررین نے تحقیقاتی مقالے پیش کیے ۔ نیپال، ملائیشیا، چین، قطر اور دیگر مختلف ممالک سے مقررین ڈاﺅ یونیورسٹی کے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر شمارتی سائنسز پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ہمددرد فاﺅڈیشن کی سربراہ سادیہ راشد، ائی ایس او ایس ایس کے سربراہ پروفیسر منیر احمد، ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سرفراز حسین، فیڈرل اردو یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر فہیم الدین، کراچی یونیورسٹی کی پروفیسر غزالہ رضوان،ڈاﺅ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان، پرووائس چانسلر پروفیسر عمر فاروق ، ریسریچ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر نذید خان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر ماہرین اور مقررین نے ملک کی پالیسی سازی کیلئے قابل شماریات حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے مزید کہاکہ شعبے طب میں شماریات کو بہت اہمیت حاصل ہے، دنیا کے ترقی پزیر ممالک میں طلباو طالبات کو شماریات کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے۔ آج کل شماریات کو تعلیم و تحقیق کے میدان میں استعمال کیا جارہا ہے۔اس موقع پر انھوں نے ڈاﺅ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمد ضان اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔اس موقع پر نیپال، ملائیشیا، چین، قطر اور دیگر مختلف ممالک سے آئے مقررین نے شمارتی سائنس پر مقالے پیش کیے۔

سندھ ہائی کورٹ نے سی آئی ڈی اہلکاروںکے ناقا بل ضمانت وارنٹ جا ری کر دیے
کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے قوم پرست کارکنوں کو سی آئی ڈی کی جانب سے بلاجواز گرفتار کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سی آئی ڈی کے دو اہلکار انسپکٹر راجہ خالد اور سب انسپکٹر شوکت کو نوٹس کی تعمیل نہ کرنے پر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔جئے سندھ محاز کے ممتاز بروہی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آصف سومرو اور عبدالرحیم اور محمد ہارون کو 23 مئی دو 2013کو سی آئی ڈی کے سادہ لباس اہلکاروں نے گرفتار کرکے حبس بے جا میں رکھا جبکہ مکان سے ٹی وی ،سی ڈی پلیئر ،لائسنس یافتہ اسلحہ اور دیگر سامان بھی ہمراہ لے گئے جو کہ واپس نہیں کیا گیا ،اس درخواست پر عدالت نے متعدد متعلقہ افسران کو بارہا نوٹس جاری کیے تاہم تعمیل نہ کیے جانے پر عدالت نے مذکورہ افسران کے 31 مارچ تک کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور ایس ایس پی سی آئی ڈی کو ان افسران کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کیے۔

مسلم لیگ (ف) کے رہنما کو ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتار نہ کیاجائے: سندھ ہائی کورٹ
کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ف) کے رہنما خادم حسین کو ہراسان اور ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ سندھ ہائی کورٹ میں مسلم لیگ (ف) کے رہنما خادم حسین نے درخواست دائر کی تھی کہ ان کے سیاسی حریف منظور وسان کی ایما پر ان کو پولیس تنگ کررہی ہے ،اور ان کے خلاف مقدمات دائر کیے جارہے ہیں ،پولیس کو اس عمل سے روکا جائے اور ایماندار افسر مقرر کرکے تحقیقات کرائی جائیں ،اس درخواست پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ عدالت میں پیش ہوے ،انھوں نے عدالت کو بتایا کہ خادم حسین کے خلاف مقدمات درست ہیں اور ان کی تحقیقات کی جاررہی ہیں ،جس پر عدالت نے حکم دیا کہ جو تفتیش کی جارہی ہے وہ جاری رکھیں لیکن ان کو ہراساں نہ کیا جائے اور نہ ہی ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتار کیا جائے۔

بھارت سے زرعی تجارت بند کی جائے ،میر پور خاص کے کسانوں کا مطالبہ
میرپورخاص: پاکستان کسان اتحاد کی جانب سے سبزی منڈی چوک پر کسانوں کا ایک جلسہ عام منعقد کیا گیا،جس کا مقصد پاک بھارت زرعی تجارت بند کرنا تھا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے گھرام بلوچ ،محمد ارشاد ،عبدالقادر ،محمد حنیف اور دیگر نے کہا کہ بھارت سے زرعی تجارت کے باعث پاکستان کے کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے ،کیونکہ پاکستان کی زراعت ایک مہنگی تجارت ہے اور زراعت ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے ،انھوں نے کہا کہ ہم زراعت سے اپنا70 فیصد معاش سے حاصل کرتے ہیں ،انھوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت سے زرعی تجارت بند کی جائے کیونکہ پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے ،31 مارچ کو لاہور میں واہگہ باڈر پر احتجاج کیا جائے گا ۔