کراچی(پی پی آئی) غیر قانونی طور پر مقیم اتارکین وطن کیخلاف آپریشن میں 8دن رہ گئے،سرکاری اداروں نے کراچی میں غیرقانونی طورپر مقیم غیرملکی باشندوں کی فہرستیں تیار کر لی ہیں۔پی پی آئی کے مطابق ڈی پورٹ کرنے کے انتظامات ہنگامی بنیادوں پر مکمل کئے جا رہے ہیں۔ اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں 4 لاکھ جبکہ غیرسرکاری سروے کے مطابق سندھ بھر میں 10 لاکھ سے زائد افغان تارکین وطن موجود ہیں۔
اولمپک کمیٹی کا ریو گیمز2016کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار
حکومت یونانی اور ہربل ادویات پر قانون سازی کررہی ہے: سینیٹر عبدالحسیب خان
آسٹریلیا نیشنل کرکٹ سینٹر ، سری رام چندرا یونیورسٹی مشکوک بولنگ ایکشن کے ٹیسٹ سینٹر
اوسلو 2022سرمئی اولمپک کی میزبانی سے دست بردار
منظور شدہ مطالبات کے نوٹیفیکیشن جلد حاصل کئے جائیں:نیازحسین بھٹو
بگ آن ٹیلی کام نے بلیک فون کے ساتھ تقسیم کاری کا بڑا معاہدہ کرلیا
تازہ ترین خبریں
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ
(June 11, 2026)
پاکستان کے پہلے رومانوی ہیرو سنتوش کمار کی میراث کا جشن
(June 11, 2026)
پاسپورٹ کی گھر کی دہلیز تک فراہمی کے منصوبے پر نمایاں پیش رفت
(June 10, 2026)
- April 25, 2026
- April 23, 2026
- April 22, 2026
- April 07, 2026
اشتہار
تازہ ترین
سکردو میں پانی کی شدید قلت، حکومتی چشم پوشی سے مقامی باشندے نالاں
اسکردو(پی پی آئی)اسکردو میں پانی کی شدید قلت ہے اورحکومتی چشم پوشی سے مقامی باشندے نالاں ہیں، شہریوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلیے چندہ اکٹھا کرنا شروع کیا اور 1 ارب روپے جمع کر لیے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق ا سکردو شہر کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اس کے حل کے لیے شہریوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی مدد آپ کے تحت اس مسئلے کا حل نکالا جائے اور فنڈز اکٹھے کر کے منصوبے پر کام شروع کروا دیا۔
لاہور ہائیکورٹ میں عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد
لاہور(پی پی آئی) لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کے لیے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔پی پی آئی کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے شہری محمد شہباز سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی، شہری کی جانب سے درخواست میں وفاقی حکومت، پیمرا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ بھارت سمیت دیگر ممالک میں عدالتی کارروائی براہ راست نشر کی جاتی ہے، عدالتی کارروائی کی آڈیو اور ویڈیوز کی ریکارڈنگ کی جانی چاہیے۔ شہری کی جانب سے استدعا کی گئی کہ چھوٹے شہروں سے ویڈیو لنک پر وکلا کو ہائیکورٹ پیش ہونے کی اجازت دی جائے،عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے درخواست گزار کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ اس قسم کا حکم جاری کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتی۔
چیئرمین سینیٹ کا غزہ کی صورتحال پر رواں ہفتے اجلاس بلانے کا فیصلہ
اسلام آباد (پی پی آئی) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے رواں ہفتے سینیٹ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، اجلاس میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اوراسرائیلی مظالم کی مذمت کی جائے گی۔ پی پی آئی کے مطابق قائد ایوان اسحاق ڈار اور سینیٹر منظور کاکڑ کی درخواست پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے غزہ کی صورتحال پر رواں ہفتے اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، اجلاس میں غزہ کی تازہ صورتحال اور پاکستانی موقف و کردار پر بھی بحث ہوگی۔ قائد ایوان اسحاق ڈار اور سینیٹر منظور کاکڑ نے چیئرمین سینیٹ کو درخواست کی تھی اور سینیٹ میں موجود دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اجلاس بلانے کی حمایت کی تھی۔ قائد ایوان سینیٹراسحاق ڈار، بی اے پی،پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی ویگر جماعتوں نے بھی ریکوزیشن پر دستخط کیے ہیں۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو فلسطین کی صورتحال پر اجلاس بلانے کے لیے خط لکھا تھا۔
تلاش کریں
خبریں

اولمپک کمیٹی کا ریو گیمز2016کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار
(October 2, 2014)
ریو ڈی جینرو:انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی نے ریو اولمپک گیمز2016کے لیے برزایل کی تیاریوں پر اطمنان کا اظہار کیا ہے۔انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے عہدیداروں نے ریو اولمپک سینٹر کا تین روزہ تفصیلی دورہ کیاجس کے بعد تیاریوں پر اطمنان کا اظہارکیا۔اولمپک کمیٹی کے کورڈینیشن کمیشن کے چیف نوال المتوکل نے کہا کہ ریو سینٹر کی تیاریاں تسلی بخش ہیں اور اس میں پچھلے سال مارچ میں ہمارے دورے کے بعد بہت ترقی ہوئی ہے،انھوں نے کہا ہمیں اطمنا ن ہے کہ برازیلی حکام سخت شیڈول کے باوجود کامیابی سے گیمز کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔المتوکل نے کہا کہ رواں برس جون اور جولائی میں برازیل کے 12مختلف شہروں میں فٹ بال ورلڈ کپ کے کامیاب انعقاد کے بعد اولمپک کمیٹی گیمز کے حوالے سے مطمئن ہے۔

حکومت یونانی اور ہربل ادویات پر قانون سازی کررہی ہے: سینیٹر عبدالحسیب خان
(October 2, 2014)
کراچی:سینیٹرعبد الحسیب خان نے کہا ہے کہ حکومت یونانی اور ہربل ادویات پر قانون سازی کر رہی ہے اس سلسلے میں تیارکننددگان سے ادویات کی فہرستیں طلب کر لی ہیں ، قانون بننے کے بعد میڈیکیٹڈ صابن ، شیمپو اور بے بی ملک تک رجسٹرڈ ہونگے ۔ وہ کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کے سیکریٹری عامر لطیف ، سیکریٹری ہیلتھ کمیٹی حامد الرحمن ، طفیل احمد ، اخترشاہین رند سمیت گورننگ باڈی کے اراکین بھی موجود تھے ۔ قبل ازیں سینیٹر عبد الحسیب خان نے کراچی پریس کلب کی گورننگ باڈی سے ملاقات کی اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران اور سیکریٹری عامر لطیف سمیت دیگر اراکین بھی موجود تھے۔سینیٹر عبد الحسیب خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک میں ایلوپیتھک کے علاوہ شعبہ طب کے دوسرے طریقہ علاج کو بھی ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے ۔اس سلسلے میں بل پیش کر دیا گیا ہے جو کسی بھی وقت قومی اسمبلی میں حکومت منظوری کے لیے پیش کر دے گی ۔جس کے بعد میڈیکیٹڈ صابن ، شیمپو اور بے بی ملک سمیت دیگر اشیاءرجسٹرڈ ہوں گی ۔تیاررکنندگان سے ان کی ادویات کی فہرستیں طلب کر لی گئی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثرغلط ہے کہ پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں ادویات زیادہ مہنگی ہیں ۔ درحقیقت بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں 75فیصد ادویات سستی اور محض 25 فیصد ادویات مہنگی ہیں ۔ اس کے باوجود کہ بھارت 98فیصد خام مال خود تیار کرتا ہے اور بھارت میں بجلی اورمزدوری بھی سستی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان تیس ملکوں کو ادویات برآمد کرتا ہے ، پاکستان میں 15ہزار سے زائد ادویات رجسٹرڈ ہیں ۔ پاکستان کی سالانہ ادویات کی برآمدات 800ملین ڈالر ہے جو 2018تک بڑھ کر 2ہزار ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی ۔پاکستان ادویات بنانے کے لیے 98فیصد خام مال درآمد کرتا ہے، 15فیصد درآمدی ڈیوٹی ختم کر دی جائےں تو ادویات سستی ہو جائیں گی ۔ عبد الحسیب خان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کے پاس آگیا ہے اور اب کچھ کام شروع ہو رہا ہے ، جعلی اور نقلی ادویات کے قانون پر اگر عملدرآمد کر لیا جائے تو ملک میں صحت کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے ۔جعلی اور نقلی ادویات کا قانون سخت ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے ،عوام بھی اس پر خاموش ہیں ۔

آسٹریلیا نیشنل کرکٹ سینٹر ، سری رام چندرا یونیورسٹی مشکوک بولنگ ایکشن کے ٹیسٹ سینٹر
(October 2, 2014)
بیجنگ:انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے آسٹریلیاکے برسبین نیشنل کرکٹ سینٹر اور بھارت میں چنائی کی سری رام چندرا یونیورسٹی کو مشکوک بولنگ ایکشن کے ٹیسٹ سینٹر کے الحاقی حقوق دے دیے۔آئی سی سی کے مطابق متعلقہ سیٹروں میںموجود کئی طریقوں کو پرکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ جس میں بولر اپنی پوری استعداد سے بولنگ کرنے کے لیے درکار جگہ ،یتنوں اطراف سے جائزہ لینے اور ڈیٹا حاصل کرنے کے حامل12کیمروں کی تنصیب اور مناسب علم رکھنے والی انتظامیہ بھی شامل ہے۔آئی سی سی کے جنرل منیجر کرکٹ جیف الاردیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان سنٹروں کا اجازت نامہ دینے سے بڑے کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کے معاملات میں سہولت ہوگی جبکہ کھلاڑیوں کے بولنگ ایکشن کی جانچ بھی ہوتی رہے گی۔ دونوں سینٹر کھلاڑیوں کے ٹٰیسٹ نتائج کے اجرا اورآئی سی سی کے مروجہ قوانین کے مطابق مشکوک ایکشن کی تصدیق کے لیے کارڈف کی میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے منسلک ہوں گے۔

اوسلو 2022سرمئی اولمپک کی میزبانی سے دست بردار
(October 2, 2014)
بیجنگ:ناروےجن شہر اوسلو 2022سرمئی اولمپک گیمز کی میزبانی سے دست بردار ہوگیا۔ناروے کی حکومت کی جانب سے مالی معاونت سے انکار پر اوسلو میں شہر سرمئی اولمپک گیمز کی میزبانی سے دست بردار ہوگیا۔ناروے کی اس فیصلے کے بعد چین کا شہر بیجنگ اور قازکستان کا شہر الماتے کے درمیان میزبانی کا مقابلہ ہوگا۔اوسلو چوتھا شہر ہے جو اخراجات کے باعث سرمئی گیمز کی میزبانی سے دست بردار ہواہے ، واضح رہے 2014سوچی سرمئی اولمپک میں 51بلین ڈالر کے اخراجات آئے تھے جس کے بعد سویڈن کا اسٹاک ہام،پولینڈ کا کراکواور یوکرین کا شہر لیویو نیلامی سے دست بردار ہوگئے تھے۔ناروے کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ 5.4بلین ڈالر سے زائد مالی اخراجات برداشت نہیں کئے جاسکتے ہیں۔انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے اپنے پیغام میں ناروے کے نیلامی سے دستبر داری کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔آئی او سی کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر کاناروے کے فیصلے پر کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ملک اور شہر دونوں نے ایک موقع ضائع کردیا، انھوں نے کہا کہ ناروے اسپانسر شپ کی مد میں حاصل ہونے والی 880ملین ڈالر کی رقم بھی ضائع کردی ہے جبکہ اولمپک کمیٹی ٹی وی نشریات سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی میزبان ملک کو فراہن کرے گی۔انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی 31جولائی 2015کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں میزبان شہرکا تعین کرے گی۔

منظور شدہ مطالبات کے نوٹیفیکیشن جلد حاصل کئے جائیں:نیازحسین بھٹو
(October 2, 2014)
کراچی: پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی مرکزی کمیٹی کا اجلاس مرکزی صدر نیاز حسین بھٹو کی صدارت میں ہوا۔ مرکزی صدر نے اعلان کیا کہ پیرا میڈیکل ملازمین کے مطالبات کے لیے جاری کوششوں کو تیز کرکے سروس اسٹرکچر ،ہیلتھ الاﺅنس،ہارڈ ورک الاﺅنس، کیجوئلٹی الاﺅنس اور ملازمین کے بچوں کیلئے حالیہ نوکریوں میں سن کوٹہ دلوانے اور دیگر منظور شدہ مطالبات کے جلد ازجلد نوٹیفکیشن حاصل کیئے جائیں گے۔ مرکزی صدر نے پیرا میڈیکل ملازمین کو سفری دشواریوں اور بھاری اخراجات سے بچانے کے لیے اعلان کیا کہ آئندہ کسی بھی ضلع میں مرکزی کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا جائے گااور 29 نومبر کو شیڈول کے مطابق شکارپور میں ہونے والے مرکزی کمیٹی کا اجلاس منسوخ کیا جارہا ہے ۔مرکزی صدر نے نے فیصلہ کیا ہے کہ اب تمام اجلاس کراچی اور حیدرآباد میں ایسوسی ایشن کے دفاتر میں ہونگے اور ان اجلاسوں کے تمام انتظامات مرکز خود کرے گا۔نیاز حسین بھٹو نے کہا کہ ہر دو ماہ کے بعد ضلعی عہدیداراں دور دراز کے اضلاع سے اجلاس میں شرکت کیلئے ہزاروں روپیہ اجلاس کے باعث خرچ کرنے پڑتے ہیں اس لیئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب تمام اجلاس کراچی یا حیدرآباد میں منعقد ہونگے۔مرکزی صدر نے کہا کہ عید کے بعد سانگھڑ ،میر پور خاص ٹنڈوالہ یار اور مٹیاری کے تمام بی ایچ یوزاور اڑ ایچ سیز اور ضلعی ہیڈ کواٹرز ہسپتالوں کا تفصیلی دورہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے ۔ ان اضلاع کے پیرامیڈیکل ملازمین سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کریں ینگے اور ان اضلاع کے عہدیداروں کی کارکردگی کا مشاہدہ کرینگے۔ اجلاس میں مرکزی عہدیداران میں کے علاوہ تمام اضلاع و ڈسٹرکٹ و ڈویژنوں اور یونٹس کے صدر اور جنرل سیکرٹیریز وسینئر ممبران تشریف فرما تھے۔مرکزی صدر نیاز حسین بھٹو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا سابقہ سیکرٹیری صحت انعام اللہ دھاریجو صاحب نے کمال مہربانی کرتے ہوئے پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے کے پیش کردہ 20 مطالبات میں سے 17 مطالبات منظور کرتے ہوئے منٹس آف میٹنگ جاری فرمادیئے ہیںاور اب جبکہ موجودہ ہیلتھ سیکرٹیری اقبال حسین درانی صاحب نے بھی ہمارے مطالبات کی منظوری دے دی ہے۔

بگ آن ٹیلی کام نے بلیک فون کے ساتھ تقسیم کاری کا بڑا معاہدہ کرلیا
(October 1, 2014)
جنیوا، یکم اکتوبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — بلیک فون نے آج اعلان کیا کہ اس نے بگ آن ٹیلی کام (بگ آن گروپ کا ادارہ جس کا صدر دفتر دبئی میں ہے) کے ساتھ اہم تقسیم کار معاہدہ پر دستخط کردیے ہیں اور یوں برانڈ کی توجہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے خطوں تک بڑھا دی ہے۔ لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20140115/PH46617LOGO معاہدہ – جو بلیک فون کی تاریخ میں تازہ ترین بڑا معاہدہ ہے- برانڈ کی ترقی میں ایک اہم قدم کی علامت ہے، کیونکہ بگ آن ٹیلی کام پورے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ ٹیسٹنگ اور لانچ کے مذاکرات شروع کرچکا ہے۔ ٹوبی ویئر-جونز، سی ای او ایس جی پی ٹیکنالوجیز نے کہا کہ “ہم نے مشرق وسطیٰ و افریقہ خطے میں ایسی ڈیوائسز اور سروسز کی بڑی طلب دیکھی ہے جو پرائیویسی کو باقی تمام معاملات پر ترجیح دیتے ہیں، اور یہی وہ چیز ہے جو بلیک فون فراہم کرسکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں بلیک فون لانے کے لیے بگ آن ٹیلی کام سے بہتر کوئی شراکت دار نہیں ہوسکتا، اور ہماری نظریں خطے کے ممالک میں اس کے باضابطہ اجراء پر مرکوز ہیں۔” بگ آن ٹیلی کام کے چیئرمین اور سی ای او رمزی عبد المجیدنے کہا کہ “ہیکنگ اسکینڈلز کے اس دور میں بلیک فون لوگوں کے پرائیویسی پر گرفت کھو بیٹھنےکے بنیادی مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہی نجی اور محفوظ حیثیت سے تیار کیا گیا ہے۔ ڈیوائس میں نصب خصوصیات صارف کو کنٹرول دینے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں کہ وہ کس معلومات کو دوسروں سے شیئر کرنا اور کون سی معلومات کو خفیہ رکھنا چاہتا ہے، یوں وہ صارف کو ذہنی سکون فراہم کرتی ہے۔” عبد المجید نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ “ہم مشرق وسطیٰ و افریقہ کے خطے کے آپریٹرز کو بہت جلد یہ یونٹ بھیجنے کا منصوبہ رکھتے ہیں کیونکہ ہم مختلف ممالک میں باضابطہ اجراء کے لیے کام کررہے ہیں۔ عالمی بلیک فون نظام کا اہم حصہ بننے پر بہت خوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بلیک فونک کی دستیابی موبائل صنعت کے دھارے کو پلٹانے والا مرحلہ ہوگی – جس کا حصہ بننے پر ہمیں فخر ہے۔” اس عہد میں جب عام ڈیوائسز اور ایپس صارف کی ذاتی اور حساس معلومات کے بدلے میں خصوصیات پیش کرتی ہیں، بلیک فون – دنیا کا پہلا اسمارٹ فون جو صارف کی پرائیویسی کو بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے – صارف کی نجی حیثیت کو مقدم رکھتا ہے۔ جو افراد اپنی نجی معلومات پر گرفت رکھنا چاہتے ہیں– جیسا کہ عوامی شخصیات، معروف شخصیات، حکومتی عہدیداران، ایگزیکٹوز- بلیک فون اور اس کا بہتر سیکورٹی کا آپریٹنگ سسٹم، پرائیوٹ او ایس، جو اینڈرائيڈ ٹ م کٹ کیٹ پر بنا ہوا ہے ، انہیں بغیر مفاہمت کے حفاظت اور سیکورٹی معاملات پر گرفت دیتا ہے۔ بلیک فون کی دستیابی، خصوصیات اور تکنیکی تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات کے لیے https://www.blackphone.chملاحظہ کیجیے یا ٹوئٹر پر @Blackphone_chکو فالو کیجیے۔ بگ آن ٹیلی کام لمیٹڈ کے بارے میں دبئی، متحدہ عرب امارات میں صدر

