گورنر سندھ کا ایم کیو ایم پاکستان کے دھڑوں کو ایک کرنے کے مشن

کرا چی(پی پی آ ئی)گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ایم کیو ایم پاکستان کے دھڑوں کو ایک کرنے کے مشن کا آغاز کر دیا ہے۔گورنر سندھ نے سربراہ پی ایس پی مصطفیٰ کمال سے اہم ملاقات کی جس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہم لوگ کراچی والوں کے دل سے اتر چکے ہیں، ہمیں دوبارہ ان کے دل میں اترنا ہے، میں صرف گزارش کر سکتا ہوں لیکن زبردستی نہیں کر سکتا، انہوں نے کہا میں جوڑنے کے لیے آیا ہوں توڑنے کیلئے نہیں، ہمیں اب آگے بڑھنا ہے، پیچھے نہیں دیکھنا۔انہوں نے اپیل کی ہے کہ کراچی اور اس کے شہریوں کے وسیع تر مفاد میں تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھیں، اگر ہم آپس میں الجھتے رہے تو یہ شہر کا نقصان ہے، یہی درخواست مصطفیٰ کمال کے سامنے رکھی تھی وہ میرے پاس آئے تھے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی ہیں اور رہیں گے، اْن پر سب کا اعتماد ہے، گورنر سندھ نے مزید کہا کہ سب ایک دوسرے پر تنقید کے بجائے اس شہر کے کارکن بن جائیں۔پی ایس پی دفتر پہنچنے پر گورنر سندھ کا پرتپاک استقبال بھی کیا گیا، ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں چئیرمین پی ایس پی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ لوگ مشکل میں ہیں، اچھی خبر سننا چاہتے ہیں، کوئی ایک گروہ اکیلے مسائل کو حل نہیں کر سکتا، تھوڑی سی توجہ دیں تو کراچی کو مسائل سے نکالا جا سکتا ہے، قومی اور عوامی مفاد کیلئے سب کو مل کر ساتھ چلنا ہو گا۔انہوں نے پیپلز پارٹی کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے خلاف کوئی محاذ نہیں بنانے جا رہے ہماری باتوں کو منفی نہ لیں۔ایم کیوایم کے سابق رہنما فاروق ستار نے بھی خالد مقبول کی قیادت میں کام کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا اور کہا کہ خالد مقبول کی کنوینرشپ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ ہی ایم کیو ایم سے الگ رہ کر کوئی جماعت تشکیل دی، ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کو ایک ہونا چاہئے لیکن حتمی وقت نہیں بتا سکتا، انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کی قیادت کے حوالے سے گورنر نے مجھ سے گفتگو نہیں کی۔

Next Post

پی بی سی کی درآمدی ایندھن کا استعمال کم، ہفتے میں 3 دن گھر سے کام کی تجویز

Fri Dec 30 , 2022
کراچی(پی پی آئی) پاکستان بزنس کونسل نے فوری طور پر درآمدی ایندھن کا استعمال کم کرنے اور ہفتے میں 3 روز گھر سے کام کرنے کی تجویز دے دی۔پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو فوری درآمدی ایندھن کا استعمال کم کرنا […]