کراچی لیاری میں رہائشی عمارت کا چھجہ گیا ، جانی نقصان نہیں ہوا

یورو، پاؤنڈ، ین کی شرح تبادلہ میں معمولی اضافہ جب کہ امریکی ڈالر مستحکم

ملک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 24 ہزار 536 روپے کا ہوگیا

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی چاند کا عالمی دن منایا گیا

پیپلز پارٹی لاہور کا ہفتہ کو مینارِ پاکستان پر پاور شو ہوگا ،تیاریاں زوروں پر

اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد مثبت اختتام، انڈیکس 124 پوائنٹس اضافے سے بند

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کراچی واٹر بورڈ فوج کے حوالے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، وزیر بلدیات سندھ

بورڈ کو فوج کے حوالے کردینا چاہیے، لوگ پانی کی منصفانہ تقسیم چاہتے ہیں:خرم شیر زمان

کراچی(پی پی آئی)سندھ اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) حکومتِ سندھ کے انتظامی کنٹرول میں ہے اور اسے فوج کے حوالے کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وقفہ سوالات کے دوران اراکین اسمبلی کے تحریری اور زبانی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے اس بات کی تردید کی کہ پانی کا انتظامی ادارہ فوج کے انتظامی کنٹرول میں دیا جارہا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے رہنما خرم شیر زمان نے وزیر سے پوچھا تھا کہ کیا کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) کو فوج کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔خرم شیر زمان کا خیال تھا کہ کے ڈبلیو ایس بی کو فوج کے حوالے کردینا چاہیے کیونکہ لوگ پانی کی منصفانہ تقسیم چاہتے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی صرف اپنے کارکنوں میں پانی کے ٹینکر تقسیم کر رہی ہے۔تاہم وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ خرم شیر زمان کی درخواست پر ان کے حلقے میں بھی پانی کے ٹینکر دیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت شہر کی آبادی ڈھائی کروڑ ہے اور ان کی ضروریات کے لیے یومیہ ایک ارب گیلن پانی درکار ہے جبکہ ہم روزانہ 48 کروڑ 50 گیلن پانی فراہم کررہے ہیں۔وزیر بلدیات نے کہا کہ شہر میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں واٹر یوٹیلیٹی کا کوئی ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک نہیں ہے، اس کے علاوہ کراچی واٹر بورڈ پانی کی قلت کی وجہ سے پورے شہر کو پانی فراہم نہیں کر سکتا۔وزیر ناصر حسین شاہ نے یہ بھی بتایا کہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم پر کام کر رہی تھی، جسے کے-4 پراجیکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے اور تاخیر کی وجہ سے اس کی لاگت 25 ارب روپے سے بڑھ کر 126 ارب روپے ہو چکی ہے۔