سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے گورنر کا عہدہ چھوڑنے سے بہت پہلے پلوامہ حملے پر سوال اٹھائے تھے: ستیہ پال ملک

نئی دہلی/سری نگر(پی پی آ ئی) بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے گورنر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد 2019کے پلوامہ حملے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔کشمیر میڈیا کے مطابق ستیہ پال ملک نے راجستھان کے علاقے سیکر میں صحافیوں سے گفتگو میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حالیہ بیان میں اٹھائے گئے سوال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ یہ کہنا غلط ہے کہ انہوں نے یہ مسئلہ اس وقت اٹھایا جب وہ اقتدار سے باہر تھا۔ امیت شاہ نے کہاتھا کہ ستیہ پال ملک بی جے پی سے اپنی راہیں جدا کرنے کے بعد الزامات لگا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل اس وقت سے سوال اٹھا رہے ہیں جس دن حملہ ہوا تھا۔ ستیہ پال ملک نے جو اس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر کے گورنر تھے، حال ہی میں مودی حکومت پر انٹیلی جنس کی ناکامیوں کا الزام لگایا ہے اور یہ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے بھارتی فوجیوں کی نقل و حرکت کے لیے ہوائی جہاز دینے سے انکار کیا تھا۔ ستیہ پال ملک نے اپنے حالیہ انکشافات کے بعد سی بی آئی کی جانب سے انہیں طلب کئے جانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہاکہ تحقیقاتی ادارے کی جانب سے انکی طلبی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت پر تنقید سے نہیں کیونکہ انہیں پہلے بھی تحقیقاتی ایجنسی نے طلب کیاتھا۔ ستیہ پال ملک نے دعویٰ کیا کہ اڈانی معاملے پر وزیر اعظم مودی کی خاموشی انہیں نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم مودی کو پلوامہ واقعے پر بھی بات کرنی چاہیے۔خیال رہے کہ فروری 2019 میں مقبوضہ کشمیرکے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوجیوں کے قافلے پر حملے میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے 40 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔