شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عسکری پلازہ توڑ پھوڑ کیس میں عمر سرفراز چیمہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

لاہور(پی پی آئی) چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع عسکری پلازہ میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے کیس میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پورا ہونے پر جیل میں پیش نہ کیا جاسکا۔ انسداد دہشتگردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے مقدمے کی سماعت کی اور عمر سرفراز چیمہ کے جوڈیشل ریمانڈمیں 20 جولائی تک توسیع کا حکم دیا۔پی پی آئی کے مطابق اس موقع پر تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ عمر سرفراز چیمہ کسی اور مقدمے میں جسمانی ریمانڈ پر پولیس حراست میں ہیں لہٰذا عدالت وارنٹ پر جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کا حکم دے۔ تفتیشی افسر انسپکٹر اسلم نے عدالت کو کیس کے چالان کے متعلق آگاہ کیا۔ خیال رہے کہ سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کیخلاف مقدمہ نمبر 1271/23 تھانہ گلبرگ میں درج ہے۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں عمر سرفراز چیمہ کو جیل میں بی کلاس کی سہولت کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے رببیعہ سلطان کی درخواست پر سماعت کی جہاں اے آئی جی لیگل جیل خانہ جات ڈاکٹر قدیر اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور پنجاب حکومت اور جیل خانہ جات کی جانب سے تحریری جواب جمع کروایا گیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر سابق گورنر پنجاب ہیں، عسکری ٹاور حملہ کیس میں پولیس نے انسدادِ دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں کوٹ لکھپت جیل بھجوا دیا گیا، سابق گورنر ہونے کے باوجود درخواست گزار کے شوہر کو جیل میں بی کلاس نہیں دی گئی۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ جیل میں بی کلاس کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کو درخواست دی لیکن شنوائی نہیں ہوئی لہٰذا عدالت سابق گورنر پنجاب کو جیل میں بی کلاس کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دے۔ تمام دلائل کے بعد عدالت نے فریقین کے وکلا کا موقف سن کر فیصلہ محفوظ کرلیا۔