کراچی (پی پی آئی)ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو واپسی کے لیے دی گئی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد ان کے خلاف کارروائی شروع ہے۔اس فیصلے کے بعد جہاں افغان شہری پریشان ہیں وہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رہنے والے بنگالیوں، ایرانیوں اور برمیوں سمیت دیگر قومیتیں بھی بے یقینی کا شکار ہیں، پی پی آئی کے مطابق کئی دہائیوں سے بڑی تعداد میں بنگالی،ایرانی، برمی اور افغان شہری کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ نیٹی جیٹی پل سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر محمدی کالونی عرف مچھر کالونی کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔اس علاقے میں آج بھی مشرقی پاکستان کی جھلک نظر آتی ہے، یہاں کی دکانیں، کاروبار، پکوان، کپڑے اور خاص کر مچھلی کی مختلف اقسام اور اسے فروخت کرنے کا منفرد انداز پورے شہر میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتا۔اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں افغان باشندوں کے بعد سب سے زیادہ بنگالی آباد ہیں۔بنگالیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ’پاکستان میں 20 لاکھ سے زائد بنگالی رہتے ہیں۔ بنگالیاور برمی ایک جیسے رہن سہن کی وجہ سے اِن کی پہچان بھی تقریباً ایک جیسی ہی ہو گئی ہے۔