کراچی (پی پی آئی)پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی معاشی پالیسیاں ایسی بنائی جائیں جن سے روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکیں۔ یکے بعد دیگرے آنے والی جمہوری اور آمرانہ حکومتوں نے غریب عوام کی اکثریت کو نظر انداز کرتے ہوئے اشرافیہ کے ذاتی مفادات کا خیال رکھا ہے۔ ہمارا ٹیکس کا نظام جاگیرداروں، تجارت اور صنعت کے ٹائیکونز کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہے۔ محنت کش طبقے کے لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے زیادہ ٹیکس وصول کرنے پر نظر رکھی جاتی ہے۔ اس بھیڑچال کو تبدیل کیے بغیرقومی ترقی اور خوشحالی کا حصول ناممکن ہے۔ ملک کے صنعتی اور زرعی شعبوں میں لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے لیکن حکومت صرف امپورٹ مافیا کے مفادات کو بچا رہی ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود اشیائے خوردونوش درآمد کرنا پڑ رہی ہیں۔ایک طرف نئے ڈیم اور نہریں بنانا اور دوسری طرف ڈرپ ایریگیشن جیسی پانی کی بچت کی ٹیکنالوجی استعمال کر کے ہماری وسیع بنجر اور نیم بنجر زمینوں کو کاشت کر کے پاکستان کو اناج پیدا کرنے میں خودکفیل بنایا جائے۔ پاکستان کی بنجر زمینیں سونے کی کانیں ہیں لیکن ان پر مناسب توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ صرف چند سالوں میں دیہی غربت کا خاتمہ کر سکتی ہیں۔پاسبان اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ ناکام تعلیمی نظام بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔نوجوانوں کو طویل رسمی ڈگری پروگرامرز کی نہیں بلکہ مختصر تکنیکی ملازمت پر مبنی ڈپلومہ پروگراموں کی ضرورت ہے جو ڈگریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ ڈاکٹروں کو پانچ سالہ تعلیم اور تربیت دینے کے بجائے میڈیسن اور سرجری میں ایک ایک سال کے پانچ ڈپلومہ پروگرام بنائے جائیں۔ تمام پانچ ڈپلومے مکمل کرنے والے امیدوار کو ایم بی بی ایس کی ڈگری سے نوازا جا سکتا ہے، لیکن جو صرف چند ڈپلومے پاس کرتے ہیں وہ نرسوں، پیرامیڈیکس اور طبی تکنیکی ماہرین کی بڑی افرادی قوت بن سکتے ہیں۔ انجینئرنگ، لیگل، اکاؤنٹنگ، مینجمنٹ اور دیگر شعبوں کی تعلیم و تربیت میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جائے۔ تعلیم اور تربیت میں جدید طریقوں پر عمل کیا جائے۔ تمام تعلیمی ڈپلومہ یا ڈگری پروگرامرز کے لیے سٹارٹ اپس (startups) کو لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ طالب علم صرف تنخواہ والے کام پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے کاروبار بنانے پر توجہ دے سکیں۔ شہری مراکز آمدن کے انجن اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے ہیں۔معاشی حب کراچی ہی صوبہ سندھ میں بے روزگاری کو ختم کر سکتا ہے اگر اس کے شہری انفراسٹرکچر کو ترقی دی جائے اور اس کے ارد گرد مزید صنعتی علاقے، کریک بندرگاہیں، سڑکیں اور ریل نیٹ ورک تیار کیے جائیں۔ مجوزہ کراچی حیدرآباد صنعتی راہداری اور کراچی کیٹی بندر صنعتی راہداری پورے خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے اور اضافی ملازمتیں پیدا کرسکتی ہے۔کراچی میں مسافروں کا مربوط نیٹ ورک بشمول کراچی سرکلر ریلوے اور بس ریپڈ سسٹم میگا سٹی کا چہرہ بدل سکتے ہیں،جس کی مدد سے کراچی کو جدید اور قابل رہائش شہری مرکز بنا یا جا سکتا ہے۔
Next Post
وزیرداخلہ کا دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کے پختہ عزم کااعادہ
Mon Dec 11 , 2023
اسلام آباد (پی پی آئی)نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔آج(پیر) پولیس لائن اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اِس بات پر زور دیاکہ ہمیں دہشت گردی کے خلاف اجتماعی طور پر […]
