خاتون رکن اسمبلی کی تضحیک کرنے والوں کی اسمبلی اور پارٹی رکنیت معطل کی جائے، احتجاجی مظاہرہ میں مطالبہ

کراچی (پی پی آئی) خیبر پختون خواہ اسمبلی اور لاہور میں خواتین کی تذلیل اور ھراسگی کے واقعات ثابت کر رہے ہیں کہ سماج مکمل طور پر عورت دشمن رویوں کی گرفت میں ہے اور ریاست ان جنونی عناصر کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ سماج کی نجات اور ترقی عورت کی آزادی اور اسے برابر کا انسان تسلیم کرنے ہی میں پنہاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف سماجی سیاسی، انسانی حقوق اور مزدور تنظیموں کے نمائندوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ میں کیا۔ یہ مظاہرہ کے پی کے اسمبلی میں خاتون رکن کے خلاف شرم ناک سلوک اور لاہور میں عورت کو اس کے لباس کی بنا پر ھراساں کرنے واقعہ کے خلاف ھوم بیسڈ وومن ورکر فیڈریشن، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان اور دیگر تنظیموں نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ مظاہرہ کی قیادت کامریڈ زہرہ خان کر رہی تھیں۔ مظاہرے کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختون خواہ اسمبلی میں ن لیگی رکن اسمبلی ثوبیہ شاہد کے خلاف تضحیک اور انسانیت سے گرے ہوئے فحش کلمات کے مرتکب اراکین اسمبلی کی نہ صرف رکنیت سے ختم کی جائے بل کہ ان کی پارٹی رکنیت بھی ختم کی جائے ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ اس گھناونے عمل میں پی ٹی آئی بحیثیت تنظیم برابر کی ذمہ دار ہے۔ لاہور کی مارکیٹ میں ایک نہتی عورت پر مذہبی جنونی عناصر کا حملہ اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ ریاستی پالیسیوں اور مذہبی جنونیت کی پشت پناہی نے عورت کے لیے گھٹن زدہ ماحول بنا دیا گیا۔ وہ کام کی جگہوں اور پبلک مقامات پر محفوظ نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی اور بے بسی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسانیت سوز واقعہ میں ملوث افراد کی نشان دہی کے باوجود انہیں ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا حل آنکہ پنجاب میں ایک عورت وزیراعلٰی کا منصب سنبھالے ہوئے ہے۔ مظاہرہ سے خطاب کرنے والوں میں ناصر منصور،  مہناز رحمان، انیتا پنجوانی، سیمہامہہشوری،  عاقب حسین، سارا خان، فائزہ صدیقی، احسن محمود ایڈووکیٹ، نورالدین ایڈووکیٹ، اقبال ابڑو اور سائرہ فیروز کھوڑو شامل تھے۔

Latest from Blog