پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مودی حکومت کا مقبوضہ کشمیر کی تقسیم کے بعد نام کی تبدیلی پر غورشروع

سری نگر4جنوری(پی پی آئی) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے وادی جموں کشمیر کا صدیوں پرانا نام بدلنے  کی کوشش پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے   بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ مودی حکومت کی کشمیر دشمنی میں شدت  آرہی ہے، ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کے بعد وادی کانام بدلناگہرا وارہے۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے واضح کیا کہ امیت شاہ نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی کتاب” جموں کشمیر اینڈ لداخ تھرو دی ایجز” میں لکھا ہے کہ جموں کشمیر کا نیانام مہارشی کشیپ ہو سکتا ہے جو ایک بھارتی ہندو تھا۔ موجودہ نام پانچ ہزار سال قبل کے پریمی جوڑے کشپ اور میر ن سے منسوب ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ  پانچ اگست 2019کو مودی نے جموں کشمیر اور لداخ کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور اب تاریخی نام بدلنے کوشش تیز کر دی ہے جے کے ایل ایف اس پر عمل درآمد نہیں ہونے دے گا دریں اثناریاست جموں کشمیر کی حریت پسند جماعتوں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ،لیبریشن ڈیموکریٹک پارٹی، محاذ آزادی، اسلامک سٹوڈنٹس لیگ،حریت کانفرنس،پیپلز لیگ سمیت بھارت نواز کشمیری سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس،نیشنل عوامی کانفرنس،نیشنل کانگریس،آزاد نیشنل کانگریس،پیپلز کانفرنس،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی نئے نام کو مسترد کرتے بھارت سرکارپرواضع کیا کہ جموں کشمیر کے تاریخی نام کو بدلنے نہیں دیا جائے گا