سیکورٹی ڈیپازٹ کی شرح میں اضافے کے تجویز نیپرا معطل کرے:کراچی چیمبر

کراچی10فروری (پی پی آئی)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)  پر زور دیا ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی طرف سے سیکورٹی ڈیپازٹ کی شرح میں اضافے کی تجویز کو اس وقت تک معطل کیا جائے جب تک کہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مطلوبہ معلومات شفاف طریقے سے شیئر نہ کی جائیں نیز ایک جامع اور معنی خیز مشاورتی عمل کا آغازکیا جائے تاکہ اس ضمن میں کوئی بھی فیصلہ صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کی مالی مجبوریوں کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔ کے سی سی آئی کے صدر محمد جاوید بلوانی نے رجسٹرار نیپرا کو بھیجے گئے خط میں کہا کہ تاجر برادری، ٹریڈ باڈیز اور صارفین نے مختلف سابقہ واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے سیکورٹی ڈیپازٹ کی شرحوں میں اضافے کی درخواستوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں بجلی کے کنکشنز کے لیے سیکورٹی ڈیپازٹ کی شرح میں بہت زیادہ اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگر یہ تجاویز منظور کر لی گئیں تو اس سے ملک بھر میں صارفین، کاروباری اداروں اور صنعتوں پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈسکوز نے نیپرا سے بجلی کی کھپت، جائیداد کے سائز اور یہاں تک کہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق سیکورٹی ڈیپازٹ کی شرح میں تبدیلی کی منظوری طلب کی ہے۔اس طرح کا غیر معمولی اضافہ شفاف اور اچھی طرح سے واضح کیے بغیر صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے غیر ضروری مالی مشکلات پیدا کرے گا جو پہلے ہی بڑھتے ہوئے بجلی کے ٹیرف اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تجویز کردہ اضافہ جیسے کہ بی ٹو سیکورٹی ڈیپازٹ کو 2010 روپے فی کلوواٹ سے بڑھا کر 54,783 روپے فی کلوواٹ کرنا غیر ضروری اور مالی طور پر ناممکن ہے۔سیکیورٹی ڈیپازٹ میں اس طرح کا ناقابل برداشت اضافہ صارفین کے پاس شمسی توانائی کے ذریعے خود بجلی پیدا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا جس سے ڈسکوز گہرے بحران میں مبتلا ہوجائے گی کیونکہ ان کے صارفین تیزی سے کم ہو جائیں گے۔صدرکے سی سی آئی نے زور دیا کہ ایسی کسی بھی تبدیلی کو تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بشمول تجارتی اداروں، چیمبرز آف کامرس اور صارفین کی ایسوسی ایشنز کے ساتھ ایک وسیع مشاورتی عمل کے تحت کیا جانا چاہیے۔کاروباری اداروں اور صارفین پر مزید دباؤ ڈالنے والے کسی بھی اقدام کو نافذ کرنے سے پہلے اس کے مکمل اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ کاروباری اداروں اور صارفین پر مزید بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز اور کے الیکٹرک نے صارفین سے تقریباً چار گنا زیادہ اور اوسط مانگ کے سات گنا کے برابر سیکورٹی ڈیپازٹ جمع کیے ہیں۔انہوں نے نشاندہی کہ کے الیکٹرک نے اپنے تمام صارفین سے 13,000 میگاواٹ کو منظور کرنے کے لیے سیکورٹی ڈیپازٹ اکٹھے کیے ہیں تاہم پیک اوقات میں بھی بجلی کی زیادہ سے زیادہ مانگ صرف 3,500 میگاواٹ تک پہنچتی ہے جبکہ عام حالات میں یہ 2,200 سے 2,400 میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے۔ یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یوٹیلیٹی سروس نے ناجائز سیکورٹی ڈیپازٹ عائد کر کے عوام کا کس حد تک استحصال کیا ہے۔ ملک کے باقی حصوں میں بھی صورتحال اسی طرح ہے کیونکہ کے ای سمیت تمام ڈسکوز نے 97,800 میگاواٹ کا بڑا بوجھ سیکیورٹی ڈیپازٹ کی مد میں لے رکھا ہے جبکہ پورے ملک میں بجلی کی مانگ صرف 23,000 میگاواٹ تک ہے۔انہوں نے کہا کہ ان مالی معاملات میں وضاحت کی کمی کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں کیونکہ صارفین کے فنڈز کا غلط انتظام یا غیر معقول طور پر انہیں برقرار رکھنا کاسٹ اسٹرکچر کو مسخ کرتا ہے جس کے نتیجے میں ناجائز ٹیرف میں اضافہ اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ناکامی ہو سکتی ہے۔ایک شفاف اور عوامی سطح پر دستیاب آڈٹ صارفین کا اعتماد بڑھائے گا، ریگولیٹری تعمیل کو یقینی بنائے گا اور ایک منصفانہ پاور سیکٹر میں معاون ثابت ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

بزنس کمیونٹی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرینگے، شیخ عمر ریحان

Mon Feb 10 , 2025
کراچی10فروری (پی پی آئی)پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز (پی وی ایم اے)، وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹڑی (کاٹی)  کا تاجر و صنعتکاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے مشترکہ کاوشیں اور جدوجہد کرنے پر اتفاق، وفاق […]