کراچی میں ٹریفک کنٹرول کیلئے ایماندار اہلکاروں کی ضرورت ہے:پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

کراچی 18فروری (پی پی آئی)حادثات کی روک تھام کے لئے ٹریفک پولیس کی تربیت ناگزیرہے: الطاف شکور۔ کراچی کے ٹریفک کو موثر انداز میں کنٹرول کرنے کے لئے ایماندار ٹریفک اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ حکومت ٹریفک پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے پر توجہ دے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹریفک پولیس کو جدید آلات اور نگرانی کے کیمرے فراہم کیے جائیں۔ الطاف شکور کا کہنا تھا کہ میگا سٹی میں جہاں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات ہیں، ان مقامات کی نگرانی کے لئے کیمروں کا استعمال کیا جائے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ صورتحال کا حقیقی وقت میں جائزہ لیا جا سکے اور فوری کارروائی کی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ موٹر سائیکل سواروں کے لئے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا مفت یا کم فیس پر کیا جائے تاکہ ڈرائیونگ لائسنس کے کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔ اس وقت تقریباً 90 فیصد موٹر سائیکل سواروں کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہے۔الطاف شکور نے تجویز دی کہ ڈرائیونگ لائسنس برانچز کی تعداد بڑھائی جائے اور ہر ٹاؤن میں کم از کم ایک برانچ بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے نوجوان افسران کو دبئی یا چین بھیجا جائے تاکہ وہ جدید ٹریفک پولیسنگ کے طریقے سیکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ سینئر ٹریفک پولیس افسران کو مصروف سڑکوں کا دورہ کرنا چاہئے اور ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ الطاف شکور نے بھاری گاڑیوں کے آپریٹرز کے ڈرائیونگ لائسنس چیک کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا کیونکہ بیشتر ٹرک اور ڈمپر ڈرائیورز مناسب تربیت یافتہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ تب ممکن ہوگا جب سندھ حکومت کا محکمہ داخلہ تعلیم یافتہ، مخلص اور دیانتدار افراد کے زیر انتظام ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے سختی سے نوٹس لینے کے باوجود کراچی کی سڑکوں پر حادثات بڑھ رہے ہیں کیونکہ ٹریفک پولیس میں ٹریفک قوانین کو نافذ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کنارے موجود تجاوزات کو پولیس اور ٹریفک پولیس کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔الطاف شکور نے کہا کہ ہر سڑک کنارے کاروبار کرنے والا پولیس و ٹریفک پولیس اہلکاروں کو رشوت دیتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں سڑک کنارے ریڑھی اور پتھارے والے ہیں، جن سے پولیس رشوت وصول کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں سینکڑوں غیر قانونی بس، ٹرک اور ڈمپر اسٹینڈ یا اڈے پولیس کی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ ان غیر قانونی اڈوں کی وجہ سے ٹریفک جام اور سڑک حادثات ہوتے ہیں، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ انوائرمنٹ پروٹیکشن کے وفد کی مشیر اْمور طلباجامعہ کراچی سے ملاقات

Tue Feb 18 , 2025
کراچی 18فروری (پی پی آئی) سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ انوائرمنٹ پروٹیکشن کے ایک وفد نے جامعہ کراچی کی مشیر اْمور طلبا ڈاکٹر نوشین رضا سے ملاقات کی۔ وفد کی سربراہی سعید راجپوت کر رہے تھے اور اس میں فنانس سیکریٹری لقمان احمد، انفارمیشن سیکریٹری اْشنا شیخ، چیئرمین انوائرمنٹ ڈویژن […]