سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں، طاہر کھوکھر

مظفر آباد، 21 فروری (پی پی آئی) سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ کے بیان کے مطابق سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ طاہر کھوکھر نے کہا ہے کہ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے، ملک میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ مقامی حکومتوں کو مکمل خودمختاری دیے بغیر عوام کے بنیادی مسائل کا حل ممکن نہیں ہوسکتا۔طاہر کھوکھر نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اختیارات اور وسائل کو گراس روٹ لیول تک پہنچانے کے لیے موثر اقدامات کرے تاکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے ہی عوام کے مسائل فوری اور موثر طریقے سے حل کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں بھی اس ماڈل کو اپنانا ہوگا تاکہ ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ مقامی حکومتوں کو مالی، انتظامی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے بغیر عوام کو ان کے حقوق فراہم کرنا ایک مشکل کام ہے۔جب ایک گلی کی سڑک یا نالی بنانے کے لیے بھی عوام کو اعلیٰ حکام کے دفاتر کے چکر لگانے پڑیں، تو ایسے نظام سے عوام کی خدمت ممکن نہیں ہوسکتی۔سابق وزیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایسا نظام نافذ کیا جائے جس میں منتخب مقامی نمائندوں کو مکمل اختیارات اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام کروا سکیں ماضی میں بھی بلدیاتی نظام کو کمزور رکھا گیا جس کی وجہ سے عوامی مسائل حل نہیں ہو سکے۔ جب تک اختیارات مرکز میں محدود رہیں گے، عوام کو درپیش بنیادی مشکلات حل نہیں ہو سکیں گی۔طاہر کھوکھر نے کہا کہ اگر حکومت حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و بہبود چاہتی ہے تو اسے اختیارات کی مرکزیت ختم کرنی ہوگی۔ عوام کو تعلیم، صحت، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کو براہ راست فنڈز دیے جائیں اور ان کے فیصلے کرنے کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے۔