شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

دفعہ 370 کے خاتمہ کے باوجود وادی کے حالات میں بہتری نہیں آئی: عمر عبداللہ

راجوری جیسے حملوں سے عیاں ہوگیا کہ حالات بد سے بدتر ہیں اور سرکار پوری طرح سے ناکام
انتخابات مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا حق ہیں، جس کے لیے مودی سے بھیک نہیں مانگی جائے گی
اننت ناگ (پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیرنیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بی جے پی کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370 کے بعد کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، بلکہ اضافی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی سے حکومت کی نااہلی ثابت ہوتی ہے ۔ اننت ناگ میں این سی سینئر لیڈر پیر محمد حسین کی بہن کی وفات پر تعزیتی مجلس میں شرکت کے بعد عمر عبداللہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ دفعہ 370 کے خاتمہ کے بعد جموں و کشمیر میں حالات میں بہت بہتری آئی ہے، لیکن جس طرح کے حالات آج بنے ہوئے ہیں۔ ان سے یہی عیاں ہوتا ہے کہ 2019 کے بعد زمینی سطح پر کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہے۔ جبکہ راجوری جیسے حملوں سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ حالات بد سے بدتر ہو گئے ہیں اور سرکار پوری طرح سے ناکام ہو گئی ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ایسے میں سرکار اضافی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی اور وی ڈی سی ارکان کو ہتھیاروں کی تربیت کیلئے مجبور ہو گئی ہے کیونکہ سرکار سے حالات کو قابو کرنے کیلئے کچھ نہیں ہو پا رہا ہے۔ عمرا عبداللہ نے مزید کہا کہ انتخابات یہاں کے لوگوں کا حق ہے، جس کے لیے سرکار سے بھیک نہیں مانگی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حق کے تحت یہاں پر جمہوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جانا چاہئے، لیکن بی جے پی اپنے نجی وجوہات کی بنا پر یہاں پر انتخابات کو موخر کرا رہی ہے۔ لیکن ایسے میں اب مرکز کے سامنے انتخابات کیلئے ہاتھ نہیں پھیلائے جائیں گے اور نہ ہی بھیک مانگی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سرکار فی الوقت جموں و کشمیر میں انتخابات اس لئے نہیں چاہتی ہے، کیونکہ دوسری سرکار کسی بھی صورت یہاں کے لوگوں پر ظلم برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کو کبھی زمین کے حصول کے بہانے تنگ کیا جا رہا ہے تو کبھی ملازمین کے خلاف کارروائیوں سے ستایا جا رہا ہے۔