خیبر پختونخوا میں جنگلات کے مالکان کی جرگہ منعقد؛ وزیر اعلیٰ کے مشیر کی شرکت

جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کی ہلاکتیں؛ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس

جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد؛ کلیدی فیصلے کیے گئے

وزیر داخلہ نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم سے اہم ملاقات کی؛ قومی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال

بلوچستان ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت صنفی بنیاد پر تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل پر ‘صوبائی میڈیا فیلوشپ پروگرام’ کا آغاز

اوپن مارکیٹ میں ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں کی قدر میں معمولی اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سوشل میڈیا پر افواہیں بے بنیاد، پاکستان میں فوری زلزلے کا کوئی خدشہ نہیں

اتنی شدت کے زلزلے کا ریٹرن پیریڈ اتنا جلدنہیں آتا،ڈائریکٹر موسمیات زاہد رفیع
کراچی (پی پی آئی)محکمہ موسمیات نے سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں فوری زلزلے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ڈائریکٹر محکمہ موسمیات زاہد رفیع نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں سے سوشل میڈیا پر ترکیہ اور شام میں آئے زلزلے کا پاکستان سے غلط موازنہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ میں زلزلے کا مطلب یہ نہیں کہ اب پاکستان میں زلزلہ آسکتا ہے۔پی پی آئی کے مطابق زاہد رفیع نے بتایا کہ پاکستان میں فالٹ لائنز ہیں مگر ان کا ترکیہ کے زلزلے سے تعلق نہیں، زیادہ شدت کا زلزلہ لانے والی انرجی دوبارہ جمع ہونے میں سیکڑوں سال لگتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں 7 عشاریہ کی شدت کا زلزلہ 2005 اور 2013 میں آچکا ہے۔ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا مزید کہنا تھا کہ اتنی شدت کے زلزلے کا ریٹرن پیریڈ اتنا جلدی نہیں آتا، ترکیہ میں جہاں زلزلہ آیا وہاں ماضی قریب میں اتنا بڑا زلزلہ نہیں آیا تھا۔زاہد رفیع کے مطابق اتنی شدت کے زلزلے کیلئے انرجی جمع ہونے میں سیکڑوں سال لگے ہوں گے، ترکیہ کے زلزلے کو پاکستان سے ملانا درست نہیں۔واضح رہے کہ ترکیہ میں 6 فروری بروز پیر کو ترکیہ اور شام میں آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد کچھ حلقوں کی جانب سے یہ باتیں کہی گئی تھیں کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھی اسی شدت کا زلزلہ آئے گا۔سوشل میڈیا پر کی گئی متعدد پوسٹوں کو صارفین کی جانب سے بغیر تصدیق اور ماہرین کی رائے جاننے ری شیئر کیا گیا تھا، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔